وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم طیب اردگان

کالم نگار  |  جاوید صدیق

عمومی طور  پر یہ نعرہ پاکستان اور چین کی دوستی کے حوالے سے لگایا جاتا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ترکی میں بھی یہ نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف ترکی کی موجودہ قیادت اور ترکی کی اقتصادی ترقی اور ترک قیادت کی فکری سمت سے متاثر نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سابق دور میں بھی ترکی کے دورے کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو ترکی کے صدر عبداﷲ گل نے تمغہ جمہوریت بھی دیا ہے اور ان کی بڑی پذیرائی ہوئی ہے۔ جب جنرل پرویز  مشرف اکتوبر 1999ء میں اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے پالتو کتے اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ  جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک ان کے ہیرو ہیں جس پر پاکستان میں یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ پاکستان کے نئے فوجی سربراہ کے ہیرو اقبالؒ اور قائدؒ کی جگہ اتا ترک کیسے ہو گئے؟ جلد ہی جنرل مشرف کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
ترکی پہلی جنگ عظیم کے بعد کمال اتا ترک کے خیالات اور فکر کی گرفت میں رہا اور اسلام سے دور ہٹتا گیا۔ لیکن 2002ء میں جب ترکی میں موجودہ برسراقتدار پارٹی اے کے پی نے انتخابات کے ذریعے اقتدار سنبھالا تو اس کی قیادت نے ترکی کی فکری اور نظریاتی سمت تبدیل کر دی۔ ترکی کا اسلامی تشخص بحال ہونا شروع ہُوا اور ترکی کمال ازم کے سائے سے باہر نکلنے لگا۔ 2002ء میں جب طیب اردگان وزیراعظم بنے تو انہیں ورثے میں ایک تباہ حال معیشت ملی تھی۔ لیکن طیب اردگان نے ترکی کی معیشت کی اصلاح شروع کی۔ طیب اردگان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنے ملک کی طرف کھینچنے کے لئے کئی اقدامات کئے۔ حکومتی پابندیاں نرم کیں تو غیر ملکی سرمایہ کاری کا رخ ترکی کی طرف مڑ گیا۔ 2002ء سے 2012ء تک ترکی کی مجموعی قومی پیداوار جی ڈی پی میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ 
ترکی نے 1961ء سے لے کر 2002 تک آئی ایم ایف سے قرضوں کے درجنوں سمجھوتے کئے تھے۔ جب موجودہ حکمران جماعت نے اقتدار سنبھالا تو ترکی کے ذمہ 5ئ23 ارب ڈالر کے قرضے تھے جو وزیراعظم طیب اردگان نے کم کر کے 2012ء میں صرف 0.9 ارب ڈالر کر دئیے تھے ۔2002 میں ترکی کے زرمبادلہ کے ذخائر 26 ارب ڈالر تھے۔ طیب اردگان کی معاشی پالیسیوں کے باعث 2011 میں ترکی کے زرمبادلہ کے ذخائر 2ئ92 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ 
طیب اردگان کی حکومت نے صحت‘ تعلیم اور انفراسٹرکچر کو بھی بے پناہ ترقی دی۔ انہوں نے سیاست سے فوج کے عمل دخل کو ختم کیا اور ترکی کو جمہوریت کے راستے پر گامزن کیا۔ اس وقت ترکی اسلامی دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت سمجھا جاتا ہے اس نے اسلامی دنیا میں ایک فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ خارجہ  پالیسی کے میدان میں بھی طیب اردگان نے کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اسرائیل نواز پالیسی کو خدا حافظ کہہ کر انہوں نے اسرائیل کی خوب خبر لی۔ طیب اردگان نے سپین کے وزیراعظم سے مل کر ایک اور پیشرفت یہ کی کہ انہوں نے الائنس آف سویلائزیشن قائم کیا جس کا مقصد انتہا پسندی کے خلاف فکری محاذ پر جدوجہد کرنا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف اور ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان کے اپنے اپنے ملک کے لئے خواب اور خواہش ایک جیسی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو ترکی کے دورے سے ایک فائدہ یہ اٹھانا چاہئے کہ وہ ترکی کی موجودہ قیادت کی حکمت عملی کا جائزہ لیں اور جس طرح ترکی جسے ایک دور میں ’’مرد بیمار‘‘ کہا جاتا تھا اس کو جب مخلص‘ بیدار مغز اور محب وطن قیادت ملی تو اس نے کس طرح ترکی کی قسمت کو سنوار دیا۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم ماہرین کی ایک ٹیم بنائیں گے جو ترکی کے ماڈل کا مطالعہ کر کے انہیں سفارشات پیش کرے کہ پاکستان کو کس طرح تیز رفتاری سے ترقی دی جا سکتی ہے‘ پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسلامی دنیا میں اس کا کردار بہت اہم ہے پاکستان عالم اسلام میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم ترکی کے موجودہ دورے سے اس زاویہ سے حالات کا جائزہ لے  کر پاکستان کی ترقی کے لئے ایک حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔