واشنگٹن میں بھی ”سکندر!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

 نیویارک میں ”نائن الیون“ (11 ستمبر 2001ئ۔ کے سانحہ کی 12 ویں سالگرہ یا برسی کے 5 دن بعد۔ ایک افریقی نثراد امریکی Aoron Alexis (ایرون الیکسی) امریکہ کے دارالحکومت۔ واشنگٹن میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہوا اور اس نے فائرنگ کر کے 12 لوگوں کو ہلاک کر کے ‘ امریکیوں کو پھر سوگوار کر دیا۔ سب کچھ آناً فاناً ہوا۔ بقول ابراہیم ذوق
”ایک حسرت تو‘ برستی ہے‘ کبھی برسی کے دن“
”نائن الیون“۔ کا سانحہ بھی‘ واحد سپرپاور کے سکیورٹی نظام کے لئے چیلنج تھا اور 16 ستمبر 2013ءکو واشنگٹن میں‘ ایرون الیکسی کی جرات رندانہ بھی۔ یہ واقعی اُس کی جرات رندانہ تھی یا Alexia (دماغ کا خلل) Aaron عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں۔ ”اونچی پہاڑی“ ایرون۔ حضرت موسیٰؑ کے بھائی اور معاون حضرت ہارونؑ کا نام تھا اور Alexis Alexander کا مخفف۔ یا۔ پیار سے پکارا جانے والا نام یا عرف ہے۔ الیگزینڈرکو فارسی اور اردو میں ”سکندر“کہتے ہیں واشنگٹن میں 16 ستمبر کو ”امریکی سکندر“نے جس طرح کا تماشا کیا‘ اس سے کچھ کم حیثیت کا تماشا‘ ایک ماہ قبل 16 اگست کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے قریب جس شخص نے کیا تھا وہ پاکستانی تھا اور اس کا نام ”سکندر“ تھا۔
پاکستانی سکندر ‘ کرائے کی کار‘ اپنی بیوی اور دو بچوں کولے کر‘ دونوں ہاتھوں میں جدید ترین اسلحہ لئے۔ پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ اور وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے خاتمے کا ایجنڈہ لے کر میدان میں اترا تھا‘ لیکن ایرون الیکسی‘ صدر اوباما کی حکومت ختم کرکے‘ امریکہ میں کوئی نیا نظام نہیں لانا چاہتا تھا اس کی بیوی اور کوئی بچہ بھی اس کے ساتھ نہیں تھا‘ البتہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ‘ اس نے بھی کرائے پر کار حاصل کی تھی‘ جس طرح پاکستانی سکندر نے حاصل کی تھی۔ ایک فرق یہ کہ سکندر نے ”میدان کارزار“ میں اترنے سے پہلے‘ پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری زمرد خان‘ سے ”معاملات“ طے کرے تھے کہ ”ون ایکٹ پلے“ میں کب داخل یا نازل ہوں؟ جبکہ الیکن تو واقعی مارنے اور مرنے کے لئے امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہواتھا۔ سکندر کی طرح گیڈر بھبکی دینے کے لئے نہیں۔ اس کا فائدہ سکندر کے بجائے چودھری زمرد خان کو ہوا اور وہ الیکٹرانک میڈیا پر ‘ لاہور کی طرف منہ کر کے شیر کی طرح دہاڑے اور بولے۔ رانا ثناءالہ خان صاحب !۔ شیر کی ایک دن کی زندگی‘ گیڈر کی سو برس کی زندگی سے بہتر ہے۔“
چودھری زمرد خان۔ سکندر کو پکڑنے کی کوش میں خود گر پڑے تھے‘ لیکن انہوں نے سکندر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ سکندر نے بھی زخمی ہو کر خود کوپولیس کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا لیا۔ جان تو ہر کسی کو پیار ہوتی ہے۔ سوائے الیکسی کے۔ اس نے جو کچھ کرنا تھا۔ آناً فاناً کر دیا۔ القاعدہ یا تحریک طالبان میں شامل ہو کر خود کش حملہ آور بن جاتا تو‘ اس کے پسماندگان کو لاکھوں ڈالر مل جاتے بے شک وہ مسلمان نہیں تھا لیکن ”اہل کتاب“ میں سے تو تھا۔ سکندر یونانی (جوبہت بڑا فاتح ہونے کی وجہ سے۔ ”سکندراعظم“۔ کہلایا) ”اہل کتاب“ میں سے بھی نہیں تھا۔ قبل از اسلام۔ بت پرست تھا‘ لیکن مختلف‘ مذاہب کے لوگ سکندر کے نام پر سکندر یا الیگزینڈ رکھتے ہیں۔
سکندراعظم نے ہندوستان پر حملہ کیا تو‘ پوتھوہار سمیت صوبہ سرحد کا حکمران۔ راجا ابھی تھا۔ راجا امبھی نے سکندراعظم کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ ان دنوں۔ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیانی علاقے کا حکمران راجا پورو (راجا پورس) تھا۔ راجا پورس نے سکندراعظم کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔اس کے چاروں بیٹے قتل ہو گئے اور جب اسے زخموں سے چور سکندراعظم کے دربار میں پیش کیا گیا تو قیدی ہونے کے باوجود‘ اس کے انداز خسروانہ سے سکندر اعظم بہت متاثر ہوا۔ اس نے راجا پورس کو اس کی مملکت واپس کر دی اور اپنا دوست بنا لیا۔ مشرقی اور مغربی پنجاب کے بعض دانشور سکندراعظم کے مقابلے میں ڈٹ جانے والے راجا پورس کو مہاراجا پورس اور پنجاب کا ہیرو مانتے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے نے اپنی تالیف ”پنجاب کا مقدمہ“ میں مہاراجا پورس کو ”پنجاب کا ہیرو“ تسلیم کیا ہے۔
جناب حنیف رامے نے اپنی چیئرمین شب میں ”پاکستان مساوات پارٹی“ بنائی تو ساہیوال میں پارٹی کے جلسہ عام میں مجھے بھی ساتھ لے گئے ان دنوں رامے صاحب کی خان عبدالولی خان سے چپقلش تھی۔ جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے رامے صاحب نے ولی خان صاحب کو مخاطب ہو کر کہا ”ولی خان! جب سکندر اعظم ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا تو تم نے اس کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ لیکن ہم نے اس سے مقابلہ کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ مہاراجا پورس کو سکندر اعظم سے بڑا ہیرو مانا جاتا ہے‘ لیکن اسے ”پنجاب کا ہیرو“ قرار دینے والے پنجابیوں نے اس کے نام پر اپنے بچوں کے نام نہیں رکھے‘ البتہ ”سکندر علی‘ سکندر بخت اور سکندر حیات رکھتے ہیں متحدہ پنجاب کے ایک وزیراعظم کا نام سکندر حیات اور دوسرے کا نام خضر حیات تھا دونوں کا تعلق یونینسٹ پارٹی سے تھا۔ سردار سکندر حیات کی قبر لاہور میں علامہ اقبالؒ کے مزار کے قریب ہے‘ جہاں ان کے وارث بھی فاتحہ خوانی کے لئے نہیں جاتے۔ ہندوستان کی ملکہ نورجہاں بیگم کا مزار بھی لاہور کے نواح میں ہے۔ مزار پر لکھا ہے ”برمزارما غریباں‘ نے چراغے ‘ نے گلے‘ یعنی ہم غریبوں کی قبر پر کوئی بھی چراغ نہیں جلاتا اور نہ ہی پھول چڑھاتا ہے۔ سردار سکندر حیات ہوں یا صدر سکندر مرزا‘ بعد از مرگ سب کا یہی حال ہوتا ہے۔
حضرت خضرؑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ”آب حیات پی لیا تھا‘ اس لئے وہ تا قیامت زندہ رہیں گے۔ چنانچہ اکثر بزرگ اپنے عزیزوں کو خوش ہو کر دعا دیتے ہیں کہ ”خدا تمہیں عمر خضرؑ عطا کرے۔!“ لیکن سکندراعظم نے تو صرف 33 سال عمر پائی تھی‘ پھر لوگ اپنے بچوں کے نام ”سکندر حیات“ کیوں رکھتے ہیں بعض لوگ سکندراعظم کو ہی ”سکندر ذوالقرنین“ کہتے ہیں‘ لیکن یہ درست نہیں۔ محققین کی رائے ہے کہ قرآن پاک میں جس سکندر ذوالقرنین کا تذکرہ ہے اور جس نے وحشی یاجوج ماجوج کو روکنے کے لئے ترکستان (تاتار) اور چین کے درمیان کانسی کی دیوار ”سید سکندری“ بنوائی تھی وہ سکندر یونانی ہرگز نہیں تھا۔ ایک روایت ہے کہ ”ظلمات کے ایک چشمہ ”آب حیات“ سے پانی پی کر حضرت خضرؑ نے تا ابد عمر پائی لیکن سکندر (ذوالقرنین اس پانی سے محروم رہا۔ اس محرومی کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا غالب نے کہا۔
”کیا کیا خضرؑ نے سکندر سے
اب کسے رہنما‘ کرے کوئی؟“
یہ شعر ہر دور کے لوگوں کے لئے ”رہنما اصول“ بن گیا۔ کوئی کتنا ہی پھنے خاں سکندر ہی کیوں نہ ہو؟ ۔ اپنے اپنے دور کے خضر سے مات کھا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں کرتب دکھانے والا ”سکندر“ اور واشنگٹن میں جان گنوانے والے ایرون الیکسی‘ دونوں کی محنت اکارت گئی۔ ”مقدر کا سکندر“ کوئی بھی نہیں بن سکا۔