مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی اور آدم کا بیٹا!

سوال کیا جا رہا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی معصوم بچی کی تصویر کیوںدکھائی جاتی ہے، میںنے کالم میں اس کا نام لکھا،میرے ایڈیٹر محترم نے صرف س لکھ دیا۔
اس کا مطلب ہے کہ ہر معاشرے کی کوئی نہ کوئی اخلاقیات ہوتی ہے۔
میرا بھی ایک سوال ہے، میںنے اپنے دو دوستوں سے اس کا جواب مانگا، دونوں کا جواب ایک ہی تھا، سوال یہ ہے کہ معصوم بچی کے مسئلے پر ہمارا روایتی مذہبی طبقہ احتجاج کے لئے باہر کیوںنہیںنکلا، اعتز ازحسن روز بولتے ہیں ، انسانی حقوق کی علم بردارخواتین روز باہر نکلتی ہیں،کیا معصوم بچی کے کوئی اسلامی حقوق نہیں ہیں،مجھے میرے دوستوںنے جو جواب دیا ہے اور جوپہلے سے میرے ذہن میں بھی تھا، اسے میں اسلامی اخلاقیات کے علم برداروں کے سامنے۔۔ ان کیمرہ ۔۔میٹنگ میںہی بیان کر سکتا ہوں،میں اسے یہاںنقل کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا۔
ساحر لدھیانوی، ہاں !ساحر لدھیانوی خاک بسر پکار رہا ہے۔
 مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی، ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں۔
برطانیہ میں معصوم بچیوںکیساتھ زیادتی کے دو ایک واقعات ہوئے، خود برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سیخ پا ہو کر گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سرچ انجن اور یوٹیوب سے بچوں کے ساتھ تشدد کی فلمیں خارج کرے۔اس لئے کہ اب تک جتنے بھی مجرم پکڑے گئے، وہ ایسی فلمیں دیکھنے کے عادی تھے ۔
امریکہ کو دہشت گردی کے خناس کا سامنا ہے، وہ ساری دنیا سے لڑ بھڑ رہا ہے ، ساتھ ہی اس نے جاسوسی کا جال وسیع کردیا ہے، ہر شخص کا فون ٹیپ ہو رہا ہے، ایس ایم ایس محفوظ کئے جا رہے ہیں ، ای میلز مانیٹر ہو رہی ہیں ،نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے سپر کمپیوٹر میں یہ سارا موادریکارڈ ہو رہا ہے، اسی کا بھانڈا ڈیوڈ سنوڈن نے پھوڑا ہے مگر امریکہ نے اس کو جھٹ پٹ سزا سنا ڈالی ہے۔ جن قوموںنے مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے، وہ ہماری طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہتیں۔
جنرل نیازی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر قوم کا سینہ فگار ہے‘ جذبات بر انگیختہ ہیں‘ ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت تھی‘ امریکہ میں بحریہ کے چند ملازم ایک دیوانے کی گولیوں کا شکار ہو گئے‘ صدر اوباما نے قومی پرچم سرنگوں کر دیا۔ مگرہمارے وزیراعظم سیاحت کے لئے نکل گئے‘ پوری فیملی کے ہمراہ۔ ماضی میں ان کے حلقے میں قتل کی ایک واردات ہوئی۔ وزیراعظم نے سوگ میں اپنا جاپان کا دورہ ملتوی کر دیا تھا، پاک فوج کی جانوں کی بھی کوئی قیمت اور حرمت ہونی چاہیے تھی، طالبان نے اسی قومی رویئے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی فوج کے لئے ابھی تو سیز فائر کی شرط رکھی ہے ،ہم نے اپنی فوج سے بے حسی اور لاتعلقی کا مظاہرہ جاری رکھا تو وہ سوات، مالاکنڈ، اور فاٹامیں موجود فوج کے سرینڈر کی شرط بھی رکھ سکتے ہیں۔ میاںوالی کے ایک نیازی جرنیل نے سابقہ نیازی جرنیل کے گناہ دھو دیئے ہیں ، وہ ٹائیگر نیازی تھا جس نے ڈھاکہ میں سرینڈر کر دیا، دوسرا شیر میسور کا پیرو کار نیازی ہے جس نے جھکنے کے بجائے شہید ہونے کوترجیح دی۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
میرا قلم شہید جنرل اور زیادتی کا شکار معصوم بچی کے درمیان بھٹک رہا ہے، خیالات میں ارتکاز نہیں ہو پاتا۔کیا میں نفسیاتی مرض کا شکار ہوں۔کیا آپ اس مرض سے بچے ہوئے ہیں۔
بھارت میں چند فوجیوں کی لاشیں گئیں‘ پورے بھارت میں کہرام مچ گیا‘  پاکستان مردہ باد کے نعرے ان کی پارلیمنٹ کے اندر گونجے، ہمارے ہائی کمیشن پر حملہ ہوا‘ دوستی بس پر ڈنڈے برسے اور بی جے پی نے اگلے الیکشن کے لئے ایک انتہا پسند  نریندرمودی کو وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کر دیا۔ ہمارے جرنیل کی لاش آئی ، وزیر داخلہ کے سواہمارے کسی سیاستدان نے ان کے جنازے میں شرکت نہیں کی، کہیں غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔
بھارت میں ریپ کے سانحے بھی روز ہو رہے ہیں، گزشتہ دسمبر میں پانچ افراد نے گینگ ریپ کیا، جنوری میں ایک چھ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، وہ زخموں کی تاب نہ لاکر مر گئی ، اس کے زخموں کی تفصیل اس کی طبی رپورٹ سے دیکھئے، رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، بھارت کی سو ل سوسائٹی کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گئی، ملک میں سخت سزائوں کا قانون نہیں تھا، یہ قانون بناا ور دسمبر کے سانحے کے مجرموں کو پھانسی کی سزا ہوئی،ہم بھارت کو اخلاق باختہ کہتے ہیں، بے شرم اور بے حیا کہتے ہیں ، وہاں ایک ماںنے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو آدھی رات کے وقت کسی آشنا کے ساتھ دیکھ لوں تو دونوں کو آگ میں بھسم کر ڈالوں۔ کیا پورے شہر لاہور میں کسی نے اس شیطان صفت کو نہیں دیکھا جس نے معصوم بچی کی عزت تار تار کی۔کوئی اس کی ماں بھی ہو گی جس نے اس درندے کو جنم دینے کا گناہ کیا۔
بھارت کی تحقیق بھی یہ کہتی ہے کہ ریپ کا رجحان یو ٹیوب اور فیس بک کی وجہ سے بڑھ رہا ہے، ہمارے ہاں اہل علم اور اہل تحقیق پر جنون طاری ہے کہ کسی طرح یوٹیوب بحال ہو، تاکہ وہ علم کی پیاس بجھا سکیں ، یہ کیساعلم ہے جو جنسی حرص کی پیاس کو بڑھا دیتا ہے،میں نے بار بار انوشہ رحمان کو خبردار کیا ہے کہ وہ یو ٹیوب کی بحالی کا اقدام نہ کریں، اگر ڈرون حملوں سے دہشت گردی پھیلتی ہے تو یو ٹیوب کی بحالی سائیبر دہشت گردی کو جنم دے گی۔آج ایک معصوم بچی ہوس کا نشانہ بنی ہے تو کل کئی بچیاںعزتیں لٹا بیٹھیں گی۔یو ٹیوب ہوس کی اس سائنس سے بھری ہوئی ہے، اگر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ ملی بینڈ گوگل پر سیخ پا ہیں جو یوٹیوب کامائی باپ ہے تو مجھ پر یوٹیوب کی ممکنہ بحالی کی خبروں سے وحشت کیوں طاری نہیں ہو گی۔
حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں۔
معصوم بچی کی خالی خولی آنکھیں میرے ضمیر کو کچوکے لگا رہی ہیں اور جنرل نیازی کا بند‘ خاموش تابوت مجھے بے کل کر رہا ہے تو کیا ہوا۔ آپ تو چین کی نیند سو رہے ہیں ناں!