بیٹی کی حفاظت ماں کی ذمہ داری ہے !

ہمارے قلم میں کبھی اتنی جرا¿ت پیدا نہ ہو سکی کہ بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے شرمناک واقعات میں سے کوئی ایک آدھ واقعہ بطور مثال پیش کر سکتے جبکہ میڈیا کے ہاتھ کوئی ایک واقعہ لگ جائے، تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پاکستان میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ ہے۔ غیر مسلم معاشروں میں اس قسم کے واقعات کو ”مادر پدر آزاد معاشرہ“ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی ریاستوں میں انہیں ”درندگی“ سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت کڑوی ہوتی ہے، بچیوں کی آبرو ریزی کے واقعات میں ”درندہ صفت“ ہی نہیں بچیوں کی مائیں بھی مجرم ہیں جن کی غفلت کی وجہ سے اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بچوںکی جان اور آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے مگر ماں کی ذمہ داری زیادہ اہم ہے۔ بچوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے تو کیوں کر ممکن ہے کہ کمسن بچیاں آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں۔ امریکہ میں ایک پاکستانی مسلمان دوشیزہ سے کسی نفسیاتی ہسپتال میں ملاقات ہوئی تو پہلے وہ ہم سے گھبرائی مگر چند ملاقاتوں کے بعد دوستی ہو گئی اور پھر جو کچھ اس نے بتایا، اگر ہمت ہے تو آپ بھی سنیں! وہ لڑکی بھی کسی کی”سُنبل“ تھی لیکن اس کے ساتھ زیادتی کرنے والا اس اپنا سگا بھائی تھا لیکن خوف کی وجہ سے وہ یہ بات اپنی سگی ماں کو بھی نہ بتا سکی۔ اس واقعہ کے بعد اسے اپنے بھائی سے شدید نفرت ہو گئی جس کی وجہ سے اس کے اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے اور بالآخر حالات نے اسے نفسیاتی ہسپتال پہنچا دیا۔ ماہر نفسیات نے جب یہ بات اس کے والدین کو بتائی تو ماں نے اپنے بیٹے کی حمایت کی جبکہ باپ نے اسے بدکردار کہا۔ ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ بچپن میں زیادتی کی علامات عمر کے ساتھ شدید ہو جاتی ہیں اور جوان ہو کر ان بچیوں کی یہی ذہنی حالت ہوتی ہے جو اس لڑکی کی ہے۔ بچپن میں زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیاں جوان ہو کر دو طرح کے ردعمل میں مبتلا ہو سکتی ہیں، انہیں مردوں سے نفرت ہو سکتی ہے یا گمراہی کے راستے پر چل نکلتی ہیں۔ ایک اور پاکستانی مریضہ سے ملنے کا موقع ملا، اس کے ساتھ اس کے سگے ماموں کے ہاتھوں ہوئی۔ ایک بچی کی زندگی اس کے ڈرائیور نے تباہ کی۔ ایک لڑکی نے بتایا اس کو بچپن میں اس کے پرانے ملازم نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس قسم کے واقعات پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ والدین نے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ دین اسلام میں بیٹیوں کو باپ اور بھائی کے ساتھ بھی فاصلہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے حتیٰ کہ لڑکا جب سات سال کا ہو جائے تو اسے بھی الگ بستر پر سلانے کی ہدایت ہے۔ اسلام کی بات کریں تو نام نہاد لبرل طبقہ اسے ”بیک ورلڈ“ کہتا ہے جبکہ لبرل معاشرے بھی ان ہدایات کو تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ کی کسی ریاست میں چلے جاﺅ، کرائے پر اپارٹمنٹ دینے سے پہلے بچوں کی تعداد پوچھی جاتی ہے۔ دو بچوں کے ساتھ تین کمروں کا اپارٹمنٹ کرائے پر ملے گا ۔
 Early Childhood Education کی کلاس میں ہماری امریکن ٹیچر تربیت کے دوران بتایا کرتی تھیں کہ نومولود کے سامنے بھی کپڑے تبدیل کرنے سے اجتناب کرو، بچہ جسمانی اعتبار سے چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کے دماغ میں کمپیوٹر نصب ہوتا ہے، اپنے اطراف کے ماحول کو اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے اور یہ فائلز ڈیلیٹ نہیں ہو سکتیں۔ غیر بچے کو بوسہ یا کوئی چیز کھلانا پلانا سختی سے منع ہے۔ اب تو ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ بچوں کی نگہداشت اور ڈے کیئر سینٹرز میں کیمرے نصب ہیں ، والدین اپنے گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر مانیٹر کر سکتے ہیں جیسے بچہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ ماں کی اہم ذمہ داری اپنے بچے کو اپنے نگاہوں کے سامنے رکھنا ہے۔ معصوم بچیوں کے ساتھ شرمناک فعل نام نہاد مسلم معاشرے میں انہونی بات نہیں۔ اندرون و بیرون ملک اس قسم کے واقعات کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب سے انسان اور شیطان کی لڑائی کا آغاز ہوا ہے، یہ سلسلہ جاری ہے البتہ اس کی شرح میں شرمناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی اہم وجہ والدین کی غفلت اور جدید ٹیکنالوجی کا منفی استعمال ہے۔ پانچ سالہ بچی کو کم سن سمجھ کر گلیوں اور محلوں میں کھیلنے کی اجازت دینے والی مائیں بھی مجرم ہیں۔ بچوں کو کم سن نہ سمجھا جائے، بچے کی نفسیات اور تربیت چار سال کی عمر میں مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ”بچپن میں تربیت پتھر پر لکیر کی طرح اور جوانی میں تربیت پتھر پر پانی کی طرح ہے ۔ بچپن کے نقوش انمٹ ہوتے ہیں۔ بچپن کے واقعات انسان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی آغوش ہے۔ جاہل مائیں اپنی بچیوں اور بچوں کو کمسن خیال کرتے ہوئے دودھ دہی لینے اکیلے دوکان پر بھیج دیتی ہیں، مولوی یا استاد کے پاس تعلیم کے لئے تنہا بٹھا دیتی ہیں، ڈرائیور کے ساتھ تنہا سکول بھیج دیتی ہیں، ملازم کو بُلانے کے لئے سرونٹ کوارٹر بھیج دیتی ہیں، ماموں یا چچا جیسے رشتوں پر اعتبار کر لیتی ہیں۔ بیٹی پھول کی طرح نازک ہوتی ہے، اس کی حفاطت کے لئے اس کے ساتھ سایہ بن کر رہنا پڑتا ہے۔ والدین کا تعلق خواہ کسی ملک اور مذہب سے ہو، اپنی اولاد کو کامیاب اور باکردار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام یہی سکھاتا ہے کہ شرع میں شرم نہیں لہٰذا اپنے بچوں کے ساتھ کسی قسم کی بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کرو ورنہ بچے بے راہ روی اور ہوس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ امریکی معاشرہ ہی نہیں پاکستانی معاشرہ بھی سماجی و نفسیاتی مسائل میں جکڑا ہوا ہے، وہاں بھی مائیں اپنی جان چھڑانے کے لئے بچوں کو ٹی وی سکرین کے سامنے کارٹون لگا کر بٹھا دیتی ہیں، خود فون پر گپ شپ میں مصروف ہو جاتی ہیں اور یہ تک جاننے کا تردد نہیں کرتیں کہ آجکل کے کارٹون کس قدر بیہودہ ہوتے ہیں۔ ماہر نفسیات کے مطابق والدین کو بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، بچوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ بچے کو کچھ سکھانے اور سمجھانے کے لئے اس کے لیول پر آنا پڑتا ہے۔ بچے کے ساتھ درشت رویہ اختیار کرنے والے اکثر والدین خود ذہنی دباﺅ اور نفسیائی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور اس کا اظہار اکثر بچوں کو مار پیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کیا جاتا ہے، بچہ ناراض ہو کر غیروں کو ہمدرد سمجھنے لگتا ہے اور بعض اوقات یہ ہمدردی ”جنسی زیادتی“ کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ مائیں ”درندوں“ کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے اپنی ذمہ داری کوانصاف کے کٹہرے میں پیش کرنے کی جرا¿ت پیدا کریں۔