پیسے اور پروپیگنڈے کی شکست

کالم نگار  |  جاوید صدیق
پیسے اور پروپیگنڈے کی شکست

بھارت نے کوئی کسر نہ چھوڑی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن نہ بن سکے۔ کون سا حربہ ہے جواس نے نہیں آزمایا۔ کئی ملین ڈالر کے اخراجات‘ سفارت کاروں کی منتیں‘ انہیں تحفے تحائف دینے کے علاوہ بھارتی سیاستدانوں اور بی جے پی حکومت کے سرکردہ لیڈروں سے فون کرانے کے باوجود بھارت پاکستان کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بننے سے نہ روک سکا۔ مودی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے اس نے اپنا سارا زور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے اور اسے تنہا کرنے پر لگا دیا ہے۔ اس مہم میں مودی سرکار‘ آخری حد تک چلی گئی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست ملک کہنا تو بھارتی لیڈروں کا معمول بن گیا ہے۔ دہشت گردی کا کارڈ اتنی تواتر سے وہ پاکستان کیخلاف استعمال کرتا آ رہا ہے کہ وہ اب خود دنیا کے سامنے ایکسپوز ہونا شروع ہو گیا ہے۔ پروپیگنڈہ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ پاکستان نے چند روز پہلے افغانستان میں اغوا ہونے والے کینیڈین شہری اور اس کی امریکی اہلیہ اور ان کے بچوں کو ایک آپریشن کے ذریعہ بازیاب کرایا تو امریکی صدر اور امریکی انتظامیہ کے بعض دوسرے اکابرین کی طرف سے پاکستان کی ستائش بھارت سے برداشت نہ ہو پائی۔ بھارتی میڈیا نے تو ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ بھارتی ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کوسنا شروع کر دیا اور کہاکہ پاکستان کی تعریف کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ٹرن لے لیا ہے۔ چند بھارتی تجزیہ کاروں نے یہ تبصرہ کیا کہ پاکستان بہت ہوشیار ہے اس کے پاس کئی کارڈز ہیں جو وہ کھیل سکتا ہے۔ اس کے پاس ایک کارڈ اس کی جیوسٹرٹیجک لوکیشن ہے جسے وہ اپنے فائدے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔
بات ہو رہی تھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے بطور رکن انتخاب کی۔ بھارت نے سارا زور لگا دیا کہ پاکستان اس کونسل کا رکن منتخب نہ ہو لیکن پاکستان کو بھی رکن بننے کے لئے بڑے جتن کرنا پڑے ہیں۔ کم و بیش ایک سال تک پاکستان کی وزارت خارجہ کے کرتا دھرتا حکام مسلسل محنت کرتے رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا رکن منتخب ہو۔ سب سے پہلے پاکستان نے اپنے برادر اسلامی ملکوں سے رابطہ کیا اور ان کی حمایت حاصل کی او آئی سی کے تمام رکن ممالک نے پاکستان کو سپورٹ کیا۔ بھارت نے اپنی بھرپور کوشش کی کہ اسلامی ملکوں کو بھی توڑ کر اپنے ساتھ ملا لے لیکن وہاں اسے ناکامی ہوئی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پاکستان کو انسانی حقوق کونسل کا رکن بنوانے کےلئے جان توڑ کوشش کی۔ یورپ‘ مشرق وسطیٰ جنوبی ایشیا‘ افریقہ‘ جنوبی امریکہ میں اپنے سفیروں کو انتہائی متحرک رکھا۔ حکومت نے پاکستان کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب کرانے کے لئے بھی فراخ دلی سے فنڈ بھی جاری کئے تاکہ پس پردہ اور خاموش سفارت کاری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جائیں۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا رکن بننے کے لئے 151 ووٹ ملے۔ افغانستان کو 130 ووٹ مل سکے۔ پاکستان نے کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کا ہدف اپنے لئے چیلنج سمجھا اور اس ہدف کو حاصل کر لیا۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ہمارے سفارت کاروں نے ان تھک محنت کی۔ خاص طور پر افریقہ کے ملکوں میں جہاں پاکستان کے سفارتخانوں کی تعداد چار یا پانچ ہے۔ لیکن افریقہ کے ملکوں کو ووٹ حاصل کرنے کےلئے دوسرے دارالحکومتوں سے ہمارے سفرا مسلسل افریقی ملکوں کا سفر کرتے رہے اور افریقی ممالک کے سربراہوں اور سفارت کاروں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جن ملکوں کے سربراہوں اور دوسرے لیڈروں سے ملاقاتیں کیں انہیں بھی پاکستان کو اقوام متحدہ کی کونسل کا رکن بنانے کے لئے حمایت کے لئے درخواست کی۔ بھارت امریکہ اور سکیورٹی کونسل کے بعض دوسرے ارکان کی مخالفت کے باوجود پاکستان نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی رکنیت حاصل کر کے بھارت کو سخت صدمے سے دوچار کر دیا۔ اگر پاکستان کو شکست ہوتی تو مودی سرکار اور بھارتی میڈیا نے پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا طوفان کھڑا کرنا تھا اور یہ واویلا مچانا تھا کہ پاکستان کو ہم نے تنہا کر دیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی جو داخلی صورتحال ہے اس کے پیش نظر بھی پاکستان نے بین الاقوامی ڈپلومیسی میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے اس کامیابی سے پاکستان کے بدخواہوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ بھارت کے لئے یہ خبر بھی دلخراش ہو گی کہ روس نے بھی پاکستان کی حمایت کی۔