کچھ متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر!

کالم نگار  |  خالد احمد

متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرنے کے لیے دینی جماعتوں کا ’سربراہ اجلاس ‘ طلب کر لیا گیا ہے! مگر، جنابِ سید منور حسن ہاشمی اس اجلاس میں شرکت کرنے سے ’کنی‘ کترا رہے ہیں! کیونکہ آئندہ عام انتخابات میں ہر جماعت کی نشستوں کا کوٹہ تسلیم کیے بغیر وہ اگلا قدم نہیں اُٹھانا چاہتے! لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ اگر متحدہ مجلس عمل کی بحالی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی خواہشات کا اشاریہ ہے،تو، جنابِ سید منور حسن ہاشمی کا احتراز مولانا کی سیاسی خواہشات کے ڈھیر سے اپنے حصے کے خوابوں کی کرچیاں سمیٹنا ہے!
متحدہ مجلس عمل جنابِ پرویز مشرف کی ’چھتر چھاﺅں‘ تلے قائم کی گئی! اور اِسے بلوچستان اور خیبر پی کے ’دان‘ کر دیئے گئے! اور پھر جنابِ پرویز مشرف متحدہ مجلس عمل کی قوت دکھا دکھا کر اپنے اقتدار کے تسلسل کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کے کام سے لگے رہے! وہ،تو، گزشتہ عام انتخابات کے نتائج تھے، جنہوں نے نئے سیاسی منظر نامے میں متحدہ مجلس عمل کا کردار بہت محدود کر دیا! اب نئے انتخابات کے دوران جماعت اسلامی والے اِن جماعتوں کی مچائی ہوئی ہاہاکار میں اپنی آواز کی قیمت لگاتے دیکھے جا رہے ہیں!
جنابِ عمران خان پاکستان جماعت اسلامی کے فطری اتحادی ہیں! اور سید منور حسن ہاشمی اُنہیں تنہا چھوڑ دینے کی قیمت مولانا فضل الرحمن کی جیب سے نکلوانا چاہتے ہیں!
کیا آئندہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل واقعی کوئی حقیقی کامیابی حاصل کر لے گی؟ یہ سوال ابھی تشنہ¿ جواب ہے!سید منور حسن ہاشمی کی جانب سے انتخابی نشستوں کا پیشگی مطالبہ اس تصور پر مبنی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بھی متحدہ مجلس عمل کا دہ سالہ ماضی نئے سرے سے بحال ہو جاناممکن ہے! جبکہ جنابِ عمران خان سید منور حسن ہاشمی سے اپنی توقعات لگائے بیٹھے ہیں! اور اُن کا خیال ہے کہ وہ متحدہ مجلس عمل کے دائرئہ اثر کے عین وسط میں ’سونامی‘ برپا کر سکتے ہیں!
مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دینی مدارس کے حسابات مانیٹر کرنے کی تجویز کی واضح مخالفت اس امر کا ثبوت ہے کہ دینی جماعتیں کسی نوع کے ’آڈٹ‘ کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکیں گی! اورمولانا فضل الرحمن کا یہ زوردار مو¿قف اُن کی بہت سی ہم پیشہ و ہم مشرب وہم راز دینی جماعتوں کے درمیان اُن کے لیے قائدانہ اوّلیت فراہم کرنے کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے! ایسے میں جنابِ سید منور حسن ہاشمی کی نگاہیں مولانا فضل الرحمن کی صلاحیتیں ٹٹولتے دیکھنا ایک دلچسپ منظر کے سوا کچھ اور نہیں!
یہ بات طے ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ تمام برسوں میں آہستہ آہستہ قومی اور بین الاقوامی مسائل کا بہت نزدیک سے مطالعہ کرکے اِن مسائل کا صد فی صد درست تجزیہ کرنا سیکھ لیا ہے! اور اُن کے اخذ کردہ نتائج کبھی غلط نہیں ہو پاتے! لیکن اس راہ پرکچھ ایسے مقام بھی آتے ہیں، جہاں اُن کے لیے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کا لائحہ عمل طے کرتے وقت حقائق کا درست تر ادراک کرنا ہر بار مشکل ترہو جاتا ہے!
متحدہ مجلس عمل کے بینر تلے ریلیز ہونے والی یہ فلم ’سپرہٹ ‘ثابت ہو گی؟ یا، ’ٹوٹل فیلیئر‘؟ اس کا فیصلہ ،تو، انتخابی نتائج ہی کریں گے! اور یقینی بات ہے کہ اِن نتائج پر اُن کے حلقہ¿ اثر کے عین وسط میں جنابِ عمران خان اپنی ’خونیںسونامی‘ برپا کرتے دکھائی دے رہے ہوں گے! لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ اس بار ،تو، جنابِ عمران خان پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے وہ خطرہ ثابت نہیں ہو سکیں گے، جس کے اندازے یار لوگ روز کے روز لگاتے دکھائی دیتے رہے ہیں!البتہ متحدہ مجلس عمل کے لیے جنابِ عمران خان زیادہ بڑے خطرے کے طور پر یقینا اُبھر سکتے ہیں!شاید اسی لیے مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے جماعت اسلامی پر جناب عمران خان سے ترک تعلق کی شرط عائد کردینا ضروری گردانا تھا !اب کیا ہو گا ؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا کہ سید منور حسن ہاشمی اور جنابِ عمران خان کی فطری یک جہتی زیادہ اہمیت رکھتی ہے، یا، متحدہ مجلس عمل کے رُکن کی حیثیت سے جماعت اسلامی کے لیے انتخابی نشستوں کا کوٹہ؟
یاد رہے کہ جنابِ قاضی حسین احمد اور جنابِ نواز شریف کے درمیان بھی ایک ایسا ہی معاہدہ ہو رہا تھا مگر، جنابِ نواز شریف ، جنابِ قاضی حسین احمد کے مطالبے کا حجم دیکھ کر وہاں سے اُٹھ آئے تھے! وہ قاضی صاحب کے حجم سے بھی زیادہ تھا اور جماعت اسلامی قومی اسمبلی کی جگہ سینٹ میں چند نشستوں پر راضی رہ گئی تھی!