فیصلہ اب صرف سیاست دانوں نے کرنا ہے

کالم نگار  |  سعید آسی

بالکل درست احساس دلایا گیا ہے کہ جنرل اسلم بیگ آرمی چیف کی حیثیت میں 1988ءکے انتخابی عمل میں مداخلت نہ کرتے تو 12اکتوبر 1999ءاور پھر 3 نومبر 2007ءوالی ماورائے آئین جرنیلی مہم جوئی کی نوبت نہ آتی۔ ہاں‘ اسی تناظر میں یہ احساس بھی دلایا جا سکتا ہے کہ جسٹس منیر نظریہ ضرورت کا سہارا لے کر سکندر مرزا کے اسمبلی توڑنے کے آمرانہ اقدام کو خواجہ ناظم الدین کے کیس میں آئینی تحفظ فراہم نہ کرتے تو ملک میں پہلے مارشل لاءکی صورت میں جنرل ایوب خان کی مہم جوئی کی نوبت ہی نہ آتی۔ عاصمہ جیلانی کے کیس میں یحییٰ خان اپنے اقتدار کے دور میں ہی غاصب قرار پاتے‘ جنرل ضیاءکے مارشل لاءکا بھی بیگم نصرت بھٹو کیس میں تیاپانچہ ہو جاتا اور جنرل مشرف کی 12 اکتوبر 1999ءکو مسلط ہونیوالی جرنیل شاہی کے بھی سید ظفرعلی شاہ کے کیس میں پرخچے اڑ جاتے مگر ماضی کی چھوڑی ہوئی لکیروں کو پیٹنے سے ماضی کی تلخیاں ہی یاد آئینگی‘ سو ہماری آزاد عدلیہ نے بہت اچھا کیا اور بہت خوب کیا کہ عدلیہ کے صحن سے نمودار ہونیوالے نظریہ ضرورت کو عدلیہ کے صحن میں ہی دفن کر دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی اور ان کیخلاف ریفرنس بھجوانے کے احکام بھی جرنیلی آمر مشرف کے نخوت کو تکبر بھرے اقتدار کے دوران ہی کالعدم قرار دے کر انکے منہ پر مار دیئے اور پھر 3 نومبر 2007ءکے مشرّفی پی سی او اور اسکے تحت پوری عدلیہ کو معزول کرنے کے ٹوکہ احکام پر بھی اس جرنیلی آمر کے اقتدار کی موجودگی میں ہی انصاف کی عملداری کا ٹوکہ چلا کر قرار دے دیا کہ 3 نومبر کے ماورائے آئین احکام یوں سمجھیں کہ کبھی جاری ہی نہیں ہوئے تھے۔ عدلیہ نے تو بلاشہ ماضی کا داغ دھوتے ہوئے اپنا قرض اتار لیا ہے‘ اگر اب سیاست دان اور جرنیل بھی اپنا اپنا قرض اتار کر سیدھی راہ اختیار کرلیں تو جرنیلی آمریت کا مردہ بھی اسلام آباد میں ہی اقتدار کے ایوانوں کے کسی صحن میں فنایا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ میں زیر سماعت اصغر خان کا کیس آج جرنیلوں اور سیاست دانوں کو یہی راستہ دکھا رہا ہے‘ ذرا ہمت کرکے اپنے اپنے مُردے اٹھایئے‘ اور انہیں اپنے اپنے مقتدر ایوانوں کے کسی صحن میں دفن کر کے عدلیہ کی طرح اپنے دامن میں لگے داغ دھونے کا بھی اہتمام کرلیجئے‘ پھر سلطانی¿ جمہور کیخلاف جرنیلی آمروں کو تو کجا‘ جمہوری سلطانوں کو بھی کسی قسم کی سازش کرنے کی جرا¿ت نہیں ہو گی۔ ان داغوں کے اجاگر ہونے میں اب کوئی کسر تو باقی نہیں رہ گئی۔ جرنیلوں نے شب خون مارے تو اپنے مفادات کے اسیر سیاست دانوں نے ان کی جرنیل شاہی کو دوام بخشنے کیلئے اپنے کندھے فراہم کئے۔ چنانچہ جرنیل شاہی کو جمہوریت کا پیوند لگانے کیلئے سیاسی کٹھ پتلیاں تراش کر انہیں اپنی انگلیوں پر نچانے کا موقع بھی ملتا رہا۔ بھئی کہتے ہیں کہ سیاسی کٹھ پتلیوں نے اپنی ڈوریاں جرنیل شاہی کی انگلیوں سے چھڑانے کیلئے ہی لندن میں بیٹھ کر میثاق جمہوریت کیا تھا‘ جس میں عہد کیا گیا کہ میثاق جمہوریت کے بندھن میں بندھنے والا کوئی سیاست دان آئندہ اپنے مخالفین کے جمہوری اقتدار کی بساط الٹانے کیلئے کسی مہم جو جرنیل کو اپنا کندھا فراہم نہیں کریگا‘ نہ اپنے اقتدار کی خاطر کسی جرنیل کو مہم جوئی کی دعوت دےگا۔
اس میثاقِ جمہوریت کے چیتھڑے تو موجودہ عہد اقتدار میں اپنی اپنی اغراض کے ماتے سیاستدانوں نے خود ہی اڑا دئیے ہیں جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوجی کمان جرنیلی آمر مشرف کے ہاتھوں وصول کرتے ہوئے خود کو آئین کے تابع رکھنے اور منتخب سول حکومت کے معاملات میں قطعاً مداخلت نہ کرنے کا جو عہد کیا تھا وہ اس پر ثابت قدمی کے ساتھ کاربند بھی ہیں اور جمہوریت کا مردہ خراب کرنےوالی موجودہ منتخب سول حکومت کی جیسے بھی بن پایا ہے، پانچ سال کی میعاد پوری کرانے کی نوبت لے آئے ہیں۔ چنانچہ اب اصل اور بڑا وزن تو سیاستدانوں کے کاندھوں پر ہی آن پڑا ہے۔ ذرا جائزہ لے لیجئے۔ میثاقِ جمہوریت کے پرخچے اڑانے والے سیاستدان سلطانی¿ جمہور کو سرخرو کرنے کےلئے خود کو اس کا اہل بھی بنا پا رہے ہیں یا نہیں؟
1988ءکے انتخابی عمل میں ایوان صدر کی تیار کردہ سازش کو جرنیلی افہام و تفہیم سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کہانی کی گرہیں آج اصغر خاں کیس میں سپریم کورٹ کے روبرو کھل رہی ہیں تو کیا اب آنےوالے انتخابات کو ایوان صدر کی ایسی سازشوں سے محفوظ بنانے کی فکرمندی نہیں ہونی چاہئے؟ جمہوری نظام کو جرنیلی مہم جوئی سے محفوظ رکھنے کےلئے چاہے بادل نخواستہ ہی سہی، عدلیہ اور افواج پاکستان اپنے اپنے عزم پر کاربند ہیں تو چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم بھی پیرانہ سالی کے باوجود آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کےلئے اپنا عزم دہرائے اور جتائے چلے جا رہے ہیں اور اس عزم کو تکمیل تک پہنچانے کےلئے ہی وہ عدلیہ کی زیر نگرانی عام انتخابات کے انعقاد کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ پھر ذرا سوچئے حضور والا! ہر جانب سے بداعتمادی سیاستدانوں پر ہی کیوں ہے؟ اس لئے کہ سیاستدانوں نے آج بھی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور عہد شکنی میں آج بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ عہد شکن سیاستدان اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں تو ان ایوانوں سے حاصل ہونےوالے اپنے اختیارات کو جمہور کے نام پر اپنی سلطانی کی دھاک بٹھانے کےلئے استعمال کرنے میں قطعاً عار محسوس نہیں کرتے۔ چاہے خود کتنے ہی بدعہد کیوں نہ ہوں، دوسروں سے اپنے عہد کی پاسداری کا ضرور تقاضہ کرتے ہیں۔ اس فضا میں تصور کر لیجئے کہ ایوانِ صدر جسے عملاً حکمران پارٹی کے سیاسی دفتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے، آنےوالے انتخابات میں ایوان صدر کے 1988ءجیسے کردار کی ادائیگی سے بھلا گریز کرےگا؟
یہی وہ تجسس ہے جو اصغر خاں کیس میں ماضی کی گرہیں کھولتا ہوا سلطانی¿ جمہور کےلئے خطرات کی نوبت لاتا نظر آ رہا ہے جبکہ اب خود کو سنبھالنے کی ذمہ داری صرف سیاستدانوں پر آن پڑی ہے۔ تو پھر فیصلہ کر لیجئے جناب، جمہوریت کو بچانا ہے یا اسے ماضی کی طرح راندہ¿ درگاہ بنانا ہے؟ یا پھر عوام کی زبان میں....
کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی