صدر اوباما اور پاکستان!

صدر اوباما اوران کے سیاسی حریف صدارتی امیدوار گورنر مٹ رامنی کے مابین ہونے والے دوسرے صدارتی مباحثے میں صدر اوباما نے برتری حاصل کر لی۔ اس سے پہلے ٹی وی مباحثہ میں مٹ رامنی کی کارکردگی توقع سے زیادہ اچھی پائی گئی جس کی وجہ سے مٹ رامنی کی مقبولیت کا گراف بڑھ گیا مگر دو روز پہلے ہونے والے دوسرے صدارتی مباحثہ میں صدر اوباما سبقت لے گئے۔ دوسرے مباحثہ میں صدر اوباما کی کامیابی کی توقع تو تھی لیکن یہ کامیابی اس سے بھی کہیں زیادہ دیکھی گئی۔ مباحثہ کے آغاز ہی سے اوباما نے رامنی کے کاروباری ریکارڈ کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ مسٹر رامنی امیر طبقے کے لئے خصوصی قواعد کے قائل ہیں۔ اوباما نے رامنی پر ایسی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کا الزام لگایا جو روزگار غیر ممالک میں بھیجتے ہیں، امریکی عوام کے روزگار مارتے ہیں اور انہیں پنشن جیسی سہولیات سے محروم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر رامنی کے اقتصادی منصوبے کی وجہ سے ملک میں اسّی کھرب ڈالر کا خسارہ ہو جائے گا۔ حالیہ دوسرے انتخابی مباحثہ کے بعد ایک سروے کے مطابق 39 فیصد کے مقابلے میں 58 فیصد عوام نے صدر اوباما کے حق میں رائے دی۔ وال سٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ یہ مباحثہ امریکی صدارتی مہم کی تاریخ میںسب سے زیادہ جاندار مباحثہ تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مباحثہ کے دوران صدر اوباما کا انداز جارحانہ تھا۔ دوسرے مباحثہ میں ہال میں بیٹھے ووٹروں نے مختلف سوالات کئے۔ مباحثہ کے دوران معیشت اہم موضوع رہا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے 50 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔ موٹر سازی کی صنعت کو جو تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، ان کی حکومت نے بچایا۔ صدر اوباما اور ان کے حریف گورنر رامنی کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ فلوریڈا میں ہو گا۔ صدر اوباما سمجھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت ان کی انتخابی مہم میں مددگار ثابت ہو گی لہٰذا وہ بن لادن کی گرفتاری کا ذکر تواتر سے کرتے ہیں مگر امریکہ کے عوام بن لادن کی موت کو اس کے ساتھ دفن کر چکے ہیں۔ روزگار اور مہنگائی کے سامنے تمام ایشوز اور معرکے معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کے لوگ اگلے چار سالوں میں معیشت کی حالت بہتر دیکھنے کے متمنی ہیں ، جو امیدوار عوام کے بنیادی مسائل پر قابو پا نے کا ٹھوس منصوبہ پیش کرے گا عوام اس کو ووٹ دیںگے۔ اوباما کے حریف گورنر رامنی کی کامیابی کا دار و مدار آخری اور تیسرے صدارتی مباحثہ پر ہے۔ امریکہ کے عام انتخابات میں دو ہفتے رہ گئے ہیں۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ بھاری اکثریت کے ساتھ امریکہ کا صدر بننے والے باراک اوباما چار سال بعد جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں ہار اور جیت میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ ری پبلکن صدارتی امیدوار گورنر مٹ رامنی کی انتخابی مہم ڈیمو کریٹک امیدوار بارک اوباما کےلئے زبردست چیلنج بن کر ابھری ہے۔ ملک میں معاشی بحران اوباما کو ورثے میں ملا ہے۔ بُش حکومت نے جنگیں لڑ کر ملک کی معیشت کو جہاں پہنچا دیا ہے، اوباما حکومت کے لئے اس پر پوری طرح قابو پانا آسان نہیں رہا جبکہ جنگوں کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے طول پکڑتا جا رہا ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے صدر اوباما عوام سے کئے گئے متعدد وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ اوباما حکومت وعدہ کے مطابق افغانستان سے جنگ لپیٹ نہ سکے بلکہ پاکستان اور ایران کی طرف بھی ان کے قدم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں شمالی وزیرستان کی منصوبہ بندی بہت پہلے ہو چکی تھی مگر فوری فوجی اپریشن میں لولی لنگڑی جمہوریت آڑے آ رہی تھی۔ اب جبکہ جمہوری حکومت کو پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں، اس ملک میں مزید اپریشن کی تیاریاں بھی مکمل ہو چکی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اگلے الیکشن ہوتے، ملک کسی بڑی تبدیلی کا منتظر ہے اور بد نصیبی سے وہ تبدیلی شمالی وزیرستان میں اپریشن کی صورت میں سامنے آئے گی۔ اسلام آباد سے واشنگٹن کے ایوانوں میں بحث جاری ہے کہ اگر شمالی وزیرستان میں فیصلہ کن اپریشن کرنا ہے تو پہلے پاکستان کی پوری قوم اور تمام سیاسی پارٹیوںکو متحدکرنا ہو گا۔ پاکستان جس کی معیشت دم توڑ چکی ہے اور جہاں دہشت گردی، بدامنی، لوٹ مار، بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے، سیاسی پارٹیاں اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف ہیں جبکہ عام انتخابات کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ پاکستان میں جمہوریت باہر والوں کے لئے مسئلہ بن جاتی ہے اور ان کے لئے جی ایچ کیو سے براہ راست اور فوری فیصلے کرانا مشکل ہو جاتا ہے۔ زرداری حکومت جیسی بھی ہے، ایوانوں میں عوام کے منتخب نمائندے بیٹھے ہیں لہٰذا کوئی بھی حساس فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ لوگ پانی کی قلت سے پیاسے مر جائیں گے مگر جو سیاستدان ڈیم بنانے کے حق میں نہیں، وہ پاکستان میں کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرانے کے حق ہیں۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں نقصان پہنچانے والے اس کے اپنے سیاستدان ہیں۔ جو شمالی وزیرستان میں اپریشن کے خلاف چّلا رہے ہیں وہ بھی سب ٹوپی ڈرامہ ہے، اندر سے سب وائٹ ہاﺅس کے غلام ہیں۔ پاکستان میں طالبان، شدت پسند، عسکریت پسند، دہشت گرد، انتہا پسند ۔۔۔ الغرض تمام اقسام کے ”پسند و ناپسند“ کی پشت پناہی ملک کے اندر سے ہو رہی ہے اور کرائے کے قاتلوں کی ڈالروں میں اُجرت وصول کی جاتی ہے۔ امریکہ کے مسلمان اس بار بھی باراک اوباما کو ہی ووٹ دیں گے کیوںکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اوباما کی داخلی پالیسی بہتر ہے جبکہ خارجہ پالیسی میں مسلمان حکمرانوں کی رضامندی شامل ہے۔ پاکستان کے حالات کا ذمہ دار امریکہ نہیں، ہمارے سیاستدان ہیں۔