اور اب بیٹنگ کوچ........!

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ایک غیر ملکی ہیڈ کوچ فیلڈنگ کوچ اور باﺅلنگ کوچ کے بعد اب بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس عہدے کو مشتہر بھی کردیا گیا ہے۔درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ4نومبر رکھی گئی ہے۔امیدوار کیلئے لیول تھری کوچنگ کورس اور پانچ سالہ تجربے کو لازمی قرار دیا گیا ۔ اس حوالے پی سی بی کے سابق چیئر مین توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ ذکاءاشرف پاکستان کی کرکٹ کو ٹھیک کرناچاہتے ہیں تو پھر وہ اپنی سیاسی مصروفیات کو چھوڑ یں اور بورڈ کے معاملات کی نگرانی اور مانیٹرنگ کریں۔اب پی سی بی نے بیٹنگ کوچ کی تلاش شروع کردی ہے یوں محسوس ہوتا ہے ذکاءاشرف کو ان کے اپنے ادارے کے لوگ ہی چکر دے رہے ہیںاور ان چکر دینے والوں میں ڈیوواٹمور بھی ہوسکتا ہے۔توقیر ضیاءنے کہا کہ ایک کے بعد ایک کوچ کی خدمات حاصل کرنے کا مطلب پیسہ برباد کرنا ہے۔بیٹنگ کوچ کیلئے اشتہار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے تمام ٹاپ بلے بازوں جن میں ظہیر عباس،جاوید میانداد ،انضمام الحق اور دیگر کامیاب بیٹسمین شامل ہیںان کو زیرو سے ضرب دیدی ہے ، 350 یا اس سے زائد ون ڈے میچ کھیلنے والے بیٹسمین کو بیٹنگ کوچ کیا سکھائے گا؟
کھلاڑیوں کی بہترکارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے انہیں تمام سہولیات پہنچانا ضروری ہیں لیکن کیا قومی ٹیم کو اتنے کوچز کی ضرورت ہے اور موجودہ کوچنگ سٹا ف کی موجودگی سے پلیئرز کی انفرادی اور اجتماعی کارکردگی میں کیا فرق آیا ہے اگر کوچز کا کھیل میں بہت زیادہ کردار ہے اوران کی ضرورت ہے اور مقصد کھلاڑیوں کو سہولیات دینا ہے تو پھر انڈر 19کی سطح پر اس اہم ترین شعبے کو نظر انداز کیوں کیاجارہا ہے۔چند ماہ قبل پاکستان نے انڈر 19کا عالمی کپ کھیلا با صلاحیت نوعمر کھلاڑیوں کی اس ٹیم کو اکیلا کوچ صبیح اظہر ہی باﺅلنگ، بیٹنگ،فیلڈنگ، کی پریکٹس کرواتا رہا نچلی سطح میں کوچنگ سب سے زیادہ موثر ہوتی ہے یہی سیکھنے کی عمر ہوتی ہے جہاں کھلاڑی میں سیکھنے کی لگن، جوش و جذبہ زیادہ ہوتا ہے پھر اسے نظر انداز کرنے کا ذمہ دار کون ہے ؟
 سابق چیئر مین پی سی بی خالد محمود کے مطابق ”کھلاڑیوں کی خامیاں بتانے سے دور نہیں ہوتیں بلکہ اس کے مسلسل محنت اور مستقبل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔کھلاڑی کی خامی کو ختم کرنے کیلئے اسے نیٹ پریکٹس کروائی جاتی ہے ایک ہی گیندکو بار بار کھیلنے سے ہی کھیل میں نکھار آتا ہے“۔
ہم بیٹنگ کوچ کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں کیا ہمارے اپنے ملک میں کوئی ایسا سمجھدار کرکٹر نہیں ہے جو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے مسائل کے حل کیلئے کام کرسکے۔لاکھوں روپے ماہانہ لینے والے جاوید میاندار آخر کس مرض کی دوا ہیں؟
 شایذ ذکاءاشرف نے کسی سے سن لیا ہوکہ انسان زندگی بھر سیکھتا ہے اور اسی بات کو پلے باندھ کر وہ کرکٹ کیرئیر کے اختتام کو پہنچنے والے کھلاڑیوں کو بھی ٹریننگ کے مراحل سے گزرناچاہتے ہوں۔
کھلاڑیوں کا اصل مسئلہ کوچنگ نہیں ہے۔کرکٹ بورڈ مرض کی تشخیص کے بغیر ہی دوائی دیتا چلا جارہا ہے۔ٹیم میں سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی بھرمار ہے ان میں اکثریت ان کھلاڑیوں کی ہے جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کسی کوچ کی نہیں سنتے پھر پیسے کا ضیاع کیوں کیاجارہا ہے اگر ہم نے ایک ہیڈ کوچ رکھا ہے،ایک فیلڈنگ، ایک باﺅلنگ کی خدمات حاصل کر رکھی ہے اور اب بیٹنگ کوچ کی طرف دوڑ رہے ہیں تو کیا ہم مستقبل میں وکٹ کیپنگ کوچ، سپن باﺅلنگ کوچز بھی رکھیں گے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ مرض کی تشخیص کی جائے اور پھر اسکا علاج،ایسے اقدامات سے ملکی کرکٹ کو کوئی فائدہ ہویا نہ ہو،ایک بات طے ہے کہ کرکٹ بورڈ کے خزانے پر بوجھ ضرور بڑھے گا۔سب سے اہم سوال یہ کہ باﺅلنگ اور فیلڈنگ کوچز نے ٹیم کو کونسی اوج ثریا پر پہنچادیا کہ بیٹنگ کوچ کی ضرورت پیش آگئی!