کرکٹر اپنی ذات کے بجائے ٹیم کے لئے کب کھیلیں گے؟

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

 کرکٹ ٹیم گیم ہے ہر کھلاڑی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ آج ہمارے کرکٹرز کے بارے میں ایک رائے عام ہے کہ یہ اپنی صلاحیتوں سے کم تر کھیل پیش کرتے ہیں‘ متحد ہو کر نہیں کھیلتے‘ اپنی ذات کے لئے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ بعض افراد اس سے انکار بھی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جوکہ اب بھی ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ بڑے دکھی انداز میں ہم سے کہا کہ میں نے انضمام‘ شعیب ملک اور یوسف  سب کی کپتانی میں رنز کئے‘ آپ بتائیں جب میں کپتان تھا تو کس نے سکور کیا؟
آج ہمارے کھلاڑی اپنی خراب کارکردگی کا بڑی ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہیں اور  سلیکشن یا کولیکشن کمیٹی کے ممبران بھی کبوتر  کی طرح آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ آج چند تاریخی حوالے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ اہل عقل ان واقعات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ 
یہ 1967ء کی بات ہے انگلینڈ کے مشہور زمانہ کھلاڑی جیف بائیکاٹ نے انڈیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ڈبل سنچری سکور کی۔ انہوں نے کم و بیش ڈیڑھ دو دن بیٹنگ کی۔ اتنی عمدہ کارکردگی کے بعد انہیں حیران کن طور پر ٹیم سے ڈراپ  کر دیا گیا‘ وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے بہت سست بیٹنگ کی اور اپنی ذات کے لئے کھیلتے نظر آئے‘ 1970-71ء میں انگلینڈ نے 17 سال بعد آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈ پر ہرا کر ایشنز سیریز جیتی۔ انگلش فاسٹ باؤلر جان سنو نے سیریز میں 33 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس کے بعد انڈیا نے انگلینڈ کا دورہ کیا تو ایک ٹیسٹ میچ میں جان سنو نے گواسکر سے کھیل کے دوران جھگڑا کیا اور وکٹیں بھی صرف دو حاصل کیں۔ جان سنو کو جوکہ ایشز سیریز کا ہیرو تھا انگلینڈ کے کپتان رلے الیوتھ کے مطابق فاسٹ باؤلر کو صرف اس وجہ سے ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا کہ جان سنو نے اپنی صلاحیتوں سے کم تر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خراماں خراماں سٹائل میں بائولنگ کی دوسری طرف ہمارے کپتان ہیں۔ جو کبھی وہ راکٹ لانچر چلانے کی بات کرتے ہیں توکبھی چند رنز میں ساری ٹیم کے آؤٹ ہونے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مصباح کی کارکردگی بحیثیت بلے باز بہت عمدہ اور مثالی ہے لیکن اجتماعی لحاظ سے نتائج مایوس کن ہیں۔ مصباح الحق کے حوالے سے ہمارے عظیم کھلاڑیوں کی یہی رائے ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے کھیلتے ہیں مزید یہ کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہوئے ٹنڈولکر کی مثال دیتے نظر آتے ہیں۔ کیا اس ٹیم میں اس پائے کا کوئی کھلاڑی ہے جو کھیل کی عزت کرتا ہو، یہ بات مان بھی لی جائے تو پھر ٹیم میں رہنے کے لئے ٹنڈولکر کو اگر بنیاد بنایا جا رہا ہے تو پھر اپنی ذات کے لئے کھیلنے والوں، مسلسل ناکام رہنے والوں کے لئے جان سنو اور جیف بائیکاٹ جیسا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا؟ مصباح الحق یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے ٹیم کی تعمیر میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ ہر کھلاڑی کو ڈسٹرب کر کے رکھا ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ’’ان آئوٹ‘‘ کا عالمی ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ بھی ناقدین کر رہے ہیں؟؟ دوسری طرف نجم سیٹھی کے مطابق تنقید کرنے والوں کی اکثریت کرکٹ بورڈ میں ملازمت کی خواہش مند ہے۔ مان لیا کہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے لیکن باسط علی نے تو ملازمت لینے سے ہی انکار کر دیا ہے حالانکہ ان دنوں وہ سب سے بڑے ناقد ہیں۔ شعیب اختر کو بھی ہم سن چکے ہیں وہ بھی کسی عہدے کے خواہشمند نہیں ہیں۔ انضمام الحق کو کرکٹ بورڈ نے خود بیٹنگ کنسلٹنٹ بنایا تھا۔ ’’محمد برادران ویسے ہی بڑا دھیما دھیما بولتے ہیں۔ سرفراز نواز تو ہر دور میں تنقید کرتے رہے ہیں۔ مدثر نذر اس وقت آئی سی سی گلوبل اکیڈمی کے ہیڈ کوچ ہیں۔ عاقب جاوید یو اے ای میں کوچنگ کر رہے ہیں۔ رمیز راجہ اور وقار یونس کمنٹری میں مصروف ہیں۔ اگر باقی کوئی بچ جاتا ہے تو اس سے بورڈ چیئرمین کیوں خائف ہیں۔ایسے بھی لوگ ہیں جو ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں کیا وہ بھی ’’مکھن‘‘ لگا کر بورڈ میں نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بورڈ چیئرمین کا یہ بیان اور سوچ انتہائی غلط معلوم ہوتی ہے۔  ویسے بھی اگر کسی نے ملازمت کے لئے ’’حرم‘‘ سے سفارش آگئی تو کیا سفارشی نجم سیٹھی میں اتنی جرات ہے کہ اسکو انکار کر سکیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ چڑیا والے صاحب ملازمت مانگنے والوں کا نام بھی بتائیں اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر وہ ناقدین پر تنقید کے بجائے اپنے اصل کام کی طرف توجہ دیں۔