راولپنڈی اور اسلام آباد اداس ہیں

کالم نگار  |  جاوید صدیق

ایک اخبار نویس کی حیثیت سے میں خود بھی راولپنڈی میں دسویں محرم کے جلوسوں کی کوریج کرتا رہا ہوں۔ یہ کئی سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت بھی شہر میں محرم کے جلوس کی حفاظت کے لئے پولیس کی بڑی نفری متعین ہوتی تھی۔ پولیس عمارتوں کی چھتوں پر بھی ہوتی تھی لیکن 70ئ‘ 80ءاور 90ءکی دہائی میں راولپنڈی میں کوئی بڑا شعیہ سنی جھگڑا نہیں ہوا۔ محرم سے پہلے انتظامیہ شہر میں مختلف مکاتب فکر کے علماءکا اجلاس بلا کر محرم کے جلوس کا روٹ اور دوسری تفصیلات طے کرلیتی تھی۔
اس مرتبہ دسویں محرم کو بظاہر راولپنڈی میں کوئی کشیدگی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اگر اندر ہی اندر کوئی لاوا پک رہا تھا تو اس کی خبر یقیناً ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس کو ضرور ہو گی۔ دسویں محرم کو جس جگہ پر سانحہ رونما ہوا ہے یہ جگہ اس اعتبار سے حساس ہے کہ یہاں راولپنڈی کا ایک انتہائی پرانا مدرسہ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار واقعہ ہے اس مدرسہ کی ایک جید سنی عالم دین مولانا غلام اﷲ خاں نے بنیاد رکھی تھی۔ مولانا غلام اﷲ خان جمعیت علمائے اسلام کے فعال رہنما تھے۔ جب 1977 ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک شروع ہوئی تو دارالعلوم تعلیم القرآن کے مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ نے اس تحریک میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ راجہ بازار میں واقعہ اس مدرسہ کے سامنے سے محرم کا جلوس گزرتے وقت ماضی میں کبھی کبھار بدمزگی پیدا ہوتی رہی ہے لیکن بات کبھی اس حد تک نہیں پہنچی جہاں تک اس مرتبہ پہنچی ہے۔
راولپنڈی شہر سے قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے تو اس افسوسناک واقعہ کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈالی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ کی کوتاہی کی وجہ سے سانحہ ہوا ہے۔ شیخ رشید احمد نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جو لوگ فساد میں ملوث تھے وہ پہلے کبھی اس شہر میں دیکھے ہی نہیں گئے۔ انتظامیہ کی ذمہ داری یہ تھی کہ جب دسویں محرم کے جلوس نے جمعہ کے روز مدرسہ تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرنا تھا تو وہ درخواست کر کے جلوس قدرے م¶خر کرا سکتے تھے اور اس جگہ پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتے لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ مقامی انتظامیہ پولیس اور انٹیلی جنس نے خوفناک کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔ شرپسند افراد نے کپڑے کی ایک پرانی مارکیٹ کو نذر آتش کر دیا جس سے تاجروں کا کروڑوں کا نقصان ہوا۔ مدرسہ تعلیم القرآن اس مارکیٹ کے اوپر ہے۔ مدرسہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ ان کے درجنوں طلبہ جاں بحق ہوئے ہیں۔
اب تو اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمشن بن گیا ہے وہ اس کی تحقیقات کر کے واقعہ کی تہہ تک پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے جو انتظامیہ کے ان افراد کا تعین کرے گی جس کی غفلت سے راولپنڈی شہر کا امن برباد ہوا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ راولپنڈی شہر میں کرفیو لگا ہوا ہے۔
فوجی دستے اور رینجرز کے اہل کار شہر کا گشت کر رہے ہیں۔ عام شہریوں کو نقل وحرکت میں بہت مشکلات پیش آرہی ہیں اور کھانے پینے کی اشیاءکی عدم دستیابی بھی شہریوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اتوار کے روز راولپنڈی شہر میں سستے بازار لگے تھے جن سے شہری ہفتے بھر کے لئے سبزی‘ پھل‘ مرغی وغیرہ خریدا کرتے تھے یہ بازار اس اتوار کو نہیں لگ سکے۔ گلی محلے کے سبزی فروشوں کے مزے ہو گئے ہیں وہ پرانی سبزی کے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔
راولپنڈی کی سڑکیں ویران پڑی ہیں سڑک پر بچے کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ راولپنڈی میں سڑک پر گاڑی خالی خالی نظر آتی ہے۔ حتی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ موبائل فون سروس راولپنڈی میں تو نویں محرم کے دن سے بند ہے۔ اگر کسی کے پاس لینڈ لائن ہے تو وہ اپنے عزیزوں سے رابطہ کر سکتا ہے۔ ورنہ موبائل سروس تو مکمل بند ہے۔
اتوار کے روز راولپنڈی میںایک مرتبہ پھر کشیدگی کا خدشہ بڑھنے لگا تھا کیونکہ راجہ بازار کے مدرسہ کے جو طلبہ جاں بحق ہوئے ان کی علماءنے لیاقت باغ میں نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان کر دیا۔ انتظامیہ نے یہ پوزیشن لی لیاقت باغ میں کرفیو کی وجہ سے کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہرمیں دفعہ 144 لگی ہوئی ہے اس لیے نماز جنازہ کے اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خود وزیراعلٰی جو کہ راولپنڈی میں موجود تھے ان سے علماءنے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ نماز جنازہ کی ادائیگی پرامن طور ہونے کے بعد شرکاءمنتشر ہو جائیں گے۔ علماءمیں مولانا سمیع الحق‘ مولانا شاہ چراغ الدین‘ مولانا فضل الرحمان خلیل اور دوسرے جید علماءموجود تھے ان کی یقین دہانی پر انتظامیہ نے لیاقت باغ میں نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت دے دی تین میتوں کو لیاقت باغ پہنچایا گیا جن کی نماز جنازہ ادا کر دی گی اور اس کے بعد شرکاءمنتشر ہوگئے۔ یہ مرحلہ پُرامن رہا‘ امن کی یہ فضا بڑی نازک محسوس ہو رہی ہے۔حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عدالتی کمشن کی تحقیقات کے بعد جن افراد پر قتل و غارت اورآتشزدگی کے واقعات میں ملوث ہونا ثابت ہوں گے انہیں سخت سزا دے ورنہ یہ معاملہ پھرسر اٹھا سکتا ہے۔
راولپنڈی میں کرفیو سے اسلام آباد بھی متاثر ہے۔ دونوں شہر جڑواں ہیں جہاں کے شہریوں کی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں کرفیو نہیں ہے لیکن اسلام آباد بھی بے رونق اور اداس لگتا ہے۔آج پیر کے دن سے سرکاری دفاتر کھلیںگے تو سرکاری ملازمین کی اکثریت جو راولپنڈی میں رہتی ہے وہ اسلا م آباد میں سرکاری دفاتر تک کیسے پہنچے گی کیا صبح کرفیو میں نرمی ہو گی یا کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ ایک اہم مسئلہ اخبارات کا بھی ہے کرفیو کی وجہ سے اتوار کے روز کے اخبارات راولپنڈی میں قارئین تک نہیں پہنچ پائے۔ اے پی این ایس نے انتظامیہ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ اس مرتبہ دسویں محرم کو جو سانحہ ہوا ہے اس کے اثرات راولپنڈی اور اسلام آباد پر طویل عرصہ تک رہیںگے۔