آگ --- اسلام آباد کی طرف؟

کالم نگار  |  اثر چوہان

 حُرمت کے مہینے۔ مُحرّم اُلحرام میں نواسہ¿ رسول اور اُن کے 72ساتھیوں کی یاد ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر منائی گئی ۔قاتلِین اور مقتولین بظاہر ایک اللہ اور ایک رسول کو ماننے والے تھے۔ جی۔ایچ۔کیو کی بغل میںآباد راولپنڈی میں قتل و غارت کی آگ پر تین دِن بعد ظاہری طور پر قابو پا لِیا گیا ،لیکن فرقہ پرستی کی آگ کا بیج جب بویا گیا تھا تو شایدکسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ آگ کی فصل ہی کاٹنا پڑے گی ۔علّامہ اقبالؒ نے تو بہت پہلے ہی خبردار کر دِیا تھاکہ۔
مذہب نہیں سِکھاتا ،آپس میں بَیر رکھنا
لیکن ” دِین مُلّا فی سبیلِ اللہ فساد“ کے علمبرداروں نے توعلامہ صاحب پر بھی کفر کا فتویٰ داغ دِیا تھا ۔راولپنڈی میں” مسلمانوں کے دو گروہوں نے“ ایک دوسرے کی جان لے کر ” محرم منایا“ لیکن کرفیو کے نفاذ کے بعد مسلسل تین دِن تک اپنے گھروں میں دہشت گردوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور اہلکاروں سے خوفزدہ لوگوں کی جو زندگی حرام ہُوئی اُس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کرفیو میں وقفہ کے دوران ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اپنی مرضی کا اضافہ کر کے کاروباری طبقہ کے جِن لوگوں نے اپنی روزی حرام کر لی انہیں حکومت یا عدالتیں سزا دیں گی یا حشر کے دِن اَحکمُ الحاکمین کی عدالت؟ اور جن معلوم یا نا معلوم مجرموں نے کئی مارکٹیں جلا کر اُن دکانوں کے مالکان کو ” لکھّ پتی سے ککّھ پتی “بنا دِیا انہیں کون معاوضہ دے گا؟۔ حکومت یا آگ کو آگ سے بجھانے والی مذہب کے نام پر دہشت گرد تنظیموں کے عہدیدار؟16نومبر کو اقوامِ متحدہ (U.N.O) کے طے شدہ پروگرام کے تحت پاکستان سمیت دُنیا بھَر میں ” برداشت کا عالمی دِن “ منایا جا رہا تھا تو راولپنڈی کے محصورین کی قوّتِ برداشت جواب دے چُکی ہے۔ یہ یواین او بھی خوب چیز ہے۔ نامور شاعر سیّد محمد جعفری نے اپنی نظم ۔یو ۔این۔او۔ میں کیا خوب کہا ہے 
یواین او ،کے پیٹ میں ،سارے جہاں کا درد ہے
ایسی قوموں سے خفا ہے ،جِن کی رنگت زرد ہے
کتنا اچھا فیصلہ کرتا رہا کشمیر کا؟
کاغذی ہے پَیرہن ،ہر پیکر ِ تصویر کا
قدیم ایران میں رسم تھی کہ کوئی مظلوم یا فریادی کا غذ کا لباس پہن کر بادشاہِ وقت کے حضور پیش ہوتا تھا ۔پھر بادشاہ ( ظالم کو سزا دِلوا کر یا کسی اور طریقے سے) فریادی کی داد رسی کر دیتا تھا مرزا غالب نے کہا کہ ۔۔۔
نقش فریادی ہے، کِس کی شوخیءتحریر کا
کاغذی ہے پَیرہن ،ہر پیکر ِ تصویر کا“
یعنی نقش ( تحریر یا تصویر) کِس کی شوخی ءتحریر کا فریادی ہے ؟ کہ ہر تصویر نے کاغذی لباس پہن رکھا ہے۔ پیارے پاکستان میں کوئی مظلوم یا فریادی کاغذی لباس پہن کر حُکامِ بالا کی خدمت میں پیش ہونے کی استطاعت نہیں رکھتاکہ یہ سودا کافی مہنگا ہے۔ خدانخواستہ بارش یا دھکّم پیل سے کاغذی لباس پھٹ جائے تو، فریادی کو، سرے عام فحاشی پھیلانے پر گرفتارکر کے سزا دی جا سکتی ہے ۔ سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لئے جسٹس مامون رشید پر مشتمل یک رُکنی عدالتی کمِشن قائم کر دِیا گیا ہے ۔ کرفیو اور دفعہ 144ءکے نفاذ کے باوجود جمعیت عُلماءاسلام ( س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے جاں بحق ہونے والوں کی نمازِ جنازہ پڑھائی ۔مولانا سمیع الحق نے کہا کہ” ہم انتشار نہیں چاہتے لیکن میڈیا جانبدرانہ روّیہ ترک کر کے قوم کو حقائق سے آگاہ کرے “، مولانافضل الرحمٰن خلیل نے کہا کہ” ملزموں کو عبرآگ --- اسلام آباد کی طرف؟
برآمد ہوں گے “۔ گویا مولانا خلیل انصاف کا انتظار کریں گے اور اگر اُن کی مرضی کا انصاف نہ ہوا تو”سنگین نتائج “ برآمد کرنے کے لئے جدو جہد کریں گے ۔تحقیقاتی کمِشن 30دِن میں اپنی رپورٹ حکومت ِ پنجاب کو پیش کرے گالیکن تحریکِ طالبان کا اپنا ” نظامِ عدل“ ہے ۔اُس کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے دھمکی دی ہے کہ ” آنے والے دِن اور ہنستے مُلک کے لئے تباہ کُن ہوں گے ہم حکومت اور سیکورٹی اداروں سے اپنے لیڈر حکیم اللہ محسود کے قتل کا بدلہ لیں گے اور اُن کی ہلاکت کو درست قرار دینے پر پیپلز پارٹی ، اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کو نشانہ بنائیں گے بمبار روانہ کر دئیے ہیں “۔ شاہد اللہ شاہد نے دو روز قبل بنوں میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہُوئے کہا ہے کہ یہ پہلا حملہ تھا ہم امریکہ کی مدد کرنے پر حُکمرانوں کو سبق سِکھا دیں گے “۔ تحریکِ طالبان راولپنڈی ڈویژن کے راہنما ہونے کا دعویٰ کرنے والے احمد علی انتقامی نے کہا ہے کہ ” ہم بہت جلد ڈی ۔سی ۔او ۔ راولپنڈی اور ڈی ۔آئی۔جی، کو بھی نشانہ بنائیں گے جو سانحہ راولپنڈی کے ذمہ دار ہیں ۔عُلماءہماری مدد کریں“۔
اُدھر تحریکِ نفاذِ فقہ¿ جعفریہ نے مطالبہ کِیا ہے کہ”سانحہ راولپنڈی کے مغوی عزاداروں اور خواتین کو بازیاب کرایا جائے “۔ 30دِن میں نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے؟۔ اپنی ہلاکت سے پہلے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے حکیم اللہ محسود نے کہا تھا کہ ”ہم پاکستان میں طاغوتی (شیطانی) نظام (جمہوریت)کے پیرو کاروں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے“۔ مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق بھی، موجودہ نظام کو ” طاغوتی نظام “ ہی کہتے ہیں اور حکیم اللہ محسود کو ”شہید“ قرار دینے والے سیّد منور حسن بھی، لیکن اُن تینوں راہنماﺅں کی جماعتیں اِس طاغوتی نظام کے تحت انتخابات میں حِصّہ لیتی ہیں۔7اکتوبر کو تحریکِ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا یہ بیان میڈیا کی زینت بنا تھا کہ” ہم پاکستان کے سیکولر آئین کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے ۔ہمارا مقصد پاکستان میں شریعت نافذ کرنا ہے ہمارا ہدف اسلام آباد ہے۔ ہم اسلام آباد کو ”حقیقی اسلام آباد“ بنا دیں گے “۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب اُس وقت تک کا انتظار کریں جب طالبان اسلام آباد کو ” حقیقی“(یعنی اپنی مرضی کا) اسلام آباد بنا دیں ؟سانحہ راولپنڈی کے بدلے کی آگ اسلام آباد کی طرف پھیلنے کا انتظار کِیا جائے یا آگ بجھانے کا ؟