موٹروے ۔ شریعت اور مولانا شیرانی!

کالم نگار  |  اثر چوہان
 موٹروے ۔ شریعت اور مولانا شیرانی!

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کا تعلق جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) سے ہے۔ مولانا صاحب سابق صدر زرداری کے دَور میں بھی 5 سال تک اسی منصب پر فائز رہے۔ 17 فروری کو موصُوف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کِیا۔ بڑی ’’Form ‘‘ میں نظر آئے۔ مَیں نے مولانا کے ارشادات کی روشنی میں اُن کا مُخلصانہ تصوّراتی اِنٹرویو کِیا ہے۔ میرے سوالات اور مولانا شیرانی کے جوابات حاضر ہیں۔ گر قبُول اُفتد زہے عِزّو شرف!
س:۔ السلام علیکم مولانا محمد خان شیرانی صاحب!
ج:۔ ’’وعلیکم السلام و رحمتہ اُللہ!‘‘
س:۔ مَیں آپ کا ممنُون ہُوں کہ آپ نے اِنٹرویو کے لئے وقت نکالا؟
ج:۔ ’’مَیں نے تو آپ کو وقت ہی نہیں دِیا۔ آپ بِن بُلائے مہمان ہیں تو شروع کیجئے اپنا اِنٹروِیو!‘‘
س:۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے آپ نے کہا ہے کہ ’’مُلکی سیاست منافقت کا ملغُوبہ ہے‘‘ لیکن آپ کی جمعیت عُلماء اسلام (ف) بھی تو سیاست کرتی ہے؟
ج:۔ اِسی لئے تو مَیں نے تجویز کِیا ہے کہ ’’سیاست کی نئے سرے سے تعریف کی جائے۔‘‘ حضرت مولانا فضل اُلرحمن کی قیادت میں جمعیت ِعُلماء اسلام (ف) دِین کی سیاست کرتی ہے۔ علّامہ اقبال کا وہ مِصرع تو آپ نے سُنا ہی ہو گا کہ ؎
’’جُدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘
س:۔جی ہاں! مَیں نے علّامہ اقبالؒ کا یہ مِصرع پڑھا ہے اور وہ مِصرع بھی پڑھا ہے کہ ؎
’’دِین مُلّا فی سبیل اللہ فساد‘‘
ج:۔ ’’دیکھیں! آپ تو ذاتیات پر اُتر آئے ہیں۔ مَیں مُلّا نہیں عالمِ دِین ہُوں اور ہاں! فساد اور جہاد میں فرق ہے۔‘‘
س:۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’جمہوری نظام نے مُلک کو افراتفری کے سِوا کچھ نہیں دِیا۔‘‘ مُلک کو کچھ دِیا ہو یا نہ دِیا ہو لیکن ہر دَور کے حُکمرانوں ٗ سیاستدانوں اور مختلف حکومتوں کے اتحادی عُلماء کو بھی بہت کچھ دِیا ہے۔ اِس پر اگر افراتفری پھیل جائے تو اِس میں جمہور کا کیا قصور؟
ج:۔ ’’جمہور کا قصوریہ ہے کہ پاکستان میں جتنی بار بھی عام انتخابات ہُوئے انہوں نے جمعیت عُلماء اسلام کو بھاری مینڈیٹ نہیں دِیا۔‘‘
س:۔ لیکن جمعیت عُلماء اسلام تو ’’ف‘‘ اور ’’س‘‘ میں بٹ چکی ہے؟
ج:۔ ’’جمعیت کے دونوں گروپوں کا مقصد دِین کی خدمت ہے اور شریعت کا نفاذ!‘‘
س:۔ آپ نے اپنی پریس کانفرنس میں فرمایا ہے کہ ’’شریعت ’’Motorway‘‘ کی طرح کُھلے راستے کا نام ہے۔‘‘ آپ نے سیدھا راستہ یعنی ’’صراط مُستقِیم‘‘ کیوں نہیں کہا؟
ج:۔ ’’در اصل موٹر وے پر کئی موڑ آتے ہیں۔ کبھی دائیں اور کبھی بائیں مُڑنا پڑتا ہے ٗ اِس لئے مَیں نے ’’کُھلے راستے‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ آپ اِسے میرا ’’اِجتہاد‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘
س:۔ اِجتہاد کے بارے میں تو مَیں بعد میں سوال کروں گا ٗ پہلے مَیں آپ کی خدمت میں ترکیب کے بارے میں حضرت داغ ؔدہلوی کا ایک شعر پیش کرتا ہُوں۔ فرماتے ہیں ؎
’’تلاش اُن کو ہے میرے راز داں کی
نئی ترکیب نکلی امتحاں کی‘‘
ج:۔’’مجھے عِشقیہ شعروں سے کوئی دِلچسپی نہیں ہے۔ ہاں! آپ مجھ سے ’’اِجتہاد‘‘ کے بارے میں سوال کرنے والے تھے؟‘‘
س:۔ علّامہ اقبال نے کہا تھا کہ ’’اِجتہاد کا حق عُلماء کے بجائے مسلمان مُلک کی قومی اسمبلی کا ہے۔‘‘ اور جب جمہوریہ ترُکیہ کے بانی ۔’’اَتا تُرک‘‘۔ غازی مُصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں تُرکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے خلافت کا خاتمہ کر دِیا تو علّامہ اقبال نے اُس فیصلے کی حمایت کی تھی؟
ج:۔’’تبھی تو جیّد عُلماء کرام نے آپ کے اتا تُرک اور علّامہ اقبال کے خلاف کُفر کے فتوے دیئے تھے۔‘‘
س:۔کُفر کا فتویٰ تو آپ کے ہم مسلک عُلماء نے قائدِاعظم کے خلاف بھی دِیا تھا۔ اُس سے کیا فرق پڑا؟
ج:۔’’فرق تو پڑے گا۔ کُفر کے سارے فتوے ریکارڈ پر آ گئے ہیں ۔ کبھی نہ کبھی تو حشر کی عدالت میں اِن فتوئوں کی سماعت ہوگی۔ مَیں دعوے سے کہتا ہُوں!‘‘
س:۔آپ کے پِیرو مُرشد اور مولانا فضل اُلرحمن کے والدِ مرحوم مولانا مُفتی محمود نے قیامِ پاکستان کے بعد کہا تھا کہ ’’خُدا کا شُکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گُناہ میں شامل نہیں تھے؟‘‘ لیکن اُس کے بعد بقول مُفتی محمود صاحب نے ’’گُناہ کی پیداوار‘‘ پاکستان میں خُوب سیاست کی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دَور میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے اور صُوبہ سرحد (خیبر پی کے) کے وزیرِِ اعلیٰ بھی۔ اِس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘
ج:۔دیکھیں! گڑے مُردے نہ اُکھاڑیں! گذشت آنچہ گذشت‘‘۔ اگلا سوال؟‘‘
س:۔ مولانا فضل اُلرحمن کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ’’پاکستان کا نام بہت خُوب صُورت ہے لیکن اِس کے طاغُوتی یعنی شیطانی نظام سے مجھے گھِن آتی ہے۔‘‘ لیکن مولانا مُفتی محمود کے جانشین کی حیثیت سے مولانا فضل اُلرحمن پاکستان کے طاغُوتی نظام کے تحت سیاست کر رہے ہیں اور اُن کے ساتھ آپ بھی؟
ج:۔’’جب مولانا فضل اُلرحمن اور مجھے پاکستان کے طاغُوتی نظام سے گھِن آتی ہے تو ہم دونوں اپنی اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں۔ تولیہ نُما رومال جِسے اہل پنجاب ’’پرنا‘‘ کہتے ہیں۔ کندھے پر رکھنے کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے۔‘‘
س:۔11 مئی۔2013 ء کے عام انتخابات سے پہلے۔31 مارچ کو مولانا فضل اُلرحمن نے مِینارِ پاکستان لاہور کے زیرِ سایہ جمعیت عُلماء اسلام ف کے زیرِ اہتمام ’’اسلام زِندہ باد کانفرنس‘‘ سے خطاب کِیا۔ آپ بھی سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ مولانا فضل اُلرحمن نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’ہِندُوستان میں ہِندُو اب بھی قوم ہیں لیکن برِصغیر کے مُسلمان تِین حِصّوں میں تقسیم ہو چکے ہیں یعنی ہِندُوستان کے مسلمان ٗ پاکستان کے مسلمان اور بنگلہ دیش کے مسلمان‘‘۔ کیا مولانا فضل اُلرحمن بھارت کی تقسیم کا دُکھ ابھی تک نہیں بھُولے؟
ج:۔ ’’No Comments!‘‘
س:۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’ہم صدارتی اور پارلیمانی نظام نہیں چاہتے۔ اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ کیا طالبان کا نظام؟
ج:۔’’No Comments!‘‘
س:۔ مولانا مفتی محمود نے جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں مادرِ مِلّت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کو سپورٹ کِیا تھا۔ کیوں؟
ج:۔’’اِس لئے کہ اسلام میں عورت کی سربراہی کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
س:۔لیکن مولانا فضل اُلرحمن وزیرِاعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے اتحادی رہے ہیں اور اُن کی وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقاتوں کی تصویریں بھی نیوز چینلوں اور اخبارات میں آتی رہی ہیں ؟
ج:۔’’No Comments!‘‘
س:۔ اسلامی نظریاتی کونسل 1962ء میں صدر ایوب خان نے شاید مولانا مُفتی محمود کی خواہش پر قائم کی تھی اور اب آپ 6 سال اور 8 ماہ سے اِس کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے اپنی موجودہ پوزیشن میں کیا کِیا؟
ج:۔ ’’میں کیا کرتا؟ مَیں نے وزیرِاعظم نواز شریف کا دَور شروع ہونے کے ساتھ ہی تجویز پیش کی تھی کہ۔’’ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کو چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے برابر ’’Status‘‘ دِیا جائے لیکن جنابِ وزیرِاعظم نے شاید میری وہ تجویز کھُوہ کھاتے میں ڈال دی ہے۔‘‘
س:۔اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے آپ کو چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کا سٹیٹس مِل جائے تو آپ کریں گے؟
ج:۔’’ مَیں مولانا فضل اُلرحمن سے دُعا کرائوں گا کہ کسی وقت صدرِ پاکستان ٗ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی بیک وقت پاکستان سے باہر ہوں تو مَیں قائم مقام صدر کی حیثیت سے مُلک میں شریعت نافذ کر دُوں۔ ’’موٹر وے کی طرح کُھلے راستے کی شریعت‘‘۔
س:۔ جِس طرح6 اپریل 2007ء کولال مسجد اسلام آباد کے خطِیب مولوی عبداُلعزیزنے اپنی شریعت نافذ کردی تھی؟‘‘
ج:۔ ’’مَیں اب آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دُوں گا۔آپ تشریف لے جائیں۔ خُدا حافظ‘‘
س:۔ مولانا صاحب ! آپ کا بھی خُدا ہی حافظ۔