مرنے والوں کی قیمت چند لاکھ ؟

مرنے والوں کی قیمت چند لاکھ ؟

لواحقین کو چند لاکھ روپے دے کر واقعہ کی مذمت کر دی جاتی ہے جبکہ دہشت گردی کی نذر ہونے والوں کے بچے لاوارث ہو جاتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کی کفالت کا مستقل بنیادوں پر بندوبست ہونا چاہئے۔ حکومت دہشت گردی کے خلاف بیانات کی حد تک مورچے سنبھال چکی ہے مگر زمین پر عملی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ تسلسل سے دھماکے ہو رہے ہیں۔ ہزاروںخاندانوں کے کفیل دھماکوں کا نوالہ بن چکے ہیں۔ ان کے بچے یتیم ہی نہیں تعلیم سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں ریکارڈ توڑ دہشت گردی جاری ہے۔ لاہور پولیس لائنز کے قریب خودکش دھماکے کی خبر لرزاں خیز ہے۔ لاہور کے قلب میں ایسا واقعہ پنجاب حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔ گھروں کے گھر اجڑ رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کی غیر محفوظ ترین ریاست قرار دیا جا چکا ہے۔ پاک فوج ملک کی باگ دوڑ کُلی طورپر سیاستدانوں کے حوالے کرنے پر راضی نہیں جبکہ سیاستدان فوج کے دبائو تلے ملکی اہم فیصلوں میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاستدان بد عنوانی اور بے ایمانی کی وجہ سے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میچ پوری دنیا سے ہار جائے مسئلہ نہیں مگر بھارت سے ہار جائے تو پاکستانیوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اگر ایک کھیل پاک بھارت تعصب بے نقاب کر سکتا ہے تو پورا ملک بھارت کے حوالے کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔ نظریہ پاکستان ہو یا پاکستان کی سرحدوں کا معاملہ،عوام سیاستدانوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ بیرونی دنیا کو اگر کسی سے خدشہ ہے تو اس ملک کی فوج اور مذہبی جماعتوں سے ہے۔ فوج کو وار آن ٹیرر کی سازش نے اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے اور مذہبی جماعتیں اپنا حقیقی کردار پس پشت ڈال کر دہشت گردی کو جہاد سے تعبیر کر رہی ہیں۔ دین کو بطور ہتھکنڈا جس بُری طرح پاکستان میں استعمال کیا جا رہاہے اسے محض ’’چنگیزی‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹراقبال نے جس سیاست کی بات کی تھی وہ پاکستانیوں کو دیکھنا نصیب نہ ہو سکی البتہ’’ چنگیزی ‘‘نے دین کی جگہ لے لی۔مذہبی مافیاز نے اپنے پیروکاروں کو یہ مصرعہ تو رٹا دیا ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ لیکن انہیں دین نہ سکھا سکے۔ پاکستان کا دین سیاست بن چکاہے ، الا ماشاء اللہ چنگیزی مُلا اور پیران غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ اس ملک کی جس اینٹ کو اٹھائو اس کے نیچے سے گند نکلتا ہے، سمجھ نہیں آتی کہاں سے صفائی شروع کریں۔ اس ملک کی غلاظت میں سب کا حصہ ہے۔ اس ملک کو غیروں کے ہاتھوں بیچ دیاگیا ہے۔ موجودہ سیاستدانوں میں ایک بھی نام قابل ذکر نہیں جو اس ملک کو سازشوں کے جال سے نجات دلانے کی اہلیت رکھتا ہو ۔ سب اقتدار کے چکر میں ہیں۔ حصول اقتدار سے پہلے جو کچھ کہتے ہیں اقتدار پانے کے بعد اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو تباہی سے نکالنے کے لیئے  ایک مستقل مزاج ، دلیر، جرأت مند اور ایماندارحکومتی ٹیم کی ضرورت ہے۔وفاقی و صوبائی حکومت نے پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحہ عظیم سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،اگر اس سانحہ عظیم کو سنجیدگی سے لیا گیا ہوتا تو یوں اوپر تلے مز ید واقعات رونما نہ ہوتے۔ ملک کی سکیورٹی چند جانوں کی حفاظت پر تعینات ہے۔ ایماندار اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور بے ایما ن اہلکار واقعات میں ملوث ہیں۔ اطلاعات کے باوجود حفاظتی انتظامات سے لا پرواہی برتی جاتی ہے۔ اندرونی تعاون کے بغیر بیرونی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے میں موجودہ حکومت بے بس دکھائی دے رہی ہے البتہ ایک کام تو  کر سکتی ہے اور وہ یہ کہ دہشت گردی کا نوالہ بننے والوں کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کا مستقل بندوبست کیا جائے ورنہ یہ معصوم نسلیں انتقام کی آگ میں جھلس جائیں گی۔ حکمرانوں کو اس دن سے ڈرنا چاہئے جس دن یہ منفی جذبات ان کے خلاف استعمال کئے جائیں گے۔ دہشت گردی کی جنگ میںپاکستان نے صرف مالی و جانی نقصان ہی نہیں اٹھایا بلکہ اپنی نسلوں کو بھی اپنا دشمن بنایا جا رہا ہے۔