اب لاہور کا مقتل

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
اب لاہور کا مقتل

میں جب کراچی کے مقتل کا ماتم کر رہا تھا، اس وقت تک میرا اپنا شہر لاہور کربلا کامنظر پیش کر رہا تھا، مجھے افسوس ہوا کہ اس میں بے گناہ پولیس اور سول جانیں ضائع ہوئیں، اللہ ان کے گھر والوں کو صبر عطا کرے۔

مگر یہ بات اچنبھے کی تھی کہ لاہور کی اپیکس کمیٹی بلا ناغہ اجلاس کر رہی ہے اور دہشت گردی کو پھر بھی نہیں روکا جا سکا، دہشت گردوں کو وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے پیغام دیا تھا کہ وہ پنجاب کومعاف رکھیں اور واقعی ان کے اس بیان کی حیا کی جانے لگی، پنجاب تو سارا پاکستان نہیں، دہشت گردوں کے لئے تو فاٹا اور اس کے نواحی علاقے ہی کافی ہیں۔موت کا کھیل کہیں بھی کھیلا جا سکتا ہے۔اور پشاور کے اسکول میں انہوں نے وہ قیامت ڈھائی کہ قیامت بھی الحفیظ و الاماں پکار اٹھی۔
مگر جب شہباز شریف کہہ چکے تھے کہ دہشت گرد پنجاب کو معاف ر کھیں تو پھر انہوںنے لاہور میں پولیس لائن میں واردات کیوں کی۔ اس شہر میں رانا ثناءاللہ بھی موجود تھے، ان سے بھی دہشت گردوں کو کوئی خوف نہ آیا حالانکہ میں تھر تھر کانپ رہا ہوں کہ اگر میں کامران شاہد کی جگہ بیٹھا رانا ثناللہ کا مخاطب ہوتا تومارے خوف کے میری توجان ہی نکل جاتی۔یہی باتیں مجھے شامی صاحب نے بھی میری تقریب میں کہی تھیں ؛ لیکن ان کا انداز دوستانہ تھا جبکہ رانا ثنااللہ کا لب و لہجہ خشمگیں تھا۔ اخبار نویسوں کو ان گنت خطرات درپیش ہیں لیکن ایسا کسی نے سوچا نہ تھا کہ آن دی سیٹ کوئی مہمان آپ کو بے نقط سنائے گا ، ایجنسیوں کا بندہ ہونے کا الزام دے گا اور کور کمانڈر اور آرمی چیف کو آپ کا آقا قرار دے گا۔ کامران شاہد اس کوچے کے نو وارد ہیں ، میںنے شامی صاحب کے طعنوں کے جواب میں کہا کہ میں ان الزامات کو خوشدلی سے قبول کرتا ہوں، میں اپنی فوج کا بندہ ہوں ، انڈین فوج کا نہیں، امریکی فوج کا نہیں ، اسرائیلی فوج کا نہیں، مجھے یہ طعنہ ایک اعزاز کی طرح قبول ہے، کامران شاہد بھی آن دی سیٹ کہہ سکتے تھے کہ ہاں میں ملکی ایجنسیوں کا بندہ ہوں ۔ کور کمانڈر اور آرمی چیف میرے آقا ہیں، آقا ہی نہیں محافظ ہیں اور پورے ملک کے محافظ ہیں۔
مگر یہ ایک نئی قسم کی دہشت گردی ہے، الفاظ کی دہشت گردی، دھمکیوں اور طعنوں کی زبان میں دہشت گردی، شاید بات آگے بڑھ جائے، شاید زبانی کلامی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے کچھ اور کر گزریں۔اور یہ قوم کس کس دہشت گردی کا مقابلہ کر پائے گی، جلد ہلکان ہو جائے گی، اس ملک میں اسپین کی تاریخ دہرائی جائے گی، میںنے خدا نخواستہ نہیں کہا کیونکہ مجھے اپنا ا ور اپنے ملک کا انجام نظرا ٓرہا ہے۔دشمن کو اب باہر سے جارحیت کی ضرورت نہیں ، خود کش دھماکے کر کے وہ ہماے حوصلے توڑ چکا ہے۔اب اسے آخری وار کرنا ہے اور وہ تلا بیٹھا ہے ، وہ سر بزم اشتعال دلا رہا ہے، اور وہ جس نے ہمارے حوصلے بڑھانے تھے، وہ ہمارا قافلہ سالار ابدی نیند سو گیا، میرا بے باک ایڈیٹر مجید نظامی اب میری پیٹھ تھپکنے کے لئے موجود نہیں۔دوستو! بتاﺅ کیا میں یکہ و تنہا ہوں ۔
لاہور پر وار کب ہوا ، جب وزیر اعظم کراچی کی گمبھیرتا کا حل نکالنے گئے تھے، شاید دہشت گردوں نے پیغام دیا ہے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی ، اپنی نبیڑ تو۔اور دوسری طرف وزیر اعظم نے اسلام آباد میں دوست ملک ترکی کے وزیر اعظم کا استقبال کیا، درجنوںنئے معاہدوں پر دستخط کئے، دہشت گردوںنے ترکی کے مہمان کو بتایا کہ آپ نے کس سرزمین پر قدم رکھا ہے، جہاں سے انسانی گوشت کے جلنے کی بو اٹھتی ہے۔پچھلے برس ایک اور دوست ملک چین کے صدر کی پاکستان آمد آمد تھی کہ عمران خان ا ور قادری نے دارالحکومت میں دھرنا دے کر معزز مہمان کے سارے راستے بلاک کر دیئے۔ پاکستان کا رخ کون کرے گا ، یہاں تو کوئی کرکٹ میچ کھیلنے نہیں آ سکتا، آٹھ برس قبل سری لنکا کی ٹیم کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ہم نے عالمی کرکٹ ٹیموں کا پاکستان میں داخلہ عملی طورپر بند کر دیا۔پشاور ایئر پورٹ اورکراچی ایئر پورٹ پر حملے کر کے ہم نے عالمی ایئر لائنوں کا منہ پاکستان سے موڑ دیا، جی ایچ کیو، کامرہ،واہ فیکٹریز اورمہران نیول بیس پر دہشت گردی کے ارتکاب سے دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ ایٹمی طاقت رکھنے والی پاک فوج کا حشر سووئت آرمی کا سا کیا جاسکتا ہے۔
مگر میرا گمان ہے کہ ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں، وزیر اعظم کوا حساس ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ، اس کا خزانہ ہی خالی نہیں ،اس کی سلامتی کو بھی دیمک چاٹ رہی ہے، اس لئے انہوںنے ہوشمندی کا راستہ اختیار کیا ہے ، وہ ایک طرف ملک کی معاشی بحالی کی فکر میں غلطاں ہیں اور دوسری طرف اس کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور اگر پوری طرح نہیں ہیں تو حالات کی سنگینی انہیں ایسا کر نے پر مجبور کر دے گی۔ یہ مجبوری ہے، نواز شریف کو حکومت کے لئے ایک ملک چاہئے۔ سعودی عرب نے انہیںماضی میں صرف پناہ دی تھی، اپنے کسی صوبے کی حکومت پیش نہیں کی ، نہ کوئی اور ملک ایسا کرے گا، پاکستان کے سیاستدانوں کے دل و دماغ میں اگر سیاست اور حکومت کرنے کا خیال سمایا ہے تو وہ صرف پاکستان میں بار آور ہو سکتا ہے، اس لئے اس ملک کی سلامتی کے لئے سبھی کو اکٹھا ہو نا ہو گا، صرف نوازشریف کو نہیں، عمران کو بھی، زرداری کو بھی، الطاف کو بھی، سراج الحق کو بھی، فضل الرحمن کو بھی حتی کہ مولانا زبیر احمد ظہیر کو بھی اور مفتی راغب نعیمی کو بھی۔
ہمارا ہر شہر مقتل بن رہا ہے،قریہ قریہ موت کا راج ہے، میں جانتا ہوں کہ پاکستانی قوم موت سے ڈرنے والی نہیں، موت صرف ایک بارا ٓنی ہے، بار بار موت تو صرف بزدل کو آتی ہے،پاکستانی قوم بہادروں کی طرح جیئے گی اور بہادروں کی طرح جان دے گی۔اس قدر بہادر قوم روئے ارض نے نہیں دیکھی ،چشم فلک نے نہیں دیکھی، سیدناابراہیم علیہ السلام کو حکم ہو اتھا کہ بیٹے کی قربانی پیش کرو، انہوںنے اس فرمان کی تابعداری میں چھری چلا دی، یہ بھی بڑے دل گردے کا کام تھا ، تاریخ نے اسے ذبح عظیم کہا، جبکہ ذبح تو دنبہ ہوا، ہم نے ڈیڑھ سو نونہالوں کی قربانی پیش کی، ان ماﺅں کو سلام جو آج بھی اپنے لخت جگر کی اسکول سے واپسی کی راہ تک رہی ہیں۔ مگر وہ اف تک نہیں کرتیں۔انہوںنے پھولوں جیسے جگر گوشوں کی قربانی دی۔
دشمن کس قدر نادان ہے، اس قوم کو موت سے ڈراتا ہے جو موت کی آرزو سے سرشار ہے۔
لاہور کو مقتل بنانے کے بعد دشمن کف افسوس مل رہا ہو گا۔یہ قوم ہر قربانی کے لئے تیار ہے اور میں اور میرے جیسے دوسرے قلم کارا ور اینکر ہر طعنے کو اعزاز سمجھ کر قبول کرنے کو تیار ہیں۔