ہوتا ہے جادہ پیما! پھر‘ کارواں ہمارا!

کالم نگار  |  خالد احمد

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ کیا آیا کہ ہر چہرہ یُوں کھل اُٹھا گویا یہ تو ہر پاکستانی کے دل میں محفوظ تھا مگر معاملہ عدالت کے رُوبرو ہونے کے سبب محض عدالت کے احترام میں کسی کے لب پر نہیں آ رہا تھا۔
خیر اور شر‘ اچھائی اور برائی‘ مہر و وفا اور کذب و ریا کا فرق دِلوں میں الہام کر دیا گیا ہے اور ہر پاکستانی کے دل میں نصب یہ زلزلہ پیما ”جھوٹ کی چاپ“ ماپ ماپ کر وہی کہہ رہا تھا‘ جسے عدالتِ عظمٰی نے الفاظ کا روپ دے دیا!
ہم‘ 8 اکتوبر 1958ءکے بعد سے آج تک اُسی انداز میں سوچ رہے ہیں اور دل کی بات زبان پر لانے سے محض کیوں کتراتے ہیں کہ ہمیں اُجڈ‘ گنوار اور جاہل سمجھنے والے ہماری لب کشائی ’توہین‘ قرار دے کر ہمیں ٹھوکروں پر نہ رکھ لیں!
امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک بار فرمایا تھا، ’اگر ذاتی کردار ہاتھ سے جاتا رہے تو باپ دادا کے کارنامے کسی کام کے نہیں رہ جاتے!‘
ایک بدعنوان اور رشوت ستان معاشرے میں ’دولت‘ واحد معیار بن جاتا ہے اور ایسے تمام معاشرے ’نظریہ¿ ضرورت‘ پہ استوار ہوتے ہیں کیونکہ ’ذاتی کردار‘ کا تحفظ صرف ’نظریہ¿ قناعت‘ کی فصیلیں اونچی کر کے ہی کیا جا سکتا ہے!
یومِ دین، یومِ تغابن اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے معاشرے میں رشوت ستانی اور بدعنوانی کے لئے معاہدات ایک ’عجوبہ‘ ہونا چاہئے تھے، مگر ہمیں ان معاہدوں کے دفاع میں بھی بڑے بڑے ’لائق فائق‘ حضرات سینہ سپر نظر آتے رہے! حالانکہ یہ لوگ جانتے تھے کہ انسان کسی بھی مذہب کا پیرو ہو اُس کے اعمال کا بار اُسے خود اُٹھانا ہوتا ہے اور ذاتی کردار کا تحفظ اُسے خود ہی کرنا پڑتا ہے! حتٰی کہ اِدھر اُدھر کئے گئے ’مال‘ کا حساب کتاب بھی اُسے آپ ہی رکھنا اور آپ ہی دینا ہوتا ہے! لیکن بھلا ہو ’نظریہ¿ ضرورت کا، کہ اس نے ہماری ہر ’بداعمالی‘ کے لئے لاکھ لاکھ جواز مہیا کر دیئے حتٰی کہ ’بدعنوانی‘ اور ’رشوت ستانی بھی مباح قرار دے دی گئی!
اہلِ نظر جانتے ہیں کہ ’نظریہ¿ ضرورت‘ کے تحت زندگی گزارنے والوں کے پیٹ صرف ’قبر کی مٹی‘ ہی بھر سکتی ہے! اور ’نظریہ¿ قناعت‘ کے تحت زندگی بسر کرنے والے دنیا کی نظر میں کتنے ہی ہیچ ہوں، اپنے خالق کی نگاہ میں بہت بلند ہوتے ہیں!
’قناعت‘ محبت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے کیونکہ محبت محض ایک دوسرے کی طرف دیکھنے اور دیکھتے چلے جانے کا نام نہیں بلکہ ’محبت‘ تو نام ہے مل کر ایک طرف دیکھنے کا! ’حُبِ وطن‘ اپنی ’ذاتی زمین‘ کے تحفظ میں کٹ مرنے کا نام نہیں! یہ تو اُن صحراﺅں کے تحفظ کا نام ہے جہاں صرف ریت اُڑتی ہے اور وہاں چند خانہ بدوش زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں! کہ یہ صحرا ان سے زیادہ لوگوں کی پرورش کا بار اُٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں! انہیں بے کار سمجھ کر تج دینے والی قومیں بالآخر اپنے ہنستے بستے شہر بھی ’دشمن‘ کے حوالے کر دیتی ہیں! یہی حقیقت ہمیں مل کر ایک طرف دیکھنے کا درس دیتی ہے! اور یہی ’حُبِ وطن‘ کہلاتی ہے!
حُبِ وطن‘ کا تقاضا ہے کہ ’حدودِ وطن‘ میں انصاف کا بول بالا رہے! ’اہلِ وطن کے حقوق‘ کے پاسدار شب زندہ دار اور بیدار ہوں!
’حُبِ وطن‘ کا تقاضا ہے کہ ہم آئین اور قانون کی بالادستی کے قائل ہی نہ ہوں بلکہ اُس کے لئے قائداعظمؒ جیسے کردار کا بھی اظہار کریں! فکرِ اقبالؒ کی فکری وسعت کے ساتھ ساتھ قائدؒ جیسی آفاقی بصیرت کے حامل ہوں!
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کا قیام جنوبی ایشیا کی مسلم آبادی کے حقوق کی مسلسل پائمالی اور اُن کے حقوق تسلیم کرنے سے انکار کے تسلسل کا منطقی نتیجہ تھا اور اسی ’منطقی نتیجے‘ پر پردہ ڈالنے کے لئے دنیا کے ’بدترین فسادات‘ کا انتظام کیا گیا تھا! جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان میں غیر مسلم آبادی کی پُرسکون زندگی بھارتی نیتاﺅں کے لئے ’سوہانِ رُوح‘ بن گئی! حال ہی میں بھارتی شودروں کا عیسائیت کے دامن میں پناہ لینے کا عمل ’بھارتی ردِعمل‘ کے طور پر اُنہیں گرجا گھروں کے اندر زندہ جلا دینے کی شکل میں ظاہر ہوا۔ مغربی دنیا کے لوگ، جب ان سانحات کی تحقیق کے لئے بھارت روانہ ہوئے تو وہ ابھی آدھے راستے میں تھے کہ پاکستان میں اسی نوع کے واقعات نے جنم لے لیا اور وہ آدھے راستے سے لوٹ گئے! ان ’واقعات کے انتظام‘ نے اُنہیں مطمئن کر دیا کہ سارا خطہ ہی ایسا ہے! یہاں ’بنیادی حقوق‘ کوئی مسئلہ نہیں، ’جنوبی ایشیائ‘ نہیں ’جنونی ایشیائ‘ ہے!
ہمیں اسی ایک مثال سے سمجھ لینا چاہئے تھا کہ ہمارے ملک میں ’بھارتی ہاتھ‘ کس کس سطح تک کارفرما اور کامیاب ہیں!
پاکستان میں ’بنیادی حقوق‘ کا علم بلند کر کے عدلیہ نے پاکستان کے لئے ایک ’تہذیبی اکائی‘ ہونے کا پرچم نئی بلندی پر اُڑایا تھا اور اب اس ’تہذیبی اکائی‘ کے استحکام کی خاطر اس میں سے ’بدعنوانی‘ اور ’رشوت ستانی‘ کے عناصر بے نقاب کر کے اسے ایک مہذب اور قانون پسند قوم کا درجہ بھی دے دیا ہے! اللّھم زد فزد!