عدلیہ، میڈیا و پاکستان زندہ باد!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

2009ءآخری دموں پر ہے۔ اس سال جتنی بری خبریں ملیں خیال تھا تاریخ میں اسے بھی پاکستان کی بدقسمتی کا سال ہی قرار دیا جائے گا مگر عدلیہ کے ایک فیصلے نے تاریخ بدل کر رکھ دی۔ سو اب یہ بات پورے وثوق پورے یقین پورے دعویٰ سے کہی جا سکتی ہے کہ مورخ 2009ءکو پاکستان کی تاریخ کا بہترین سال قرار دیں گے۔ البتہ ان کے لئے یہ یقیناً بدترین سال ہے جنہوں نے اس ملک کو دو دو ہاتھوں سے کئی کئی بار لوٹا اب بھی اسی ”محاذ“ پر تھے۔ ان کا خیال تھا اقتدار اب کے بار بھی ان کے لئے سونے بلکہ ہیرے کی کان ثابت ہو گا۔ اب کے بار بھی ویسی ہی ”انھی“ ڈالیں گے جیسی ماضی میں ڈالتے رہے۔ جس کی بنیاد پر کوئی دوسرے بڑے نمبر کا دولت مند بن گیا تو کوئی تیسرے بڑے نمبر کا۔ افسوس اب کے بار ان کے سارے نہیں تو بہت سے ”حسین خواب“ بکھر کر رہ گئے اور سچی بات ہے یہ ایک ”خواب“ کی طرح لگتا ہے!
چند برس قبل حکمران وقت کے سامنے بات کرنے کا موقع ملا تو عرض کیا ”آپ انقلاب کی بات کرتے ہیں، جس ملک کے عوام ہم جیسے ہوں، حکمران آپ جیسے ہوں وہاں انقلاب نہیں عذاب آتے ہیں“ عذاب ہم پر بہت آئے کبھی سیلابوں کبھی زلزلوں کبھی اقتدار پسند جرنیلوں، کبھی ان جیسی ذہنیت رکھنے والے سیاسی حکمرانوں اور کبھی پی سی او ججوں کی صورت میں۔ شرمندگی سے میرا سر جھک گیا تھا جب ایک برطانوی قانون دان نے چند برس قبل مجھ سے کہا ”سنا ہے اپنے کیسوں کے لئے آپ کے ہاں وکیل کرنے کے بجائے لوگ ڈائریکٹ جج کر لیتے ہیں“ اللہ کا شکر ہے اب کوئی غیر ملکی قانون دان کم از کم پاکستان کی سپریم عدلیہ کے بارے میں ایسے ریمارکس نہیں دے سکتا اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کی سرپرستی اور سربراہی میں عدلیہ نے خود احتسابی کا عمل جاری رکھا تو پھر شاید ایسا وقت بھی آئے کہ پاکستان میں لوگوں کو اپنے کیس لڑنے کے لئے وکیلوں کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوا کرے!
یہ کہنا بالکل غلط نہیں پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل عذابوں سے گزرا۔ جتنی قیامتیں اس ملک اور اس کی ”کروڑوں بھیڑ بکریوں“ پر ڈھائی گئیں شاید ہی کسی اور ملک کے حکمرانوں نے اپنے عوام پر ڈھائی ہوں گی۔ عوام شاید تھے بھی اس قابل۔ حکمران اور عوام ایک جیسے ”اوصاف“ کے مالک ہوں تو صرف حکمرانوں ہی کو ”باعث عذاب“ قرار دینا بھی درست نہیں اور پھر نبی پاک کے اس فرمان کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ ”جیسے عوام ہوں گے ان پر ویسے ہی حکمران مسلط کر دئیے جائیں گے“ شکر ہے عوام پہلے جیسے نہیں رہے اور اگر عوام پہلے جیسے نہیں رہے تو حکمران بھی پہلے جیسے انشاءاللہ نہیں رہیں گے۔ سو کل تک جن کی آنکھوں میں کرب کے آنسو تھے، اب خوشی کے ہیں۔ اللہ ہمیں نظر بد سے بچائے اور امیدوں امنگوں اور آرزوﺅں کے جو پھول بہت دیر بعد کھلے ہیں دیر تک کھلے رہیں۔ قانون کی حکمرانی کا آغاز ہوا ہے تو اختتام نہ ہو۔ خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے، وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو“ یہاں جو سبزہ کھلے وہ ہمیشہ سبز رہے، اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے، حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو .... صد شکر جناب احمد ندیم قاسمی نے جو ”منظوم دعا“ مانگی تھی اب قبول ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے!
ماضی میں ہم جب خود کو ”زندہ قوم“ کہتے تھے تو دنیا ہم پر ہنستی تھی۔ اس لئے کہ وہ قوم ”زندہ“ کیسے ہو سکتی ہے جس کے ضمیر مردہ ہوں؟ جس کے سیاستدان جس کے جرنیل جس کے جج اس کے سامنے ناانصافی، ظلم، دھونس، دھاندلی، اقربا پروری، قانون شکنی اور بددیانتی کی انتہا کر دیں اور وہ تماشہ دیکھتی رہے؟ جس کا ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے اس کے باوجود سبق نہ سیکھے؟ بار بار آزمائی ہوئی ”سیاسی چمگادڑوں“ کو جو آزماتی چلی جائے؟ جو اندھی بہری گونگی ہو اور دعویٰ کرے اسے سب سنائی دیتا ہے، سب دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ”زندہ قوم“ پر دنیا ہنستی تھی تو ٹھیک ہی ہنستی تھی۔ مگر اب قوم کا تمسخر نہیں اڑایا جا سکتا کہ اس کے کان بھی کھل چکے ہیں آنکھیں بھی۔ وہ زبان بھی جس کے مسلسل بند رہنے سے سیاسی و فوجی حکمرانوں نے آدھے سے زیادہ ملک کو باپ کی جاگیر سمجھ کر بانٹ لیا تھا اور باقی بانٹ لینے کی کوششیں جاری تھیں کہ جاگے ہوئے عوام کی عدلیہ نے ان کے سامنے ایسی دیوار کھڑی کر دی جسے ڈھانا تو درکنار اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھی اب انہیں نانی یاد آئے گی!
چند ماہ قبل پاکستانی قانون کو گھر کی لونڈی سمجھا جاتا تھا کوئی کہہ سکتا تھا ایسا وقت بھی آئے گا پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے سامنے ہر قسم کی حکمرانیاں ماند پڑنے لگیں گی؟ ہمیں تو وہ وقت بھی یاد ہے افغانستان کے وزیر ریلوے پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم سے ان کا تعارف کروایا گیا۔ افغانی وزیر سے ہاتھ ملاتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے حیرانی سے پوچھا ”افغانستان میں تو ریلوے ہوتا ہی نہیں آپ ریلوے کے وزیر کیسے ہو گئے؟ وزیر بولا ”سر آپ کے ہاں بھی تو وزیر قانون ہوتا ہے .... اللہ کا شکر ہے کہ اب دنیا کا کوئی وزیر ہم پر ایسی پھبتی نہیں کس سکتا جس ملک کا نظام عدل ٹھیک ہو اس کے باقی سارے نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ نظام عدل سے خوشبو آنا شروع ہوئی ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا دوسرے نظام بدبودار رہیں۔ بس یہ ہے عوام اب جاگتے رہیں ذرا سی اونگھ انہیں دوبارہ اس مقام پر پہنچا سکتی ہے جس سے ان کی جان مشکل سے چھوٹی ہے!
یہ جو آج ایک ”انقلابی منظر“ ہمارے سامنے ہے تو اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ میڈیا کو جاتا ہے۔ مجھے اجازت دیجئے تو عرض کروں میڈیا نے ایک نئے پاکستان کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل یہ صرف ان جرنیلوں، جرنلسٹوں، ججوں اور سیاستدانوں کا پاکستان تھا جن کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا ”لٹو جی تے پھٹو جی“ میڈیا پوری طرح نہ جاگتا تو عوام بھی ”نیرو“ کی بانسری کی ”مدھر دھنوں“ پرکھوئے اور سوئے رہتے۔ ممکن ہے پھر ایسی ”جرات انکار“ بھی نہ ہوتی جو ایک انقلاب کی بنیاد بن گئی۔ ماضی میں میڈیا کا کردار یقیناً قابل فخر نہیں رہا ”سیاسی تاجروں“ نے ”لفافہ صحافت“ کا نظام متعارف کروایا تو اس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کم نہ تھی۔ یہ درست ہے پاکستان کو زخمی کرنے میں کچھ اہل صحافت نے بھی پورا حصہ ڈالا مگر اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا پاکستان کے زخموں پر مرہم بھی اب میڈیا نے ہی رکھا ہے۔ پاکستان پھر سے پیروں پر کھڑا ہو گیا تو اس کا سہرا میڈیا اور عدلیہ کے سر پر ہی بندھے گا۔ کاش اس میں کچھ حصہ ان سیاستدانوں کا بھی ہوتا وطن سے محبت کے نام پر جنہوں نے ساری زندگی سوائے منافقت کے کچھ نہیں کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے مگر لوٹ مار کی یہ آخری قسط ہے.... دو دو تین تین باریاں لینے والے یاد رکھیں اب صرف عوام کی باری ہے۔ وہ عوام جو باسٹھ برسوں تک گہری نیند سوئے رہے اب اٹھے ہیں تو اقتدار کے ہوس پرستوں کے ہاں ایک سوگ برپا ہے۔ عوام کی نظروں سے گرنے والو! ایک شعر سنو!....
گر جائے تو مٹی میں مل جاتا ہے
آنسو ورنہ آنکھ کا گہنا ہوتا ہے!