شہباز شریف کے خواب مگر تعلیمی انقلاب

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

شعبہ تعلیم کے لئے شہباز شریف کے اقدامات ان کی تقریروں کی طرح انقلابی لگتے ہیں۔ تقریر اور تقدیر میں فرق ہے۔ حکمران سیاستدانوں میں اس وقت شہباز شریف زبردست تقریر کرتے ہیں۔ مگر ان کے بڑے بھائی اور قائد نواز شریف کے لئے یقین والے سکالر، خطیب ادیب اشفاق احمد نے کہا تھا کہ وہ مجھے اچھے لگتے ہیں کہ انہیں تقریر کرنا نہیں آتی مگر اب انہیں بھی کچھ تقریر کرنا آ گئی ہے اور وہ وہی سیاستدان ہو گئے ہیں جو پاکستان میں ہوتے ہیں۔ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی سے بڑے مقرر ہیں۔ ایسے میں وہ انقلابی تو لگتے ہیں دانشور بھی لگتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر لگتے ہیں اور حکمران تو بہت لگتے ہیں مگر....؟ اور اس کے ساتھ اگر بھی ہے اگر کے ساتھ جس کا جو جی چاہے لگا لے۔ چینی کے مسئلے میں بھی وہ بہت سرگرم ہوتے تھے۔ لوگوں کی پریشانی تو دور نہ ہوئی مگر انہوں نے یہ تو دیکھا کہ ان کا وزیر اعلیٰ بھی بڑا پریشان ہے۔ وہ قطاروں میں لگے ہوئے اپنی ذلت اور اذیت کو بھول گئے اور یہ بھی بھول گئے کہ چینی مافیا کے لئے اربوں روپے کی سبسڈی اگر عام لوگوں کو ملتی تو چینی کا مسئلہ اتنا نہ بگڑتا۔ حکومتی مراعات بھی معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے کو ملتی ہیں۔
تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے طالب علموں میں اعزاز اور عزت تقسیم کرنے کی شاندار تقریب میں صوفیہ بیدار نے کہا کہ سکولوں کے استادوں کو چینی فروخت کرنے پر لگایا دیا گیا ہے۔ طالب علموں کے ساتھ ساتھ استادوں کو بھی مقام اور احترام دیا جائے۔ صوفیہ نے کہا کہ یہ لوگ حساب دل و جاں کے لئے ہوتے ہیں۔ کاروبار عشق کرنے والوں کو کس کام پر لگا دیا گیا ہے۔ یہ بھی بیورو کریٹس کی کارروائی ہو گی کیونکہ انہوں نے اس طرح کی کارروائیوں سے ملک کو اس حال میں پہنچایا ہے۔ ہر طرح سے بدحال معاشرت کو ہر طرح سے بحال کرنے کا مطالبہ شہباز شریف کرتے رہتے ہیں مگر بیورو کریسی جو اصل میں برا کریسی ہے۔ یہ کبھی چنگا نہ کریسی۔ کبھی کسی پوزیشن ہولڈر نوجوان کا پتہ نہیں چلنے دیا گیا۔ پوزیشن شاید یہ ہے کوئی سی ایس ایس میں کامیاب ہو کر بیورو کریسی میں برا کریسی کا حصہ بن جائے۔ تقریب میں ایک سابق بیورو کریٹ ڈاکٹر صفدر محمود نے اچھی تقریر کی۔ ایسی تقریر کرنا افسروں کا شیوہ نہیں۔ سابق افسر ہو کر بھی وہ علمی ادبی معاملات کو غیر افسرانہ کام سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں سے کام لینا تو ممکن ہے۔ ان سے اچھا کام لینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ اپنے پہلے دور حکومت میں شہباز شریف نے ان سے جو کام لیا تھا۔ وہ بھی اب نہیں لے سکے۔ تعلیمی روایت کبھی قومی حکایت نہیں بنے گی۔ طالب علموں کو واقعی ایک عزت ملی مگر توفیق بٹ کی اس بات کا جواب کس کے پاس ہے کہ کیا اس کے بعد بھی افسران اور حکمران ان بچوں کی اسی طرح پذیرائی کرتے رہیں گے۔ بڑے بڑے پروفیسروں کو ان کے شاگردوں کے شاگرد ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن کے دفتر کے سامنے منتظر کھڑے دیکھا گیا ہے۔ یہ افسرانہ کلچر کب تبدیل ہو گا؟ اس محفل میں افسران ایک معذور نوجوان کو اٹھا کے سٹیج پر لا رہے تھے اور تھلسیمیا کی مریضہ بچی کے پیچھے پیچھے چلے آ رہے تھے۔ شہباز شریف یہ کریں کہ آئندہ بھی ایسا ہی مظاہرہ ہو۔ شہباز شریف نے طالب علموں سے بڑا پیار کیا۔ وہاں ہمیں سیکرٹری ایجوکیشن نظر نہ آیا۔ وہ وہاں ہو گا مگر اپنی افسری کے حصار میں ہو گا۔ سیکرٹری انفارمیشن شعیب بن عزیز ہرطرف تھا۔ وہ تخلیقی آدمی ہے۔ اہل اور اہل دل افسر.... مگر افسری اور نوکری میں فرق نہیں سمجھتا۔ وہ واقعی سچا افسر ہے پکا پروفیشنل، شہباز شریف کے پہلے دور اور اب کے دور میں اس کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں اس کے درمیان چودھری پرویز الٰہی کے دور میں شعیب بن عزیز کے خیالات میں تبدیلی نہ آئی۔ البتہ اس کے حالات چودھری صاحب کے زمانے میں بدلے۔ تقریب میں شہباز شریف نے اشعار پڑھنے سے پہلے کہا کہ مجھے شعیب بن عزیز گھور رہا ہے۔ شکر ہے کہ کوئی تو ہے جو شہباز شریف کو گھور سکتا ہے۔ یہ کام شعیب بن عزیز نہیں کر سکتا اور شاعر شعیب بن عزیز تو بالکل ہی نہیں کر سکتا۔ عطاءالحق قاسمی نے اس کے علاوہ بھی اشعار لکھے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اشعار یاد ہو جاتے ہیں یاد کئے نہیں جاتے البتہ اس موقع پر اشعار برمحل تھے۔ انقلاب کے لئے جن کو کوشش کرنا چاہئے وہ بھی ہماری طرح صرف خواہش ہی کرتے ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد شعبہ¿ تعلیم کے افسروں نے ایک ٹیکنیکل تقریب کی شاید شہباز شریف کے ارادوں کو رسمی یعنی افسرانہ کارروائی اس طرح بنایا جا سکتا ہے یہاں راجہ انور کے ساتھ گفتگو ہوئی میں اس کی شخصیت میں وہ زمانہ تلاش کرتا رہا۔ جو پنجاب یونیورسٹی میں ہم نے اکٹھا گزارا تھا۔ وہ بھٹو کا عاشق تھا اور پرویز رشید بھی۔ میرے دل میں اس عشق کی چنگاری بجھی نہیں۔ وہ ممبر اسمبلی بنتا مگر ایک ٹاسک فورس کا چیئرمین بن گیا۔ جو نہ فورس ہے نہ اس کے سامنے کوئی ٹاسک ہے۔ یہ سمجھ نہیں آئی کہ اتنی ٹاسک فورسیں کیوں بنائی گئیں اور ان میں غیر متعلق اور نااہل لوگوں کو لگایا گیا۔ اگر اپنی ٹاسک فورس میں راجہ انور کو کچھ کرنے نہیں دیا گیا تو دوسرے لوگ تو کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ابھی کسی ٹاسک فورس کی طرف سے کسی کارکردگی کی خبر نہیں آئی۔ راجہ انور کی ٹاسک فورس کے اس اجلاس میں مایوسی ہوئی جبکہ میں آج بھی راجہ صاحب کا قائل ہوں۔ ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ جیسی کتاب لکھنے والا آدمی دیکھ رہا ہے کہ ان دونوں جیلوں میں رہنے والے پہلے کی طرح ذلیل ہو رہے ہیں۔ تعلیمی نظام بدنظمی کا شکار ہے اور حکمران انقلاب کے صرف خواب دیکھتے ہیں۔
ان محفلوں میں محترمہ سائرہ افضل تارڑ بھی ہوتی ہیں۔ احسن اقبال بہت دیر سے آئے اور معذرت بھی نہ کی اس نے بیورو کریٹس کی اس محفل میں انگریزی میں تقریر کی کہ کارروائی اور کمپیئرنگ انگریزی میں تھی۔ یہ ظلم بھی ہے جو بیوروکریسی نے کیا ہے محفل میں موجود لوگ سکول ایجوکیشن سے تھے تو آدھے سے زیادہ اس سے بے تعلق تھے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ ہمیں انگریزی زبان نے قوم نہیں بننے دیا۔ ترک وزیر اعظم آیا وہ ہمارے وزیر اعظم سے بہت اچھی انگریزی جانتا ہے مگر وہ ترکی میں بات کرتا رہا اور مخدوم گیلانی کو انگریزی اچھی نہیں آتی مگر وہ انگریزی بولنے کے کمپلکس سے نہیں نکلتے اور اپنا مذاق اُڑواتے ہیں۔ صدر زرداری بھی معمولی انگریزی بولتے ہیں مگر بولتے ہیں۔ احسن اقبال کا رویہ بھی افسرانہ تھا اور یہ غرور سیاست بھی دل میں تھا کہ مجھے انگریزی آتی ہے۔ میں انگریزی کے خلاف نہیں مگر قومی زبان کے مقابلے میں انگریزی کے خلاف ہوں۔ راجہ انور نے اردو میں بہت خوبصورت گفتگو کی سب لوگوں نے صرف اسے سنا!