گوالمنڈی تا لندن

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
گوالمنڈی تا لندن

کلثوم بٹ لاہور میں 1950ءمیں ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1970ءمیں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم صاحبہ کے دو بہن بھائی ہیں۔ کلثوم نواز اورمیاں محمد نواز شریف میں پسند کی شادی ہوئی۔کلثوم نواز معروف سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی صدر بھی رہی ہیں، اس سے پہلے ان کے شوہر نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان اور ایک مرتبہ وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ پہلوان گاما کی نواسی بھی ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں جن میں حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور عصمہ نواز ہیں۔ عصمہ نواز پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی اہلیہ ہیں۔کلثوم نواز شریف خاندان میں ایک بائینڈنگ فورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کا ہاتھ تھا، بچوں اور خاص طور پر مریم نواز کی ان کے ساتھ گہری قربت ہے۔ بیرونِ ملک کاروبار کے حوالے سے بھی پہلی بار انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کا خاندان ملک سے باہر کاروبار کرے گا۔نواز شریف کی اہلیہ ہونے کے باوجود بیگم کلثوم نواز کے لیے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کا انتخاب جیتنا آسان نہ ہو گا۔یہ ایک ایسا حلقہ ہے جو نظر انداز رہا ہے .لوگ ناراض ہیں۔شریف فیملی سے ان کے گلے شکوے ہوں گے۔میاں نواز شریف نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے 91,000 ہزار سے کچھ زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کی مدِ مقابل پاکستان تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 50,000 ہزار سے زائد ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ میاں شہباز شریف کی موجودگی میں بیگم کلثوم نواز کا انتخاب فیملی فیصلہ ہے جبکہ سیاسی اعتبار سے یہ فیصلہ رسک دکھائی دیتا ہے۔ بیگم کلثوم نواز بہادر اور سمجھدار ہیں مگر ان کا سیاست سے براہِ راست سامنا بہت کم عرصے پر محیط ہے اور پاکستان کے مردوں کے معاشرے میں ان کے لیے نظام چلانا بہت مشکل ہو گا۔صحت کے اعتبار سے بھی کلثوم نواز کے لئے متحرک رہنا مشکل ہو گا۔ ضمنی الیکشن سے پہلے طبی معائنہ کے لئے لندن جانا بھی اس بات کی تصدیق ہے کہ بیگم کلثوم سیاسی و حکومتی ذمہ داریوں کی متحمل نہیں رہیں۔بیگم کلثوم نواز برسوں سے ہڈیوں کی تکلیف میں مبتلا ہےں۔ امریکہ اور لندن میں آپریشن اور دیگر طبی علاج بھی کرا چکی ہیں۔ مریم بیٹی کو سیاست میں لانے میں والدہ کا ہاتھ ہے۔ کلثوم نواز کی صحت آرام کی متقاضی ہے۔ لیکن اپنے شوہر اور اولاد کے علاوہ کسی اور کو حلقہ 120 کی سیٹ دینے پر رضامند نہیں ورنہ نواز شریف بھائی شہباز شریف کو حلقہ 120 سے الیکشن لڑانے کا اعلان کر چکے تھے جو انہیں فیملی دباﺅ پرواپس لینا پڑا۔کلثوم نواز کے مد مقابل تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور کالج سے ایف ایس سی کیا۔فاطمہ میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بنیں۔ گائنی کولوجسٹ ہیں۔ ان کے سسر ایجوکیشن منسٹر تھے۔ڈاکٹر یاسمین فاطمہ میڈیکل کالج کی صدر بھی رہیں۔ٹیبل ٹینس کی پنجاب کی نمبر ون اور پاکستان کی نمبر ٹو کھلاڑی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔میڈیکل کی تعلیم شادی کے بعد بھی جاری رکھی۔ بچے دوران تعلیم پیدا ہوئے۔شادی، بچے، گھر داری، سپورٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے باوجود میڈیکل میں نمبر ون سٹوڈنٹ رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے ان کو ہرایا گیا اور ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی متوقع ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی این اے 120سے نامزد امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے یوسی 59 میں پارٹی رہنماﺅں کے ہمراہ ڈور ٹو ڈور کیمپین کی اور ہر ووٹر کے گھر جا کر پمفلٹ دئیے اس موقع پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو ملکی اعلیٰ ترین عدالت کے پانچ ججوں نے نا اہل کیا ، شریف خاندان چوری میں پکڑا گیا ، نواز شریف للکار کر کس کو آوازیں دے رہے ہیں۔ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ اقامے کی ضرورت کیوں پڑی ، نواز شریف ایک دفعہ پھر سپریم کورٹ پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں ، پہلے بھی (ن) لیگ سپریم کورٹ پر حملہ کر چکی ہے۔ این اے 120 پاکستان کا پسماندہ ترین علاقہ ہے ترقی روکنے کا شور کر رہے ہیں ترقی ہوتی تو نظر آتی۔ این اے 120کی عوام کا ووٹ تاریخی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔۔۔۔۔حلقہ 120 سے ایک سروے کے دوران شہریوں کا کہنا ہے کہ ا یک طرف عدلیہ اور فوج پر جمہوریت کے خلاف

سازش کا الزام لگایا جاتا ہے، ملک کے محترم اور حساس اداروں کے خلاف پنڈی سے لاہور تک ریلی نکالی جاتی ہے اور دوسری طرف اسی عدلیہ میں نا اہلیت پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی جاتی ہے؟ جعلی کاغذات جمع کرانے کی سزا سات سال ہے۔ عدلیہ نے سابق وزیر اعظم کے خاندان سے شفقت برتی ہے۔میاں نواز شریف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان کا اپنا حلقہ بھی ان کی زیارت و ملاقات و نوازشات سے محروم رہتا ہے لیکن ووٹ لینے کا موقع ہو تو حلقہ کی یاد آجاتی ہے۔ ووٹ گوالمنڈی دا تے علاج لندن دا۔
٭....٭....٭....٭....٭....٭