مجھے دکھ محض ایک قتل کا نہیں

کالم نگار  |  نصرت جاوید
مجھے دکھ محض ایک قتل کا نہیں

20سے زیادہ برس میں نے پاکستان کے بھارت،افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سے جڑے معاملات کی رپورٹنگ پر صرف کئے ہیں۔محض تجربے کی بناءپر ہی نہیں بلکہ چند ٹھوس معلومات کی بدولت مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مشیر برائے قومی سلامتی-جنرل میک ماسٹر-کا موجودہ دورئہ جنوبی ایشیاءبہت اہمیت کا حامل ہے۔ میرے بس میں ہو تو اس دورے کے تمام پہلوﺅں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کے بعد ایک نہیں کئی کالم لکھتا چلاجاﺅں۔

منگل کی صبح چھپے کالم میں کوشش کی تھی کہ میک ماسٹر کے دورے کو پاکستانی معیشت کی مشکلات کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے۔اس حوالے سے ٹیلی فون پر ہوئی وہ گفتگو بھی بہت اہم ہے جو جمعہ کے روز جنوبی ایشیاءروانہ ہونے سے پہلے جنرل میک ماسٹر نے ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ کی تھی۔ پیر کے روز ہمارے وزیر خزانہ کی میک ماسٹر کے ساتھ ا ٓئے اس اعلیٰ سطحی افسر سے اکیلے میں تفصیلی ملاقات بھی ہوگئی ہے جو عارضی طورپر امریکی حکومت کے لئے پاک-افغان تعلقات پر نگاہ رکھتا ہے۔
ڈار صاحب آئندہ ہفتے واشنگٹن میں موجود ہوں گے۔مقصد ان کے اس دورے کا عالمی بینک کے حکام سے ملاقاتیں ہے۔ عالمی بینک مگر قرض یا مدد کے لئے اپنی مٹھی کھولنے سے پہلے وائٹ ہاﺅس سے Go Aheadوالے اشاروں کا انتظار کرتا ہے اور یہ اطلاع بھی آچکی ہے کہ ورلڈ بینک کے حکام سے تفصیلی ملاقاتوں کا راﺅنڈ شروع کرنے سے قبل ہمارے وزیر خزانہ جنرل میک ماسٹر کے ساتھ ا یک اور ملاقات کریں گے۔
پاکستانی وزیر خزانہ،امریکی مشیر برائے قومی سلامتی اور ورلڈ بینک کے حکام کے مابین رابطوں پر توجہ دیتے ہوئے میرے لئے یہ بات بھی یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز ہی امریکی فوج نے پاکستانی سرحد کے بالکل قریب افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایک دشوار گزار پہاڑی مقام پر ایک ہولناک بم گرایا ہے۔تقریباََ جوہری ہتھیاروں جیسی قوت کا حامل یہ بم ”تمام بموں کی ماں“ کہلاتا ہے۔ یہ جہاں گرے وہاں ایک ہزار گز کے دائرے میں موجود علاقے میں مکمل تباہی پھیل جاتی ہے۔
امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے تاریخ میں پہلی بار یہ بم گرانے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کیونکہ داعش نے صوبے ننگرہار کے ایک قصبے اچین میں زمین دوز سرنگیں بنالی تھیں۔ان سرنگوں کو ایک فوجی مرکز کی صورت استعمال کیا جارہا تھا۔امریکی فوج انہیں روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے ختم نہیں کرسکتی تھی۔ان سرنگوں پر زمینی حملہ دوبدولڑائی میں کئی امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بھی ہوسکتا تھا۔فضاءسے ان سرنگوں پر ”بموں کی ماں“ کو گرانے کے علاوہ کوئی راستہ ہی باقی نہیں بچا تھا۔فوجی امور کے چند ماہرین البتہ اصرار کررہے ہیں کہ ”بموں کی ماں“ کو گراکر محض یہ دیکھنا مقصود تھا کہ وہ کتنا مو¿ثر ثابت ہوسکتا ہے۔سابق افغان صدر حامد کرزئی اسی لئے تو اچانک بہت ”قوم پرست“ ہوکر دہائی مچارہا ہے کہ اس کی سرزمین کو خوفناک ہتھیاروں کی حقیقی قوت جاننے کے لئے ”تجربہ گاہ“ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
چند ماہرین کا اگرچہ خیال یہ بھی ہے کہ افغانستان میں گزشتہ جمعہ کے روز ننگرہار کے ایک مقام پر ”بموں کی ماں“ کا گرایا جانا درحقیقت شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک کے لئے ایک پیغام تھا۔ مقصد اس کا ان دو ممالک کو یہ بتانا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے ایٹمی پروگراموں کو جاری رکھا تو ”بموں کی ماں“ کے استعمال کے ذریعے سرنگوں میں موجود ان کے جوہری اثاثوں اور تجربہ گاہوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔دفاعی ماہرین کا ایک اور قابل اعتبار گروہ مگر شمالی کوریا اور ایران کو پیغام دینے والی توجیہہ سے اتفاق نہیں کرتا۔ اس کا خیال ہے کہ ان دونوں ممالک تک فوجی طیاروں کے ذریعے سرعت کے ساتھ ”بموں کی ماں“ کا پہنچانا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ثابت ہوگا۔
ان ماہرین کا یہ تجزیہ سن کر نہ جانے کیوں میرے وہمی دل کو یاد آگیا کہ مئی 2011ءکی پہلی رات امریکی طیارے افغانستان سے پرواز کرکے ہمارے ایبٹ آباد تک پہنچ گئے تھے۔ ان طیاروں میں موجود کمانڈوز نے اس شہر کے ایک گھر میں کئی برسوں سے بیٹھے اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا اور اس کی لاش اپنے ہمراہ لے کر چلے گئے۔ ہمیں اس آپریشن کی خبر بعد از وقوعہ ملی تھی۔
وہ تلخ واقعہ یاد کرتے ہوئے میرے وہمی دل میں کئی سوالات اُٹھے۔میں ان سوالات کو آپ سے بیان کرنے کی جرا¿ت سے محروم ہوں۔اپنے ایمان کی کمزوری عیاں نہیں کرنا چاہتا۔خوف مجھے یہ بھی ہے کہ انتہائی جہالت پر مبنی یہ سوالات میں نے بھول پن میں اٹھادئیے تو مجھ پر یہ الزام بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مجھے پاکستان کے دفاع کے ناقابل تسخیر ہونے کا یقین نہیں ہے۔کچھ صاحبِ ایمان وطن پرست ان سوالات کو بیان کرنے کے بعد مجھے دشمن کا ایجنٹ بھی ثابت کرسکتے ہیں جو بقول ان کے قوم میں مایوسی پھیلانے پر مامور کیا گیا ہے۔
میرے دل ودماغ تو گزشتہ جمعرات کی سہ پہر سے ویسے ہی سوالات اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔اس روز مردان یونیورسٹی کے ایک بڑبولے طالب علم مشال کو انسان دِکھتے بھیڑیوں کے ایک ہجوم نے گستاخ قرار دے کر گھونسوں،ٹھڈوں اور ڈنڈوں کی برسات کا نشانہ بنایا۔بالآخر مشال کے سرمیں گولی مارکر اسے یونیورسٹی کے ہاسٹل کی دوسری عمارت سے نیچے پھینک دیا گیا۔زمین پر منہ کے بل اوندھی لٹائی اس کی لاش کو پھر نوچ نوچ کر برہنہ کیا گیا۔اس برہنہ لاش کے قریب چند نوجوان پہنچ کر انتہائی ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اسے ٹھڈے مارتے ہوئے موبائل فونوں سے سلفیاں لینے میں مصروف رہے۔ ان میں سے کئی ایک نے نہ جانے کیوں مجھے یہ سلفیاں بھیجیں۔ میں انہیں دیکھ کر کانپ گیا۔ چنگیز خان کے حملوں کے دوران اس کے لشکر کسی علاقے کو فتح کرنے کے بعد وہاں کے باسیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک اختیار کیا کرتے تھے۔میں نے ان کا ذکر مگر تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے۔لاشوں کو برہنہ کرنے کے بعد ان کی بے حرمتی کے واقعات قیامِ پاکستان کے وقت بھی ہوئے تھے۔ذکر ان کا مگر صرف اپنے بزرگوں سے سنا۔میری زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ میرے اپنے ہی ملک کے بچے اپنے ہی ایک ساتھی طالب علم کی برہنہ لاش کے ساتھ ایسی درندگی اختیار کرتے ہوئے نظر آئے۔
ایک باپ ہوتے ہوئے اپنی آئندہ نسلوں کے بارے میں فکر مند ہونا میری مجبوری ہے۔یہ سلفیاں دیکھیں تو دل کانپ اُٹھا۔ اپنے ٹی وی پروگرام میں اس کا ذکر کیا تو Liveکالوں کے ذریعے کئی لوگوں نے انتہائی درشت لہجے اور سخت الفاظ میں مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان میں روزانہ”سینکڑوں“ قتل ہوتے ہیں۔ میں ”صرف ایک قتل“ کے بار ے میں اتنی دہائی کیوں مچارہا ہوں۔کوئی سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ مجھے دُکھ محض ایک قتل کا نہیں درحقیقت اس رویے پر ہے جو مشال کو ماردینے کے بعد اس کی برہنہ لاش کے گرد وحشی درندوں کے غول کی صورت اپنایا گیا تھا۔اپنی بات سمجھاسکنے کی صلاحیت کھودینے کے بعد میں لکھوں تو کیا لکھوں۔