شعور کا قتل۔۔۔۔۔

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
شعور کا قتل۔۔۔۔۔

جی ہاں مشال خان کا واقعہ میرے دل و دماغ پر بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ کالم لکھنے بیٹھوں تو مشال سراپا سوال بن کر میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ پوچھتا ہے ماں میرا قصور تو بتا؟ با شعور اور بیباک ہونا قصور تھا تو میں نے پاکستان پیدا ہو کر جرم کیا؟ مجھے محمد مصطفی صلی وسلم کے دور میں پیدا ہونا چاہیے تھا کہ نہ میرے سوال ہوتے اور نہ میں قتل ہوتا۔ سوال ہوتے اور آقا مسکرا کر جواب فرماتے۔ مجھے اپنے قدموں میں بیٹھنے کی جگہ فرماتے۔ لیکن ماں یہ کیا ہوا؟ مجھے آقا کے نام پر آقا کی امت نے پیروں سے روند ڈالا؟ مشال میرے بیٹے اب تو منافق معاشرے سے آزاد ہو چکا۔ مشال کی صورت سے بدن پر لرزا طاری ہو جاتا ہے اور کہتی ہوں مشال بچہ آقا سے ہماری شکایت نہ کرنا ورنہ ہم ان کی ٹھوکر کے قابل بھی نہیں رہےں گے۔ ہم عاشق رسول ہیں۔ ہمارا بھرم رہنے دینا۔۔۔۔۔ یہ ایک قتل یا ایک واقعہ نہےں۔ یہ واقعہ ایک اسلامی ریاست میں اسلام کو بدنام کرنے کی ایک مکروہ سازش ہے۔ پاکستان کے ایک با شعور جینئس نوجوان کا قتل ہے۔ مشال خان کا قتل درحقیقت شعور کا قتل ہے اور اس المناک سانحہ پر حکمرانوں اور سیاستدانوں کی خاموشی سیاسی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ ووٹوں کی خاطر سب بدمعاشوں سے ڈرتے ہےں۔ الیکشن میں ووٹوں کے لئے کسی مذہبی جماعت یا مسلک سے مخالفت مول لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ مشال خان کا بہیمانہ قتل خیبر پختون خواہ کی مشہور زمانہ تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مشال خان کا قتل نواز شریف حکومت کی بے عملی کا ثبوت ہے۔ تحریک انصاف کا نیا کے پی کے بن چکا اب نیا پاکستان بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے لے کر پورے ملک میں نیا پاکستان کا نعرہ عمران خان نے لگایا۔ تبدیلی کا دعوی عمران خان نے کیا۔ پنجاب کے تعلیمی ادارے دہشت گردی کا اکھاڑا بنیں تو پرانا پاکستان بدنام ہوتا ہے لیکن پختون خواہ کی سات یونیورسٹیاں بغیر ڈرائیور یعنی وائس چانسلر کے چل رہی ہیں۔ ہم ولی خان یونیورسٹی گئے تھے۔ شعبہ قانون میں مستحق طالبات کو وظائف دینے کے لئے انتظامیہ موجود تھی لیکن وائس چانسلر کی کرسی خالی ہونے کے سبب معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ مشال خان کے والد نے بتایا کہ عمران خان یا ملک اور صوبے سے کوئی مذہبی یا سیاسی شخصیت تعزیت کے لئے ان کے پاس نہیں آئی۔ مشال خان کا شعور اس کی جان لے گیا۔ توہین رسالت یا گستاخی اسلام اور عقل و شعور کا استعمال مختلف معاملات ہیں۔ مشال مرحوم کا قتل حسد کی بنیاد پر کیا گیا۔ مشال کی علمی و شعوری سرگرمیاں اور معمولات بتاتے ہےں کہ یہ خوبرو دلیر نوجوان جینیس تھا اور جینیس افراد کا شعور انہیں مضطرب رکھتا ہے۔ شعور سوالات کرتا ہے۔ خالق نے انسان کو ڈفر یعنی بند ذہن یا کند ذہن پیدا نہےں کیا۔ خالق نے انسان کو عقل و شعور سے نوازا اور پھر فرشتوں سے فرمایا کہ اس نے انسان کو عقل شعور عطا کیا ہے جو باقی جانداروں کو عطا نہےں کیا گیا۔ بند دل و دماغ سے خالق کی پرستش نہیں کی جا سکتی۔ خدا نے سوچنے سے منع نہیں فرمایا۔ خدا اور اس کے دین کو سمجھ کر قبول کرنے کا نام شعور ہے۔ برین واشنگ یا لکیر کا فقیر بن کر زندگی گزارنے کو اسلام نہیں کہتے۔ قرآن بھرا پڑا ہے کہ اے انسان سوچو سمجھو اور عقل و شعور سے کام لو۔ مشال خان کا واقعہ اس ملک کے نوجوانوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے گا۔ مشال با شعور مسلمان تھا۔ اس کی قابلیت اور بلا کا علم و ذہانت حاسدین سے برداشت نہ ہو سکی۔ توہین رسالت کو بنیاد بنانے والے در حقیقت خود توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا یہ حب رسالت کا ثبوت تھا؟ ولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ سے ہماری ملاقات ہوئی، تعلیم یافتہ اور ماڈرن سوچ کے لوگ ہےں۔ یونیورسٹی کے ماحول نے متاثر کیا۔ لیکن ذہنی بیمار لوگ اس ملک کے ہر شعبے اور ادارے میں موجود ہےں۔ حسد و رقابت کا انتقام سانحہ مشال کی صورت میں پیش آتا ہے۔ ہم اس واقعہ کو سوشل میڈیا دہشت گردی کا نام دیتے ہےں۔ جہاں کہیں مذہب کو ملوث کر دیا جائے وہاں سیاستدان احتیاط برتتے ہےں کہ ووٹ بھی لینے ہیں اور کسی گروپ مسلک یا مذہبی جماعت کی مخالفت لینا نہےں چاہتے۔ لہٰذا حکومت کوئی بھی آئے جائے نام نہاد مذہبی اوباشوں کے خلاف قانون نافذ نہےں کیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توہین رسالت ہے کیا اس کی تعلیمات عام کی جائیں۔ من گھڑت روایات اور ضعیف احادیث کا سہارا لینا یا قرآنی احکامات کو بغیر سیاق و سباق کے پیش کر کے نوجوانوں کو اکسانا ورغلانا دہشت گردی ہے۔ اسلام دشمنی ہے۔ داعش اسی جاب پر فائز ہے۔ زنا کو نکاح، دہشت گردی کو جہاد اور غنڈہ گردی کو خلافت کا نام دیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں پاکستان میں انگریز کا نظام ہے۔ کافر کا آئین ہے۔ کاش پاکستان میں انگریز کا نظام رائج ہوتا تو پاکستان میں انصاف اور قانون میسر ہوتا۔ پاکستان میں نہ قرآن کا نظام ہے نہ انگریز کا۔ پاکستان میں کبھی پیپلز پارٹی کا نظام ہے کبھی مسلم لیگیوں کا نظام ہے کبھی فوج کا نظام ہے کبھی موت کا نظام ہے۔ جو آیا اپنی آمریت لایا۔ اپنے پالتوﺅں کے آگے ہڈیاں ڈالیں اور ملک کا نظام پالتوﺅں کے حوالے کر دیا کوئی ہے جو انہیں پوچھے کہ مشال جیسی جوان اولاد بے دردی سے جب سرے بازار قتل کر دی جائے تو اس کے ماں باپ خاندان پر کیا قیامت گزرتی ہے؟ شریفوں کو کوئی پوچھے، زرداری اور عمران خان سے کوئی پوچھے۔ فضل الرحمان اور سراج الحق سے کوئی پوچھے۔ طاہر القادری اور حافظ سعید سے کوئی پوچھے۔ اس ملک خدا داد میں کبھی اسلام کبھی جمہوریت کبھی آمریت کبھی خلافت کبھی نظام مصطفی کے نام پر دہشت گردی کرائی جاتی ہے کبھی اقلیتوں کے خلاف عشق رسول کا علم بلند کیا جاتا ہے۔ کبھی مسلک کو ذبیحہ خانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان واحد ریاست ہے جس کا معاشرہ خود پر خود ظلم کرتا ہے اور مظلوم بھی ہے۔ معاشرہ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ شہید اور ہلاکت کے لفظوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ وفاقی حکومت میں اگر ذرا سی غیرت موجود ہے، تعلیمی اداروں میں سیاسی و مذہبی سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ دہشت گرد تعلیمی اداروں میں گھس چکے ہیں۔ آئے روز طالبات اور طلبہ کے قتل اور دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کا منظر عام پر آنا کیا ثابت کرتا ہے۔ دین اسلام اور پاکستان کے خلاف مکروہ سازش نوجوانوں اور خواتین میں زور پکڑ رہی ہے اور حکومت اگلے الیکشن کے لئے سبز باغات دکھانے میں مشغول ہے۔ نواز شریف کو پاناما کیس میں نااہل ہونے کا اندیشہ پریشان کئے ہوئے ہے اور اپوزیشن مٹھایئاں بنوانے کی تیاری میں مشغول معلوم ہوتی ہے۔ آپس میں دست و گریبان ہیں مولوی بھی اور سیاستدان بھی اور عوام کا مسئلہ بجلی مہنگائی اور روزگار ہے۔ یہی صورتحال رہی تو داعش کی بدمعاشی سے کوئی گھر کوئی درسگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ توہین مذہب اور توہین رسالت پر بنا کسی ثبوت و شواہد کسی بھی شخص کو قتل کرنے والے پ±ر ہجوم لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم جس کی محبت میں یہ سب کر رہے ہیں کیا یہ ا±س پیغمبر کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ توہین رسالت کا آلہ کار بنانے والے دہشت گردوں سے اپنے بچوں کو خود بچانا ہو گا۔ نام نہاد عاشقوں کی چالبازی سے اپنی عورتوں کو خود بچانا ہو گا۔ خلافت کے جال میں بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی ملوث ہو رہے ہیں، یاد رکھو ابلیس بلا کا مقرر، ذہین اور دانشور تھا۔ سوشل میڈیا پر برین واشنگ کی جا رہی ہے۔ مذہب کے نام پر عیاشی و آزادی کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسلیں اور معاشرتی پسی ہوئی عورتیں بدمعاشوں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں۔ اس تمام مکروہ داستان میں دکھ اس بات کا ہے کہ نام اسلام کا بدنام ہو رہا ہے۔ پاکستان کا بدنام ہو رہا ہے۔