”آپ“ کی وجہ سے ہیں۔۔۔!

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ

وکی لیکس نے انکشاف کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے 2008میں امریکی نمائندگان اور پاکستان میں مقیم سابق سفیر این پیٹرسن سے ملاقات میں ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر ہم اقتدار میں ہیں تو آپ(امریکہ) کی وجہ سے ہیں۔آپ( امریکہ) کا شکریہ کہ پارلیمانی انتخابات میں تعاون فراہم کیا اور ہم نے فتح حاصل کی اور اقتدار میں آئے ۔وکی لیکس کے مطابق صدر زرداری نے شکریہ ادا کرنے کے بعد امریکی حکومت کو یقین دلایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پر عزم ہے ،یہ جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔صدر پاکستان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور عالمی دنیا کی جانب سے پاکستان کے لئے مزید امداد کی ضرورت ہے تا کہ فرنٹیر میں معیشت کو فروغ حاصل ہو۔جس جنگ کو پاکستانی حکمران ”ہماری جنگ“ اور اقتدار کو ”آپ جناب “ کی مہربانی سمجھتے ہیں ،پاکستان آج اسی کا بویا کاٹ رہاہے۔  امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو وہاں بمباری کے لئے جدید ہتھیار استعمال کئے ۔خاص قسم کے بم تیار کئے گئے۔دنیا کا سب سے خوفناک اور بڑا بم ایجاد کیا جس کا نام ”بموں کی ماں“ رکھا گیا۔افغانستان اور عراق جنگ میں استعمال ہونے والا یہ بم اکیس ہزار پاﺅنڈ وزنی تھا۔اس سے کم وزنی بم بھی استعمال کئے گئے جن میں ایک بم کا نام ”ڈیزی کٹر“ تھا جس کا وزن پندرہ ہزار پاﺅنڈ تھا۔جب ان بموں کا استعمال افغانستان اور عراق کے لوگوں پر کیا جا رہا تھا میرا قلم لہو اگل رہاتھا۔بموں کی ماں نے کئی ماﺅں اور بچوں کو راکھ بناڈالا۔جب ڈیزی کٹر سے بے گناہوں کے گلے کاٹ دئے گئے تو پھر پاکستان کا رخ کیا وہاں بھی مستقل چھاﺅنیاں قائم کر لیںلیکن پاکستان کے حکمران اس پر بھی”آپ جناب“ کے شکر گزار ہیں۔”آپ“ کی وجہ سے اقتدار میں آتے ہیں اور ”آپ“ کی وجہ سے جاتے ہیں ۔پاکستانی سیاستدانوں کے یہ ”حضرت اب خود بھی محفوظ نہیں رہے۔طاقت کی جنگ نے ان کے اپنے گھر کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق صدر اوباما کو بھیجے جانے والے ایک خط میں سے زہریلا مواد برآمد ہواہے۔صدر اوباما سے پہلے ایسے کچھ مشتبہ خطوط تین سینیٹرز کو بھی موصول ہو چکے ہیں۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ کام اس شخص کا ہے جو صدر اوباما سے نفرت کرتا ہے۔ایف بی آئی کے مطابق زہر آلود مواد والے خطوط کا بوسٹن کی دہشت گردی کے ساتھ تعلق نہیں۔ بوسٹن دھماکوں کے بعد زہر آلود مواد والے لفافوں نے نائن الیون کے دھماکوں اور ”انتھراکس“ والے خطوط کی یاد تازہ کر دی ہے۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد کیمیائی مہلک مواد جسے عرف عام میں انتھراکس کہا جاتا تھا کے بھرے لفافے اور پیکٹ ڈاک میں موصول ہونے لگے اور خوف و ہراس کا یہ عالم ہو گیا کہ ملک بھر کے ڈاک خانوںکی ڈاک چیک ہونے لگی۔لوگوں کو محتاط کر دیاگیا کہ دستانے پہن کر ڈاک کھولی جائے۔بوسٹن میں دہشت گردی اور وائٹ ہاﺅس کو موصول ہونے والی زہر آلود ڈاک کے بعد امریکی حکومت میں تشویش پائی جا تی ہے مگر عوام کو پر سکون رکھنے کے لئے میڈیا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کرے ۔پاکستانی طالبان نے بوسٹن دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے ۔بوسٹن حملوں کے بعد سے امریکہ میں مقیم آٹھ ملین مسلمان خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ،خاص طور پر نوجوان نسل نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکیوں کے متعصبانہ رویہ سے گھٹن محسوس کرنے لگی ہے۔صدر اوباما نے کہا کہ ”معصوم شہریوں پر جب بھی بم برسائے جائیں گے،اسے دہشت گردی ہی تصور کیا جائے گا“۔دنیا بھر کے مسلمان صدر اوباما کے اس بیان سے مکمل طور پر متفق ہیں، ان کا بھی تو یہی کہنا ہے کہ جب اور جہاں بے گناہ شہری مارے جائیں گے،دہشت گردی کہلائی جائے گی“۔دنیا بھر میں دہشت گردی کا چمپئن”بموں کی ماں“ اور ”ڈیزی کٹر“ کا موجد دہشت گردی کا مفہوم اور پس منظر سمجھ جائے تو دنیا میں امن آ جائے ۔امریکی سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بوسٹن میراتھن میں حملوں کے لئے ایسے شہر کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں دنیا بھر کے نوجوان طالب علم رہتے ہیں ۔یاد رہے کہ نیویارک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے ملزم فیصل شہزاد کا حوالہ دیتے ہوئے دو سال قبل صدر اوباما نے زرداری حکومت کو وارننگ دی تھی کہ اگر فیصل شہزاد دہشت گردی میں کامیاب ہوجاتا تو امریکہ کو پاکستان پر حملے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی۔ بوسٹن دھماکوں کے بعد پاکستانی کمیونٹی اضطراب کا شکار ہے ۔طاقت کی رعونت کو سب سے بڑی طاقت ہی توڑ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”کیا ان لوگوں کو تاریخ سے کوئی ہدایت نہ ملی کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی برباد شدہ بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں۔در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں،ان لوگوں کے لئے جو عقل سلیم رکھتے ہیں“۔مومن کا ”ڈیزی کٹر “ اس کا ایمان ہے جبکہ منافق کا آقا”آپ جناب“ ہے۔