قتلِ بے نظیر.... بلاول بھٹّو مُدّعی کیوں نہیں؟

کالم نگار  |  اثر چوہان

تاریخ، بادشاہوں، فوجی آمروں اور جمہوری لیڈروں کو، قتل کئے جانے کی وارداتوں سے، بھری پڑی ہے۔ کئی بار ایسا ہُوا کہ قاتلوں اور اُن کے سرپرستوں کو کٹہرے میں لا کر سزا دی گئی، لیکن اکثر اوقات قاتلوں کو موقع پر ہی سزا دے کر، عدالتوں کو، مقدمات کی سماعت کی زحمت سے، بچا لیا جاتا رہا ہے۔ جِن خُفیہ ہاتھوں نے، 16اکتوبر 1951ءکو راولپنڈی کے جلسہ عام میں، پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم، لیاقت علی خان کو، قتل کرایا تھا، انہوں نے سکندرِ اعظم کے والد، مقدونیہ کے بادشاہ فیلقوس (Philip II) کے قتل کی پوری تفصیل اور اُس کے رموزونکات کا باریک بینی سے، ضرور مطالعہ کِیا ہوگا۔ 336 قبل از مسیح میں، بادشاہ فیلقوس کی بیٹی کی شادی تھی۔ شادی کی تقریب میں ،اہلِ دربار جمع تھے کہ، مقدونیہ کی اشرافیہ کے ایک نوجوان نے، فیلقوس پر، اچانک حملہ کرکے، اُسے قتل کر دیا۔ موقع پر موجود، شاہی فوج کے محافظوں نے، طیش میں آ کر، اپنے بادشاہ کے قاتل کو فوراً ہی ہلاک کر دیا تھا۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے قاتل، سَید اکبر کو بھی، راولپنڈی کی جلسہ گاہ میں، موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جِس طرح یہ پتہ نہیں چل سکا کہ، بادشاہ فیلقوس کو قتل کرانے والے، خُفیہ ہاتھ کون کون سے تھے، اُسی طرح وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو قتل کرانے والے، خفیہ ہاتھوں کا بھی پتہ نہیں چلایا جا سکا۔ بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ، فیلقوس کو اُس کی ملکہ (اولمپیاس) نے قتل کرایا تھا کیونکہ، فیلقوس نے، اپنی دوسری بیوی قلوپطرہ کے بیٹے کو، اپنا ولی عہد نامزد کر دیا تھا۔ سکندرِ اعظم نے، اپنے باپ کے قتل کی سازش میں۔ (مبّینہ طور پر)۔ ملوث اپنی ماں کو، سزا نہیں دی اور نہ ہی کسی عدالت سے دِلوائی ۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کرنے پر، بعض مسلم لیگی لیڈروں نے، اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ پر (جلسوں اور اخباری بیانات میں) الزام لگایا تھا، لیکن اُن لیڈروں میں سے، کسی نے بھی تھانے میں جا کر، دولتانہ صاحب کے خلاف ایف۔ آئی۔ آر۔ درج نہیں کرائی۔ یوں بھی عام طور پر، جب مقتول کے خونی رشتہ دار زندہ ہوں تو، اُن میں سے ہی کوئی۔ ایف۔ آئی۔ آر درج کراتا ہے۔11نومبر 1974ءکو لاہور میں، نواب احمد خان کے بیٹے، صاحبزادہ احمد رضا قصوری نے (اُس وقت کے) وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے والد کا قاتل ٹھہرایا اور خود مُدّعی کی حیثیت سے، بھٹو صاحب کے خلاف ایف۔ آئی۔ آر درج کروائی۔ اُن دنوں حنیف رامے وزیرِاعلیٰ پنجاب تھے، لیکن قصوری صاحب نے، ایف۔ آئی۔ آر میں رامے صاحب کا نام شامل نہیں کِیا۔ قصوری صاحب کی ایف۔ آئی۔ آر کی بنیاد پر (معزول ہونے کے بعد) بھٹو صاحب پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں پھانسی کی سزا ہو گئی۔ صدر جنرل ضیاالحق 17جولائی 1988ءکو، ہوائی حادثے میں جاںبحق ہُوئے تو، اُن کے بیٹے، اعجاز الحق یا مرحوم کے مُنہ بولے بیٹے نے مُدّعی بن کر کسی تھانے میں ایف۔ آئی۔ آر درج نہیں کرائی، البتہ بیٹے نے کہا کہ ”ہم جنرل ضیاالحق کا مِشن جاری رکھیں گے“۔ چنانچہ وہ مرحوم کا مِشن جاری رکھے ہُوئے ہیں۔ 27دسمبر 2007ءکو، راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر، محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہو کر قتل ہو گئیں، لیکن مرحومہ کے شوہر جناب آصف علی زرداری، بہن صنم بھٹو (اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بچوں کی سرپرست) محترمہ فریال تالپور میں سے، کسی نے بھی، محترمہ کے قتل کی ایف۔ آئی۔ آر درج نہیں کرائی، البتہ جناب آصف زرداری نے (محترمہ کی وصیت بر آمد ہونے کے بعد) جب 19سالہ بلاول زرداری کے نام کے ساتھ ”بھٹو“ کا لاحقہ لگا کر، انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین نامزد کرکے خود شریک چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو، چودھری شجاعت حسین اور اُن کے کزن چودھری پرویزالہی کی مسلم لیگ (ق) کو۔ ”قاتِل لیگ“ کے نام سے پکارا۔ پھر پیپلز پارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت بھی، مسلم لیگ (ق) کو مسلسل۔ ”قاتِل لیگ“ کہہ کر ہی چھیڑتی رہی، جب تک۔ ”قاتِل لیگ“۔ صدر زرداری کی اتحادی نہ بن گئی، یہاں تک کہ چودھری پرویزالہی کو نائب وزیرِاعظم بنا دیا گیا۔ راولپنڈی کی، انسدادِ دہشت گردی عدالت میں، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا جو مقدمہ زیر سماعت ہے، اُس کے مُدعّی چودھری اسلم ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ”میں 21 سال تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا پروٹوکول آفیسر رہا ہوں“۔ صاف ظاہر ہے کہ چودھری صاحب کا محترمہ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔ انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش اور اُس پر عملدرآمد میں اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہی، سابق وزیرِ داخلہ رحمن ملک سابق وزیرِ قانون بابر اعوان وغیرہ کو بھی نامزد کیا ہے۔ عدالت نے، جنرل (ر) پرویز مشرف کو کئی بار طلب کِیا ، لیکن وہ حاضر نہیں ہُوئے۔ پھر انہیں ”اشتہاری“ قرار دے دیا گیا۔ انٹرپول نے اُن کی گرفتاری میں تعاون نہیں کیا۔ اگر موصوف خود وطن واپس نہ آتے تو نہ جانے عدالت کیا کرتی؟۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل، جناب لطیف کھوسہ کا بیان، 17اپریل کے قومی اخبارات میں شائع ہُوا۔ جِس میں انہوں نے کہا ”مسلم لیگ (ق) محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ، سکاٹ لینڈ یارڈ اور جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے۔ آئی۔ ٹی) سے کروائی گئی۔ کسی نے بھی اس بات کا کوئی ثبوت یا عندیہ نہیں دِیا کہ مسلم لیگ (ق) یا اُس کا کوئی راہنما، محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہے“۔ کھوسہ صاحب نے، رحمن ملک اور بابر اعوان سے متعلق کچھ نہیں کہا۔27دسمبر 2012 کو بلاول بھٹو زرداری نے (اپنی والدہ کی برسی کے موقع پر) چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ۔ ”مَیں پاکستان کے سب سے بڑے قاضی سے پوچھتا ہوں کہ قاضی صاحب! میری رانی ماں اور پاکستان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟“۔اُس وقت خیال تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں، پاکستان پیپلز پارٹی، عام انتخابات میں ”محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت“۔ کے نام پر ووٹ مانگے گی، لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کی وطن واپسی اور بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ضمانت کے بعد عدالت کی کاروائی آگے بڑھے گی۔ اب اِس Issue پر ووٹ نہیں مانگے جا سکتے۔ جنرل (ر) مشرف، محترمہ کے قتل کی سازش میں شریک تھے یا نہیں اُس کا فیصلہ، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ۔ ہائی کورٹ اور اُس کے بعد سپریم کورٹ کرے گی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن چھ ماہ پہلے تک کہتے رہے ہیں کہ ”اگر محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا نہ دی گئی تو انتخابی مہم کے دوران عوام، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے کارکن۔ ہم سب کے گریبان پکڑیں گے“۔ یہ خطرہ تو ٹل گیا ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے اکثر کارکُن ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ”بلاول بھٹو اپنی رانی ماں‘ ہماری بہن اور پاکستان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں خُود مُدّعی کیوں نہیں بنتے؟“۔