فیس بُک نے مروا دیا

گزشتہ ماہ جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن کے فور سیزن ہوٹل میں اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں کو ایک استقبالیہ دیا۔ اس استقبالیہ میں جب جنرل صاحب نے اعلان کیا کہ وہ واپس پاکستان جا رہے ہیں‘ ان کی پارٹی انتخابات میں حصہ لے گی تو وہاں موجود آپ کے حامیوں نے پرجوش تالیاں بجائیں اور آپ کے وطن واپسی کے فیصلے کی حمایت کی۔ اس استقبالیہ کے بعد انہوں نے واشنگٹن کے ایک افغان ریسٹورنٹ بامیان ریسٹورنٹ میں سینئر پاکستانی صحافیوں کو ڈنر پر مدعو کیا۔ اس ڈنر میں انہوں نے صحافیوں سے پوچھا کہ ان کی کیا رائے ہے ‘ انہیں واپس جانا چاہئیے یا نہیں تو ایک انگریزی اخبار کے واشنگٹن میں مقیم بیورو چیف نے جنرل مشرف کو مشورہ دیا کہ آپ موجودہ حالات میں پاکستان نہ جائیں‘ ماحول آپ کے حق میں نہیں۔ جنرل مشرف نے فوراً اس مشورے کو رد کر دیا اور کہا کہ آپ فیس بک پر دیکھیں‘ مجھے پانچ لاکھ پاکستانیوں نے دعوت دی ہے کہ آپ پاکستان واپس آئیں‘ ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔ مشورہ دینے والے صحافی نے کئی دلائل دیئے جو جنرل صاحب نے مسترد کر دئیے۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر جنرل صاحب کا اعتماد بہت زیادہ تھا۔ ایک باخبر ذریعہ نے راقم کو بتایا کہ جنرل مشرف کے بیٹے بلال مشرف اور ان کے بھائی جاوید نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پاکستان نہ جائیں‘ وہ جا کر پھنس جائیں گے۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جنرل مشرف کو ان کے ادارے یعنی فوج نے پاکستان آنے کے لئے گرین سگنل دیا لیکن ایک قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں فوج کی طرف سے ہی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان واپسی کا ارادہ ترک کر دیں لیکن انہوں نے فوج کا مشورہ بھی نہیں مانا۔ جنرل مشرف کی ایک عزیزہ جو وزارت خارجہ کی آفیسر ہیں ارو ان دنوں ایک ملک میں سفیر بھی ہیں کی بھی رائے تھی کہ موجودہ حالات میں ان کا پاکستان جانا ان کے حق میں نہیں جس کسی نے سابق صدر کو مشورہ دیا کہ آپ پاکستان کا فیصلہ موخر کر دیں اسے موصوف نے یہی جواب دیا کہ اس کو معلوم نہیں آپ فیس بک کو دیکھیں مجھے لاکھوں پاکستانی بلا رہے ہیں‘ پاکستان کو میری ضرورت ہے۔ جنرل مشرف اس مغالطے میں گرفتاری دے کر جب وہ کراچی ائرپورٹ پر اتریں گے تو فیس بک پر موجود ان کے لاکھوں حامی ان کا استقبال کرنے ائرپورٹ پر موجود ہوں گے۔ ان کے کچھ فارن دوستوں نے ان سے یہ کہا کہ سر آپ کا اس قدر شاندار استقبال ہوگا کہ پاکستان کے لوگ اپریل 1986ءکو ہونے والے بے نظیر بھٹو کے استقبال کو بھول جائیں گے لیکن جب جنرل صاحب کراچی ائرپورٹ پر پہنچے تو چند سو لوگ بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ فیس بک اور ان کے حامیوں نے انہیں مروا دیا۔ جنرل صاحب کا انتخاب لڑ کر وزیراعظم بننے کا خواب اس لئے نہیں پورا ہو سکتا کہ جن چار حلقوں سے انہوں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے ان سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ان کے خلاف آئین کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چل رہا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز کو نظربند کرنے کے الزام میں دائر مقدمہ میں ان کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی اور عدالت نے حکم دیا کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے تو جنرل صاحب سیاہ رنگ کی اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر چک شہزاد میں اپنے عالیشان گھر پہنچ گئے۔آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے میڈیا کو بتایا کہ جنرل مشرف فرار نہیں ہوئے وہ گھر پرآرام کررہے ہیں۔ دارالحکومت میں جنرل صاحب کے انتخابی پوسٹروں کی جامعہ حفصہ کی طالبات روزانہ خنجروں کی نوک سے چیر پھاڑ کر دیتی ہیں۔ جنرل صاحب نے اقتدار میں اپنے حامیوں کا جو حلقہ بنایا تھا ان میں سے کوئی ان کے قریب نظر نہیں آتا۔ وہ جنرل صاحب سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی سابق ساتھیوں کو جنرل صاحب فون کرتے ہیں تو ان کو اپنے ان ساتھیوں کے فون بند ملتے ہیں۔
جنرل مشرف نے موجودہ حالات میں وطن واپس آنے کے لئے جس ”ذہانت“ اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا ہے غالباً اس طرح کی دور اندیشی کا مظاہرہ انہوں نے کارگل آپریشن شروع کرنے سے پہلے کیا تھا ان کا خیال تھا کہ جب وہ کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کرلیں گے تو بھارت اسے ”مقدر کا لکھا ہوا“ سمجھ کر چپ کر جائے گا اور کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا لیکن جب اس آپریشن کے بعد بھارتی فضائیہ اور اس کی فوج نے جوابی کارروائی کی تو نہ صرف ہمارا بھاری جانی نقصان ہوا بلکہ ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے۔اس آپریشن کی کہانی آئی ایس پی آر کے سابق آفیسر کرنل اشفاق نے اپنی کتاب جنٹلمین استغفراﷲ میں بیان کی ہے جنرل مشرف یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ کیا ان کے نادان دوستوں نے انہیں مروا دیا یا پھریہ سارا قصور فیس بک کا ہے۔ اب تو سنا ہے کہ جنرل صاحب کے وہ عزیز سب جو انہیں مشورہ دے رہے کہ ابھی پاکستان نہ جائیں ان سے ““ پوچھ رہے ہیں ”ہور سنا¶ کی حال اے“