تندرست لائیو سٹاک اور پولٹری سے ملک خوشحال ہو سکتا ہے

کالم نگار  |  محمد مصدق

ایوان اقبال میں انٹر نیشنل پولٹری اینڈ لائیو سٹاک کانگرس میں آج زیادہ ریسرچ پیپرز پولٹری کے حوالے سے پیش کئے گئے۔ پورے ماحول میں ایک خاص قسم کی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ سب سے زیادہ خوشی اس بات پر ہوئی کہ لائیو سٹاک اور پولٹری سے تعلق رکھنے والوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اگر تھوڑی سی مدد کرے اور اس نوعیت کی کانگرسوں کی سفارشات پر عمل درآمد کرے تو پاکستان میں خوشحالی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔اس وقت شہری معیشت پر سب سے بڑا دباﺅ دیہی علاقوں سے افرادی قوت کا شہروں کی طرف سفر ہے۔ شہروں میں آ کر نہ تو انہیں پورا معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی معیشت کی تیزی میں وہ کوئی خاص کردار ادا کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس اگر دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو ان کے اپنے علاقوں میں بہتر پالیسیاں بنا کر بہت اچھا روزگار دیا جا سکتا ہے خاص طور سے اس وقت لائیو سٹاک کا مستقبل بہت روشن ہے لیکن پاکستان صلاحیت رکھنے کے باوجود روشن مستقبل سے صرف اس لیے اپنا حصہ وصول نہیں کر سکتا کہ ابھی تک لائیو سٹاک کی عام بیماریوں پر قابو پانے کے لئے کوئی ایسا پروگرام شروع نہیں کیا گیا ہے جس کے تحت پورے پاکستان میں لائیو سٹاک کی ویکسینیشن کی جا سکے۔ جیسا کہ ایک دن پہلے وی سی ویٹرنری یونیورسٹی نے تجویز دی تھی کہ حکومت صرف اعلان کر دے کہ پرائیویٹ سیکٹر لائیو سٹاک کی ویکسین بنائے اور حکومت ان سے خرید کر پورے پاکستان میں پولیو کے قطروں کی طرح پوے لائیو سٹاک کو بیماریوں سے بچانے کے لئے اس ویکسین کو استعمال کرے گی۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ عبدالباسط نے اس بات پر زور دیا کہ پولٹری سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور پاکستان بھر میں پروٹینز حاصل کرنے کا یہ سستا ترین ذریعہ ہے۔ عبدالباسط کے علاوہ دوسرے ماہرین نے بھی اس بات کا خیر مقدم کیا کہ پاکستان نے مختلف ممالک کے جانوروں میں بیماریاں پھیلنے کی وجہ سے بیس سے زیادہ ممالک سے مویشیوں کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ پاکستان اگر اپنے جانوروں کی سمگلنگ پر کنٹرول کرے اور لائیو سٹاک اور پولٹری مصنوعات میں مشرق وسطیٰ کی سرمایہ کاری قبول کرے تو معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔