مریم نواز کا ’’ سیاسی امتحان‘‘

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
مریم نواز کا ’’ سیاسی امتحان‘‘

مریم نواز کو داد دینے کو جی چاہتا ہے میاں نواز شریف کی نا اہلی ‘‘کے بعد انہیں پہلی بار عملاً سیاست میں حصہ لینے کا موقع ملا تو وہ این اے 120کے انتخابی معرکہ میں تنہا کود پڑیں یہ انتخابی معرکہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی زندگی و موت تھا لیکن یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ نے اپنے آپ کو این اے120 کے انتخابی معرکہ سے دور رکھا جن کو مریم نواز شریف کے ساتھ سائے کی طرح ہونا چاہیے وہ الگ تھلگ بیٹھے ہیں مریم نواز کی انتخابی ٹیم نوجوان مسلم لیگی رہنمائوں پر مشتمل رہی ۔ یہ انتخاب’’ جیت یا ہار ‘‘کا نہیں بلکہ اس سے پنجاب بالخصوص لاہور کے عوام کے رخ کا تعین ہوا ہے اس انتخاب نے اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ کیا عوام نے میاں نواز شریف کی نااہلی کو قبول کیا ہے کہ نہیں یا بقول ’’کپتان ‘‘ عوام نے عدالتی فیصلہ کی توثیق کرنی ہے۔ یہ پہلا ضمنی انتخاب ہے جس میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہونے کے باوجود مریم نواز کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا بیشتر وقت برطانیہ اور ترکی میں گذرا ضمنی انتخاب لڑنے کے ماہر حمزہ شہباز شریف انتخابی معرکہ سے الگ کر دیئے گئے۔ سینئر رہنمائوں میں سے کوئی بھی مریم نواز کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئے لاہور آیا اور نہ ہی مشورہ دینے کی زحمت گوارہ کی بلکہ سیاسی اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے شاید وہ اس انتخابی معرکہ کے نتائج کو پیش نظر رکھ کر اپنا مستقبل کا سیاسی قبلہ درست کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔ ممکن ہے مریم نواز کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے لئے کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑتا لیکن میاں نواز شریف کی نا اہلی اور پھر میاں نواز شریف کی خالی ہونے والی نشست پر ان کی والدہ بیگم کلثوم نواز کے انتخاب لڑنے کے فیصلے نے مریم نواز کے لئے عملی سیاست میں حصہ لینے کی راہ ہموار کر دی ۔ اس پر طرفہ تماشا یہ ان کے گرد ’’مزاحمت پسندوں‘‘ نے گھیرا ڈال لیا ہے اور اس وقت مسلم لیگ (ن) کے اندر ’’ مزاحمت پسندوں ‘‘ کی قیادت سینیٹر پرویز رشید کے ہاتھ ہے جنہوں نے مریم نواز کے ’’استاد محترم‘‘ کی حیثیت اختیار کر لی ہے لیکن جن کی انہیں سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہونی چاہئے وہ دور بیٹھے مستقبل کی سیاست کے نقشے تیار کر رہے ہیں شاید مریم نواز نے بھی انہیں دانستہ اپنے آپ سے دور رکھ کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہوں وہ ان ’’ بزرگوں ‘‘ کے بغیر ہی معرکہ سر کر سکتی ہیں ’’ بزرگوں ‘‘ کی بے اعتناعی نے مریم نواز کے لئے سیاست میں راہ ہموار کر دی ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مریم نواز کی سربراہی میں نوجوان مسلم لیگی رہنمائوں پر مشتمل ’’تھنک ٹینک ‘‘ کیا کر رہا ہے اس تھنک ٹینک نے سوشل میڈیا پر ’’کپتان‘‘ کا ناطقہ بند کر رکھا ہے لیکن کچھ دنوں سے میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ(ن) کے بعض سرکردہ لیڈروں کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے جو مسلم لیگ (ن) کے اندر ’’تقسیم اور پھوٹ‘‘ کا باعث بن رہی ہے اگرچہ سردار یعقوب ناصر کو مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر بنا دیا گیا ہے لیکن عملاًمسلم لیگ(ن) کی باگ ڈور جاتی عمرہ کی ’’مکین ‘‘ کے پاس ہے میاں نواز شریف کی ملک میں عدم موجودگی میں وہی پارٹی امور چلا رہی ہیں۔ پارٹی کے کسی سینئر لیڈر سے پارٹی کے مرکزی صدر کے انتخاب کیلئے تاریخ کا علم ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس کہاں ہو گا ؟ اگرچہ پارٹی کے قائد میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کا عندیہ دیا تھا لیکن تاحال اس بارے میں پر اسرار خاموشی اختیار کر لی گئی ہے مسلم لیگی حلقوں میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے مریم نواز کو میاں نواز شریف کا ’’سیاسی جانشین بنایا جا رہا ہے جس کے باعث پارٹی کے سینئر رہنمائوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان نے تو مریم نواز کی قیادت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنا وزن میاں شہباز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ ممکن ہے میاں شہباز شریف کو ہی پارٹی کا صدر بنا دیا جائے ، گوپارٹی قیادت کا معاملہ مسلم لیگ کا اندورنی معاملہ ہے ممکن ہے پارٹی قیادت کے ایشو کے بارے میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی لیکن جب سے مریم نواز میدان سیاست میں اتری ہیں پارٹی میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں مسلم لیگ (ن) کے نام پر ووٹ بینک میاں نواز شریف کا ہے مسلم لیگ کے بڑے بڑے لیڈر وں کا ذاتی ووٹ بینک ہو سکتا ہے لیکن ان کی کامیابی کی ضمانت مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک ہے کچھ لیڈر ایسے ہیں جن سے پارٹی ٹکٹ واپس لے لیا جائے تو ان کی ضمانت ہی ضبط ہو جائے گی اس لئے سب کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ میاں نواز شریف پارٹی قیادت بارے میں جوفیصلہ کریں گے سب کو قبول کرنا پڑے گا اختلا ف کرنے والوں کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرنے والوں کا حشر مولانا کوثر نیازی جیسا ہو گا بینظیر بھٹو سے اختلاف کرنے والوں کا آج سیاست میں کوئی نام نہیں مریم نواز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایجنڈے کے تحت ان تمام سینئر لیڈروں کو’ٹھکانے‘‘ لگا رہی ہیں جو ان کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں اگر آنے والے دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت ’’ مفاہمت پسندوں‘‘ کی بجائے مزاحمت پسندوں ‘‘ کے ہاتھ میں آجائے تو یہ اچنبھے کی بات نہیں ہو گی مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے میاں نواز شریف نے مفاہمتی کی بجائے مزاحمتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا پچھلے سوا چار سال کے دوران میاں نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی ہی مشاورت سے ہم فیصلے کئے ہیں مسلم لیگ (ن) کے اندر یہ بات کھلم کھلا کہی جار ہی ہے کہ میاں نواز شریف آج اس مقام پر ان کے مشوروں سے پہنچے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو مریم نواز کا راستہ روکنا چا ہتے ہیں تحریک انصاف نے میاں نواز شریف کی کر دار کشی کی مہم شروع کی تو وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جو سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی خاتون ہیں کی سربراہی میں ایک ’’تھنک ٹینک‘‘ قائم کیا گیا اب بھی اسی تھنک ٹینک کے ذریعے تحریک انصاف کو جواب دیا جا رہا ہے مریم نواز نے این اے 120 کی انتخابی مہم میں ایک’’ شیرنی ‘‘ کا کردار ادا کیا ہے ان کی جان کو بے پنا ہ خطرات لاحق ہونے کے باوجود جلسوں سے خطاب کیا اور ’’کپتان‘‘ کے چیلنج کو قبول کیا این اے 120دراصل سیاسی امتحان ہے جس میں مریم نواز کامیاب ہوئی ہیں امتحان میں کامیابی نے ان کے لئے سیاسی میدان ہموار کر دیا ہے انہوں نے2018ء کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے میاں نواز شریف سے پارٹی ٹکٹ کے امیدوار اب مریم نواز کے گرد گھیرا ڈالنے والوں کی آشیرباد حاصل کریں گے اس لئے یہ بات کہی جا سکتی ہے پارٹی کے ٹکٹ کے امیدوار کسی اور کی طرف دیکھنے کی بجائے مریم نواز کی طرف دیکھیں گے۔ محمد نواز شریف کی حقیقی ’’ سیاسی جانشین‘‘ بننے میں مریم نواز کو کتنا عرصہ لگتا ہے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا مریم نواز کا بے نظیر بھٹو سے تقابل تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اب وہ جس راہ پر چل نکلی ہیں اس میں قیدو بند کی صعوبتیں بھی ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں ناز وںپلی مریم نے جب جیل کے راستے کو منتخب کر ہی لیا ہے پھر کوئی قوت اس کی قیادت کا راستہ نہیں روک سکتی جیل جانے والے لوگ ہی میدان سیاست کے شہسوار ہوتے ہیں۔ آنے والے دن شریف خاندان کے لئے مشکلات ہی لے کر آئیں گے اگر مریم نواز ان مشکلات کا مقابلہ کرتی رہیں تو پھر سب مسلم لیگی لیڈروں کو ان کی قیادت تسلیم کرنا پڑے گی اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف خاندان کو ’’ناکردہ گناہوں ‘‘ کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور جن قوتوں نے شریف خاندان کو ’’ نشان عبرت ‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ان کی راہ میں چٹان کی طرح کھڑے ہونے والی خاتون کو بے نظیر بھٹو کے مقام پر پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔