نور اور روشنی میں فرق ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میں نے تو ایک جملہ کہا۔ روشنی اور نور میں فرق ہے۔ برادرم منصور الرحمن آفریدی نے اس کی تشریح میں کمال کر دیا۔ یہ نعمت سچے جینوئن اور جدید و قدیم کے امتزاج سے رومانی مزاج رکھنے والے صوفی سکالر واصف صاحب نے ہمیں دی تھی۔ ان کا ایک ایک جملہ ایسی کیفیتوں سے بھرا ہوتا تھا کہ کتابوں پر بھاری تھا۔ زبانِ زدعام جملے۔ ”خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پرخوش ہے“ منصور خاں آفریدی نے کہا کہ سورج کی روشنی ایک لاکھ 80 ہزار میل فی سیکنڈ سے سفر کرتی ہوئی زمین پر پہنچتی ہے۔ اور انسانی آنکھ اُسے پلک جھپکتے میں دیکھ لیتی ہے۔ آنکھ کو یہ نوراللہ نے عطا کیا ہے جس نے سورج کو تخلیق کیا ہے۔ نور اور روشنی میں فرق ڈالنے والا بھی وہی ہے۔ مجھے پروین شاکر کا یہ مصرعہ یاد آیا۔ اس نے نجانے کس کے لئے کہا تھا۔
میں نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا
واصف نے نوائے وقت میں کالم لکھے اور محفلوں میں ہزاروں جملے کسے جن کے جہان معنی سے پورا جہان فیض یاب ہو رہا ہے یہ تخلیقی باتیں ہیں۔ وہ کبھی کسی ردعمل کا شکار نہیں ہوا۔ زندگی کو ایک تخلیقی عمل بنایا۔ جملہ سازی سے کردار سازی کا کام لیا۔ جملہ سازی اور جملہ بازی میں فرق ہے۔ انہوں نے اپنی کالم نگاری کے لئے نوائے وقت کو منتخب کیا کہ یہ پاکستان کی آواز ہے منصورالرحمن آفریدی نے کہا اب آپ نوائے وقت میں لکھتے ہو۔ اور یہ واصف صاحب کی محبت کا تسلسل ہے۔ نور کے حوالے سے واصف صاحب کا یہ جملہ کتنے بڑے حوصلوں کی نوید ہے۔ ”پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں ہے“۔ پاکستان کے خطے میں ٹوٹنے والی قیامتوں کے درمیان لوگ زندہ ہیں۔ یہ ملک سلامت ہے۔ قائداعظمؒ کا پاکستان ہمارے زمانوں سارے جہانوں سارے انسانوں کے لئے رحمت رسول کریم حضرت محمد کے ساتھ عشق کے بدلے میں قائم ہوا ہے۔ انہوں نے جس طرح زندگی گزاری۔ زندگی کو ایک اور زندگی بنا دیا۔ جہاں ہر شخص امن و سلامتی کے ساتھ رہ سکے۔ کوئی تعصب تنگ نظری انتہا پسندی نہ ہو۔ میں نے منصور بھائی کو بتایا کہ میں پاکستان کو خطہ¿ عشق محمد کہتا ہوں۔ یہاں رہنے والوں کو چاہئے کہ وہ ایسے انسان بنیں جس پر دنیا والے رشک کریں۔ کسی پر الزام تراشی نہ کریں اور اُن لوگوں میں شامل ہو جائیں جن پر انعام کیا گیا ہے۔ واصف صاحب انعام یافتگان میں سے تھے۔ منصور آفریدی بھی اور کچھ کچھ میں بھی ہوں کہ مجھے ایسے لوگوں سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی جن پر انعام کیا گیا ہے۔ انعام پانے والوں پر الزام بھی لگائے گئے۔ الزام لگانے والے کبھی انعام نہیں پا سکتے۔
واصف صاحب نے کہا ”سب سے بڑی قوت قوتِ برداشت ہے“۔ تو پھر غور کریں کہ ہم کتنے کمزور ہیں۔ طاقتور وہ ہے جو اپنے غصے اپنے ردعمل پر قابو پائے۔ واصف صاحب نے یہ بھی فرمایا۔ عقیدے کی پختگی اپنے عقیدے سے اختلاف کو برداشت کرنے کا نام ہے۔ ناپختہ عقیدہ چھوٹے برتن کی طرح ہوتا ہے جو جلد گرم ہو جاتا ہے“۔ تخلیقی صلاحیت اور جملہ سازی بھی خدا کا انعام ہے۔ میرے دل میں ایک جملہ آیا ہے۔ عقیدت عقیدے سے افضل ہوتی ہے یہ جذبہ عقیدے سے ہٹنے نہیں دیتا۔
نوائے وقت میں واصف صاحب کے ایک کالم کا عنوان ہے۔ اختلاف کو کس طرح باعث رحمت بنایا جا سکتا ہے۔ فرقہ واریت انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے اس طرح اجتماعیت کا خون ہو جاتا ہے خون بہتا ہے اور ایسی سوسائٹی میں زندگی حرام ہو جاتی ہے۔ نوائے وقت ہی میں واصف صاحب کے ایک کالم کا عنوان ہے۔ ”اسلام + فرقہ= صفر“۔ حضور کریم نے اختلاف کو رحمت قرار دیا تو ہم اسے زحمت کیوں بنا رہے ہیں۔ واصف صاحب نے فرمایا بلند عقیدہ بلند دروازوں کی طرح آنے والوں کے لئے کشادہ ہوتا ہے۔
منصور صاحب کے ساتھ ملاقات کے بعد میری بات واصف صاحب کے صاحبزادے کاشف صاحب سے اور واصف صاحب کے مریدوں جیسے عاشق ڈاکٹر اظہر وحید سے بھی ہوئی۔ ”واصف خیال“ کے نام سے اظہر وحید ایک سہ ماہی رسالہ بھی نکالتے ہیں۔ کاشف صاحب نے دوستوں کے ساتھ مل کے واصف صاحب کے سلسلہ¿ خیال کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے منصور صاحب کی تعریف کی۔ منصور صاحب آخری دنوں میں واصف صاحب کے پاس تشریف لائے اور ابتدائی دوستوں کے ساتھی بن گئے۔ کچھ لوگ قریب ہوتے ہیں کچھ لوگ دل کے قریب ہوتے ہیں۔ منصور آفریدی واصف صاحب کے عشق میں ہیں اور پاکستان عشق کرنے والوں کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس محفل میں جہاں واصف صاحب کے لئے قبر بنانے کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ آفریدی صاحب وہاں موجود نہ تھے۔ بڑے بڑے لوگ تھے مگر واصف صاحب نے فرمایا کہ یہ فیصلہ منصور آفریدی کرے گا کہ مجھے کہاں دفن کیا جائے۔ میانی صاحب قبرستان میں لاکھوں قبروں کے درمیان سڑک کے کنارے ایک جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ پانی نے اس جگہ کی واصف صاحب کے لئے حفاظت کی۔ منصور صاحب نے مٹی ڈلوا کے یہ جگہ قبر کے لئے ہموار کروائی اور یہاں واصف صاحب سوئے ہوئے ہیں جہاں جاگنے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اُن کی محفل آباد تھی۔ اُن کا مرقد بھی آباد ہے۔ اُن کا قلب زندہ تھا۔ اُن کی قبر بھی زندہ ہے۔
باہو ایتھے اوہو جیندے قبر جنہاں دی جیوے ھُو
واصف صاحب سے تعلق رکھنے والے غیر متعصب لوگ ہیں۔ کھلے دل سے کشیدگی کو کشادگی میں بدلا جا سکتا ہے۔ واصف صاحب نے سب سے محبت کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ متعصب فرقہ پرست حق پرست نہیں ہوتا۔ اسلام کی حقیقت وضاحتوں اور نکتہ آفرینیوں کے اضافی بوجھ سے دب کے رہ جائے گی۔ ہر معاملے میں بحث مباحثہ بے معنی ہے۔ اُن باتوں کو اہمیت دینا چاہئے جو سب کو قبول ہوں۔ منصور صاحب نے کہا کہ واصف صاحب کے بقول غلط العام لفظوں کے استعمال میں احتیاط برتنا چاہئے۔ آج ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ ہمارے دشمن کون ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑ کر اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں۔ دوسرے مسلمانوں کے لئے ایک اچھا ماحول پیدا کرنا نیکی ہے۔ ہمیں دشمنوں سے بھی خطرہ ہے مگر واصف صاحب کی اس دعا پر غور کریں جو نوائے وقت میں شائع ہو چکی ہے۔
اے خدا اسلام کو مسلمانوں سے بچا
آفریدی صاحب کے فون کی گھنٹی بجی مدینہ منورہ سے فون آیا۔ روضہ¿ اطہر پر حاضری کے لئے جا رہا ہوں۔ کیا حکم ہے۔ آفریدی صاحب نے کہا کہ وہاں عاشق رسول ڈاکٹر اجمل نیازی کا سلام نیاز پہنچا دو۔ میں نے کہا کہ میرا پورا نام محمد اجمل نیازی ہے۔