مذاکرات ....مگر کس سے....؟

سانحہ اپر دیر میں پاک فوج کے افسران کی شہادت پر دل اس قدر دکھی ہے کہ لکھنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے۔طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ایک امید بندھی تھی لیکن طالبان کی جانب سے افسران کی شہادت کی صورت میںمذکرات کو ” نامنظور“ قرار دے دیا گیا۔کراچی میں امن کوششوں کا آغاز کیا گیا تو وہاں سے بھی امن دشمنوں کی ہر گولی سے ”امن نا منظور“ کی گونج سنائی دی۔قبائلی علاقوں اور شہر کراچی کے امن دشمنوں کاپس منظر اور مقصد ایک ہے۔ ان امن دشمنوں کی زبان الگ سہی مگرپیغام ایک ہے جبکہ پاکستان کے قائدین اور عوام ان لوگوں سے مذاکرات کرنے چلے تھے جو مذاکرات کی زبان کو سمجھتے ہی نہیں۔ دھماکوں کا سلسلہ جاری تھا اور جاری رہے گا لیکن یہ ملک اور اس کے عوام بھی ایسے سخت جان واقعہ ہوئے ہیں کہ گزشتہ نو سالوں سے نہ دھماکے رکے اور نہ ہی عوام کے حوصلے تھمے۔ دھماکوں کے باوجود نہ تو درگاہوں کے ہجوم میں کمی آ سکی اور نہ ہی مساجد ویران ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے مزاروں کی رونقیں بھی قائم ہیں اور پاکستان کے مساجد اور بازار وں کی گہما گہمی بھی جوں کی توں آباد ہے۔بم مارنے والے تھک جائیں گے مگر پاکستانی حوصلے نہیں ہاریں گے۔کوئی گروہ پاکستانیوں کے نہ تو عقائد تبدیل کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کا ایمان متزلزل کر سکتا ہے۔پاک فوج ملک و قوم کی جان و مال کی محافظ ہے اوراس فرض کی ادائیگی میں جان جائے تو شہادت کا مقام پاتے ہیں مگر پاکستان مزید شہادتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ گزشتہ نو برس سے ہزاروں فوجی جوانوں کی جانوں کا نذرانہ لے چکی ہے جبکہ یہ آگ کم ہونے کی بجائے مزید بھڑک رہی ہے۔ہم بھی مذاکرات کے حامی ہیں مگر مذاکرات پہاڑوں سے کئے جائیں گے؟جن لوگوں سے مذاکرات کے لئے اجلاس بلائے جاتے ہیں ،وہ لوگ تو انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں جبکہ اس مخلوق کی صورت و ہیئت بھی واضح نہیں۔دہشت گرد بھی جنّات کی ایک قسم ہیں جن کے حملے تو دکھائی دیتے ہیں مگر خود دکھائی نہیں دیتے۔یہ دہشت گرد جنّات بھی کسی قوت کے قبضے میں ہیں۔ پاکستان کی اکثریت کا خیال ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پس پشت وہ غیر ملکی طاقتیں ہیںجو پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہتھیانا چاہتی ہیں۔ دہشت گرد حملوں کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ برس کے دوران 500کے قریب تعلیمی ادارے شدت پسندوں کی کاروایﺅں میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔تباہ ہونے والے سکولوں کے لئے خیموں ،گھروں اور درختوں تلے متبادل سکولوں کا بندوبست کیاگیا ہے جن میں پچاس فیصد بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ماہرین تعلیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تعلیم سے محروم طالب علم با آسانی شدت پسندوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔سخی سرور ؒ دربار پر ہونے والے دھماکوں میں ملوث ایک نوجوان خود کش حملہ آور نے بیان دیا تھا کہ خود کشی کی تربیت دینے والوں نے اسے بتایا کہ مزاروں پر جانے والے زائرین امریکہ سے بھی برے لوگ ہیں ،یہ لوگ مشرک ہیںاور انہیں مارنے والے جنتی ہیں،اگر خود کش بمبار کا بیان تسلیم کر لیا جائے تو مساجد میں جانے والوں کو کیا نام دیا جائے،بازاروں میں جانے والوں کو کیا فتویٰ دیا جائے،سیاسی و مذہبی جلسوں اورجلوسوں پر دھماکوں کو کیا سمجھا جائے؟ مساجد میں جانے والے معاذ اللہ مشرک ہیں یابازاروں اور مظاہروں کا ہجوم مشرک ہے؟تعلیمی اداروں کا کیا قصور ہے، ہسپتال،پولیس ،فوج،سکیورٹی ہیڈ کوارٹر، الغرض کوئی مقام کوئی ادارہ محفوظ نہیں رہا۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاک فوج خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔امریکہ کا کہنا ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ فوج تعینات کئے جانے کے باوجود پاک فوج کے پاس دہشت گردی سے نبٹنے کے لئے کوئی واضح منصوبہ بندی نہیں جبکہ پاک فوج نے امریکی انتظامیہ کے الزام کو مسترد کر تے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بڑے کامیاب اپریشن کئے ہیں۔نو سالہ دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے بعد بھی اگر امریکہ پاکستان سے مطمئن نہیں تو کیوں نہ اس دلدل سے نکلنے کی تدبیر پر غور کیا جائے۔ ادھر دہشت گرد مذاکرات کی زبان سمجھنے کو تیار نہیں تو قائدین کس سے مذاکرات کرنے چلے تھے....؟ اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ایسی باتیں کرنے والے ہیں کون؟ ان کا خرچہ کون برداشت کرتا ہے، ان کے پاس ہتھیار کہاں کے بنے ہوئے ہیں؟