طالبان کا بھاری پلّا!

کالم نگار  |  اثر چوہان

 اپر دیر میں طالبان کی دہشت گردی کے نتیجے میں پاک فوج کے میجر جنرل ثنااللہ خان نیازی، لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار کی شہادت کی خبر 16 ستمبر کے ”نیویارک ٹائمز“ کے صفحہ 3 پر چار کالمی سرخی کے ساتھ، اسلام آباد میں ”نیویارک ٹائمز“ کے نامہ نگار سلمان مسعود کے حوالے سے شائع ہوئی۔ خبر میں وزیراعظم نوازشریف کا مذمتی بیان بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”پاکستان کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے پاک فوج نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور اس بزدلانہ کارروائی سے پاک فوج کا MORALE (حوصلہ) پست نہیں ہو گا“۔ خبر میں ایک ریٹائرڈ ڈپلومیٹ رستم شاہ محمد کے ٹی وی انٹرویو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”دہشت گردی کی اس کارروائی کا مقصد حکومت پاکستان اور طالبان میں ہونے والے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے“۔
میجر جنرل ثنااللہ خان نیازی اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کا مقصد اگر حکومت اور طالبان کے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے تو اِس کا ذمہ دار کون ہے؟ ظاہر ہے کہ خود طالبان کے ترجمان نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت ہمیشہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مذاکرات کے لئے مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن اور سید منور حسن کے ساتھ ساتھ میاں نوازشریف کو بھی حکومت کے مذاکرات سے نہ مُکرنے کا ضامن تجویز کیا تھا۔ عام انتخابات کے بعد وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو طالبان نے ضامنوں کی فہرست میں سے میاں نوازشریف کا نام نکال دیا، لیکن انہوں نے وزیراعظم نوازشریف اور اُن کی امن مذاکرات کی خواہش کا احترام نہیں کیا اور بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام جاری رکھا۔
5 ستمبر کو مسلم لیگ ن کی حکومت کو قائم ہوئے 3 ماہ ہو گئے۔ دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اتفاق رائے ہونے میں دیر لگی۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ خان نے اگست کے اواخر میں یہ ”راز“ فاش کر دیا تھا کہ ”طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں سیاسی اور عسکری قیادتوں میں اختلافات ہیں“۔ رانا صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ ”طالبان کے خلاف آپریشن ضروری ہے“۔ رحمن ملک وزیر داخلہ تھے تو کہا کرتے تھے کہ ”طالبان اور دوسرے دہشت گرد اگر ہتھیار پھینک دیں تو اُن سے مذاکرات ہو سکتے ہیں“ لیکن موجودہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے طالبان پر ہتھیار ڈالنے کی شرط عائد نہیں کی۔
مولانا سمیع الحق ”طالبان کے باپ“ کہلاتے ہیں کیونکہ افغانستان اور پاکستان میں سرگرمِ عمل طالبان مولانا ہی کے مدرسے کی پیداوار ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ”طالبان کے برادرِ بزرگ“ ہیں۔ دونوں مولاناﺅں کا جھکاﺅ ہمیشہ طالبان کی طرف رہا ہے۔ اُن کا مستقل م¶قف یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور طالبان کے مذاکرات کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہونا چاہئے کہ ”پاکستان امریکی دباﺅ سے کیسے نکلے؟“ 2002ءکے عام انتخابات سے قبل متحدہ مجلسِ عمل میں شامل تمام مذہبی جماعتوں نے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ ”ہم اقتدار میں آ کر پاکستان کو امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے“۔ متحدہ مجلسِ عمل کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی حکومت ملی۔ کم از کم اُسی صوبے میں ”امریکیوں کا قبرستان“ بنا دیتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اقتدار کی رسہ کشی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ مولانا فضل الرحمن صدر جنرل پرویز مشرف کا اقتدار مستحکم کرنے کے لئے ”فرینڈلی اپوزیشن لیڈر“ کا کردار ادا کرتے رہے۔ پھر کئی داستانیں عام ہوئیں!
16 ستمبر کو مولانا فضل الرحمن کا ایک بیان میڈیا کی زینت بنا کہ ”حکومت پاکستان اور طالبان میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے اور طالبان کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ جلد ہی مذاکرات کے نئے روڈ میپ اور مکینزم کا اعلان کر دیں گے اور طالبان نے اپنی کارروائیوں کو روک کر مثبت پیغام دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ ہیں“۔ طالبان مذاکرات میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ مولانا فضل الرحمن کو میجر جنرل ثنااللہ خان نیازی اور اُن کے دو ساتھیوں کی شہادت سے اندازہ ہو گیا ہو گا اور مولانا سمیع الحق کو بھی جن کا 16 ستمبر کو ہی بیان منظرعام پر آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ”پاکستان اور امریکہ نے طالبان لیڈروں کو رہا نہ کیا تو مذاکرات میں پیشرفت کا امکان نہیں“۔ سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق کو اطلاع کیوں نہیں دی کہ ”حکومت پاکستان اور طالبان میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے“۔ مولانا سمیع الحق نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ ”آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان کے امریکی جنگ سے باہر نکلنے کی بات ہی نہیں ہوئی جوکہ ناکامی ہے!“۔
مولانا سمیع الحق دہشت گردوں کی منفی طاقت کو اپنی طاقت بنا کر حکومت پاکستان اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان کو کیسے حکم دے سکتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کی جنگ سے (جو، اب دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ بن گئی ہے) مولانا کی خواہش کے مطابق الگ ہو جائے۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ”نظریہ پاکستان“ کی تفسیر و توضیح وہ لوگ بیان کرتے ہیں جن کے اکابرین نے دوقومی نظریہ کی مخالفت کی تھی اور مصور پاکستان علامہ اقبالؒ اور بانی¿ پاکستان قائداعظمؒ کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے تھے۔ طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے ہتھیاروں کے بَل پر پاکستان میں اپنی مرضی کا ”نظامِ شریعت“ نافذ کرنے کا پروگرام اُسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کئی بار اپنا نظریاتی م¶قف واضح کر چکے ہیں۔ انہوں نے30 اپریل کو اسلام آباد میں یومِ شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم عظیم قربانیوں کے باوجود اُس منزل سے دُور ہیں جس کا خواب علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھا تھا“۔ 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کو قائداعظمؒ کے تصور کے مطابق ایک ترقی پسند اور فلاحی مملکت بنانے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم اور پاکستان کی مسلح افواج کے اتحاد پر زور دیا تھا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی میجر جنرل ثنااللہ خان اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد بھی مشتعل نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ ”سیاسی عمل کے ذریعے امن کو ایک اور موقع ملنا چاہئے، لیکن ہم دہشت گردوں کو اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے، حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور پاک فوج عوام کی امنگوں کے مطابق دہشت گردوں سے جنگ لڑے گی“۔ پاک فوج کے افسران اور جوان کب تک ضبط کریں گے؟
پاکستان فوج کے سینئر جرنیل اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کا باعث بننے والے باغیوں کا یہ مطالبہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ ”مذاکرات سے پہلے ہزاروں معصوم اور بے گناہ لوگوں کے قتلِ ناحق میں ملوث 4 ہزار سے زیادہ ملزمان کو رہا کر دیا جائے اور فاٹا سے فوج واپس بلا لی جائے“۔ یعنی فوج واپس بُلا کر فاٹا کے لوگوں کو طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور اگر اُس کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے تو دہشت گردوں کو کون نکیل ڈالے گا؟ وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ جناب سرتاج عزیز نے 16 ستمبر کو ہی ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں بتایا کہ ”القاعدہ۔ افغان طالبان اور طالبانِ پاکستان ایک ہی ہیں اور ہم افغان طالبان کو سپورٹ کر رہے ہیں“۔ تو اینکر پرسن سلیم صافی نے پوچھا ”کیا آپ افغان طالبان سے ”درخواست“ کریں گے کہ وہ طالبان پاکستان کو سمجھائیں؟“.... تو جناب سرتاج عزیز نے خوداعتمادی سے محروم لہجے میں کہا ”بات کریں گے!“۔ جناب سرتاج عزیز ”درخواست کریں گے یا بات کریں گے؟“ جب تک حکومت پاکستان واضح فیصلہ نہیں کرے گی۔ طالبان کا پلّا بھاری رہے گا۔