سیٹھی‘ معین کی زبان سے سنا زہر کو کہتے ہوئے قند....!

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

زمبابوے سے وطن واپسی پر ٹیم کے منیجر معین خان نے کہا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ یقیناً ان کی نظر میں تسلی بخش ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ٹیم منیجر ہیں اور انکا بنیادی فرض ٹیم کے خوش کن تاثر کو ابھارنا خامیوں کو چھپانا اور بری کارکردگی کا دفاع کرنا ہے۔ اس تناظر میں معین خان اپنی ذمہ داری اچھے انداز میں نبھا رہے ہیں۔ اس اعلیٰ کارکردگی پر یقیناً وہ داد کے مستحق ہیں۔ لیکن کیا زمینی حقائق اسکی اجازت دیتے ہیں۔ کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والا اور مصلحتوں سے آزاد ہر شخص کیا زمبابوے کے خلاف قومی ٹیم کی خراب کارکردگی پر وہی سوچتا ہے جو معین خان سوچتے ہیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے کیونکہ جب زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ پورے پانچ دن نہ چل سکے اور وقت سے پہلے ہی نتیجہ خیز ہو جائے ایک ایسی ٹیم جو بے پناہ سیاسی‘ معاشی‘ سماجی اور مالی مسائل کا شکار ہے۔ نسلی انتہا پسندی عروج پر ہے۔ بہترین گورے کھلاڑی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ دوسرے درجے کے کھلاڑی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اسکے باوجود وہ اپنے سے بہت بہتر اور تمام سہولیات رکھنے والی ٹیم کے خلاف ایک ٹیسٹ اور ایک ون ڈے میچ جیت جائے اور سیریز کے باقی میچوں میں بھی ٹف ٹائم دے تو سوچنا پڑتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اگر ٹیم مینجمنٹ سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ڈھول بجا رہی ہے تو ضرور بجا ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ یونس خان اور مصباح کی ذاتی کارکردگی قابل تعریف ہے۔ پہلا ٹیسٹ یونس خان کی ڈبل سنچری کی بدولت ہی بچا تھا لیکن کیا مصباح الحق پاکستان کے لئے ٹیسٹ میچوں میں ”مرد بحران“ کا کردار نبھانے میں یا پھر میچ وننگ اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوا۔ راحت علی اور خرم منظور کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے۔ ان کھلاڑیوں کی کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہوئے ناکام ہونے والوں کی سرپرستی کی ذمہ داری بھی قبول فرمائیں۔
نجم سیٹھی نے بھی مستقبل میں بہتر کارکردگی کی نوید سناتے ہوئے نقادوں کو آسٹریلیا کی شکستوں کی مثال دی ہے کہ وہاں تنقید نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ سیٹھی صاحب کو غلط بریفنگ دے دی گئی ہو کیونکہ آسٹریلیا کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کینگروز کی کامیابیوں کو یکسرانداز کر دیا۔ شاید چڑیا والے صاحب کو یہ بھی نہیں بتایا گیا ہو گا کہ مکی آرتھر کو کرکٹ آسٹریلیا نے اعلیٰ خدمات نہیں بلکہ خراب کارکردگی پر ہی برطرف کیا تھا۔ کرکٹ بورڈ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے دیگر ٹیموں کو ناکامیوں کو مثال بنانا یقیناً عذر گناہ بدتر ازگناہ کے مترادف ہے۔
ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن بدترین اور شرمناک ناکامیوں کے اسباب جاننے خامیوں اور کوتاہیوں کو کھلے دل سے قبول کرنے سے عزت و مرتبے میں کمی نہیں آتی۔ زمبابوے کے خلاف بری کارکردگی کرکٹ کے حوالے سے قومی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو میڈیا کی جنگ اور ناقدین کا غبار سمجھنے کے بجائے حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
آسٹریلیا کی ناکامیوں کا ذکر کرنے والے شاید بھول گئے ہیں کہ اس ٹیم نے 1999ء2003ءاور 2007ءمیں مسلسل تین مرتبہ عالمی کپ بھی جیتا تھا۔ ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے لہٰذا اب یہ جاننے کے لئے مصلحتوں سے آزاد ہو کر کام کریں۔ کیا زمبابوے سے ہارنے کے بعد سب ٹھیک ہے کی رٹ درست ہے؟