حمیت نام تھا جس کا

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب

 پاکستان کی سول سوسائٹی مجرموں کو معافی تلافی دینے کی عادی ہوتی جا رہی ہے، اسے اپنی مہارت اور صلاحیت کے زور پر بھارت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ نئی دہلی گینگ ریپ کے ملزموں کی پھانسی کی سزا معاف کر دے۔
شاہ زیب کے قاتلوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے تجربے سے بھارتی مجرموں کو مستفید کریں تاکہ ان کی جان بچ سکے۔
ہماری وفاقی وزارت داخلہ، چاروں صوبوں کے وزرائے داخلہ اور جیل حکام کو بھی وہ نسخہ بھارت کے گوش گزار کرنا چاہئے جس کی مدد سے ہم نے پھانسی کے ہزاروں مجرموں کی سزا پر عمل درا ٓمد روک رکھا ہے۔
ہو سکے تو صوبہ خیبر پختون خواہ کی حکومت جیلوں کو توڑنے پر خاموش رہنے کی حکمت عملی کو عام کر دے تاکہ بھارت میں بھی یہ نیک سلسلہ چل نکلے، وہ بھی بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں کے قیدیوں کی طرح آزادی کا مساوی حق رکھتے ہیں۔
کچھ دانش عمران خان کے پاس بھی ہے، مولانا فضل الرحمن بھی حکمت میں دو ہاتھ آگے ہی ہیں اور میاں نواز شریف تو تین مرتبہ کے وزیر اعظم کے طور پر گھاگ ہو گئے ہیں۔ یہ حضرات دہشت گردوں کے نامہ اعمال سے تعرض کئے بغیر ان سے مذاکرات کے حامی ہیں ، اس قدر فراخدل لیڈر شپ اور کس قوم کے پاس ہے جو پچاس ہزار اہل وطن شہیدوں کے خون کو پس پشت ڈالتے ہوئے دہشت گردوں سے مذاکرات کا ڈول ڈال رہی ہے۔
اے پی سی کے سارے شرکاءکو دنیا میں رحمدلی کی یونیورسٹی کھول لینی چاہئے۔سینئر بش، جونیئر بش، کلنٹن اور اوبامہ کو جبری طور پر اس میں داخل کر کے انہیں نرم خوئی کا سبق ازبر کروانا چاہئے۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں صرف تین ہزار لوگ مارے گئے، پاکستان میں تو پانچ ہزار فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے اور ابھی ہم نے تین جنازے کل ہی اٹھائے ہیں، ہم یہ سب کچھ بھول سکتے ہیں اور قیام امن کے لئے اپنے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ میز پر آمنے سامنے بیٹھنے کو تیار ہیں تو اس نیک روایت پر امریکہ کو بھی عمل کرنا چاہئے۔
چلئے یہ کام مشکل ہے تو کم از کم پانچ سالہ معصوم بچی (س) کی بے حرمتی پر تو شور نہ مچائیں۔کیا معلوم ہماری پولیس سچ مچ سنجیدگی سے تفتیش شروع کر دے اور اصل ملزموں کو گرفتار کر لے مگر اس کا ڈراپ سین بھی شاہ زیب جیسا نہ ہو جائے۔پولیس پر خواہ مخواہ رعب جھاڑنے کا کیا فائدہ ، اور پھر عدالتوںکا بھی وقت ضائع کیاکرنا۔
ہمارے وزیر اعظم ٹھنڈے دل و دماغ کے مالک ہیں ، حقیقت پسند ہیں ، جذبات کی رو میں بہنے والے نہیں، جانتے ہیں کہ قوموں پر برے سے برا وقت بھی آتا ہے اور اب توا چھا وقت آ رہا ہے، خطے سے امریکی جارح افواج نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں ، ان سے لڑنے بھڑنے والے طالبان بات چیت پر آمادہ ہیں۔پس پردہ نجانے کتنی ہی حکومتی اور غیر حکومتی ٹیمیں کتنے ہی گروپوں کے ساتھ بات چیت میںمصروف ہیں ، کوئی گروپ ابھی رابطے میں نہیں آسکا اور وہ اپنی کاروائیوںمیںمصروف ہے جس نے ہمارے ایک اعلی کمانڈر اور ساتھ دو مزید افسروں کو شہید کردیا ہے، یہ گروپ بھی رابطے میں آ ہی جائے گا، اس نے جانا کہاں ہے، پہلے افغان جہاد والے ابھی ادھر ہی ہیں ، تازہ دم جہادی بھی یہیں ڈیرے ڈالیں گے، امن قائم ہوکر رہے گا ، ان کی دشمنی ہم سے تو ہے نہیں ، امریکہ سے تھی، ہم نے تو امریکہ کے حلیف ہونے کی وجہ سے مار کھائی۔
 ہم نے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا، طالبان نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، مگر امریکہ نے ڈرون حملہ کر دیا جس کی وجہ سے طالبان مجبور ہو کر مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئے۔اب مذاکرات کا فیصلہ اے پی سی جیسے بڑے قومی پلیٹ فارم سے ہوا، طالبان نے اس کا بھی خیر مقدم کیا۔مگر ایک دیسی ساختہ بم نے ہمارے ایک فوجی قائد کا خون کر دیا، یہ قبیح حرکت کس کی ہے ، کہا جا رہا ہے کہ ایسے عناصر کی ہے جو مذکرات اور امن کے مخالف ہیں۔ یہ کون ہیں ،کوئی ان کے بارے میںنہیں جانتا۔
 سنا ہے ہمارے وزیر اعظم ترکی کے دورے میں طالبان کو وہاں دفتر کھولنے کی اجازت لے کر دیں گے۔ خدا کرے ترکی میں بیل منڈھے چڑھ جائے اور کوئی رخنہ اندازی نہ ہو۔اور ہمارے وزیر اعظم کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچے۔
مذاکرات کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آخری فیصلہ تو میز پر ہی ہوتا ہے۔پہلی جنگ عظیم ، دوسری جنگ عظیم ، پہلی پاک بھارت جنگ، دوسری پاک بھارت جنگ اور پھر کارگل کی جنگ۔ہر بار سمجھوتوں سے راستہ نکلا۔یہ اصول ہے تو لاجواب مگر کوئی امریکہ اور اس کے نیٹو کے حلیفوں کو بھی جا کر یہ سمجھائے، وہ تو ہر دو چار برس بعد کسی نہ کسی اسلامی ملک کا بھرکس نکال کر رکھ دیتے ہیں۔ عراق میںنئی کربلا برپا کر دی گئی اور افغانستان کی پہاڑیوں اور میدانوں کو میدہ بنا دیا گیا، اب شام کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے، ساتھ ہی ایران کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں ، ہماری باری کب آئے گی، ابھی تو ہم جھونگے میں مار کھا رہے ہیں ، یعنی ہمارا صرف کولیٹرل نقصان ہو رہا ہے یا یوں کہیے کہ فرینڈلی فائر کی زد میں آ جاتے ہیں۔اصل تو متھا تب لگے گا جب ان کے پیٹ میں ہمارے جوہری اسلحے کا مروڑ اٹھے گا۔پتہ نہیں پھر روس میں کوئی پوتن ہو گا جو ہمارے حق میں آواز بلند کرے گا یا چین کی ہمالیہ سے بلند دوستی ہمارے کسی کام آئے گی، مگر خاطر جمع رکھئے ، ہماری پشت میں چھرا گھونپنے کے لئے بھارت ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرے گا۔
میں جنرل نیازی شہید اور معصوم بچی (س) پر براہ راست کچھ نہیں لکھ سکا، میرے قلم میں ہمت نہیں۔میں اپنے گھر کی بچیوں کی طرف دیکھتا ہوں، کبھی (س)کے حشر کو ذہن میں لاتا ہوں، کبھی مذاکرات کی تڑپ میں مبتلا عناصر کی طرف دیکھتا ہوں ،کبھی شہید جنرل نیازی کی لحد پر چھائی اداسی کی طرف دیکھتا ہوںتو تھر تھرکانپ جاتا ہوں ۔
 جنرل کیانی بڑے حوصلے والے ہیں یا ان کی کوئی محکمانہ مجبوری ہو گی کہ وہ اب بھی مذاکرات کی بات کرتے ہیں، مگر اس قوم کی کوئی مجبوری نہیں ، وہ مر مٹنے کے لئے تیار ہے۔بھارت میں چار مجرموں کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے مگر وہاں کی ماﺅں کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا، ان کا مطالبہ ہے کہ یہ مجرم ان کے حوالے کئے جائیں ، وہ انہیں زندہ جلا کر کلیجہ ٹھنڈا کرنا چاہتی ہیں۔کیا پاکستانی قوم بھارتی ماﺅں سے بھی گئی گزری ہے کہ روز شہیدوں کے جنازے پڑھے، اس سے بہتر ہے کہ عمران خاں، فضل الرحمن، سید منور حسن اور سمیع الحق پوری قوم کا یک بارگی جنازہ پڑھا دیں۔پتہ نہیں ان میں سے کسی نے شہید جنرل نیازی کے جنازے میں شرکت کی یا نہیں، یا شہید مفتی سرفراز نعیمی کا جنازہ پڑھا تھا یا نہیں۔سناہے غیرت کا بھی جنازہ اٹھتا ہے، پاکستانی قیادت کی غیرت کا جنازہ خدا نہ کرے کب کا اٹھ چکا۔؟