ترمیم کے بعد ’’ختم نبوت‘‘ کا معاملہ ہمیشہ کیلئے حل

ترمیم کے بعد ’’ختم نبوت‘‘ کا معاملہ ہمیشہ کیلئے حل

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اجلاس سے واک آئوٹ کر کے کورم توڑ دیا اور پھر خود ہی کورم ٹوٹنے کی نشاندہی کرکے اجلاس ملتوی کرا دیا ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)کی ٹیکنیکل کمیٹی کے اعلان کے مطابق 36فیصد پانی کی کمی کے حوالے سے یوسف تالپور، شازیہ مری، نوید قمر اور ڈاکٹر عذرافضل پیچوہو کی جانب سے پیش کئے گئے توجہ دلائو نوٹس پر جواب کیلئے آبی وسائل کے وزیر کے ایوان میں عدم موجودگی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ توجہ دلائو نوٹس پر متعلقہ وزیر سمیت کوئی بھی وزیر ایوان میں نہیں ہے، وزراء اور حکومت کا رویہ افسوسناک ہے، پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کے تمام ارکان نے ایوان سے علامتی واک آئوٹ کر دیا تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری نے آئو دیکھا نہ تائو کورم کی نشاندہی کر دی جس پر اجلاس کچھ دیر کے لئے اجلاس کی کارروائی معطل کی گئی پریزائیڈنگ آفیسر محمود بشیر ورک اجلاس کا دوبارہ آغاز کرنے کیلئے گنتی کا حکم دیا لیکن کورم پورا نہیں ہوا جس پر قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ جمعہ کو مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں کی از سرنو حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2017 ارکان کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے کے سبب سینیٹ میں پیش نہیں کیا گیا سینیٹ اجلاس میں 50 ارکان موجود تھے جب آئینی ترمیم کے لئے 68ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے لہذا قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل کی منظوری پیر تک موخر کر دی گئی۔قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی انتخابات ایکٹ ترمیمی بل 2017 اتفاق رائے سے منظور کرلیا ۔ جمعہ کو چئیرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے انتخابات ترمیمی بل 2017 منظوری کے لیے پیش کیا ۔انتخابات ترمیمی بل 2017 ء کے مطابق احمدیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی، ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے کی حیثیت آئین میں پہلے سے درج والی ہوگی۔ووٹر لسٹ میں درج کسی نام پر سوال اٹھے تو اسے 15 دن کے اندر طلب کیا جائے گا، متعلقہ فرد اقرار نامے پر دستخط کرے گا کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔متعلقہ فرد اقرار نامے پر دستخط سے انکار کرے تو غیر مسلم تصور ہوگا اور ایسے فرد کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا کر ضمنی فہرست میں بطور غیر مسلم لکھا جائے گا۔سینیٹ سے منظور ہونے والے بل میں ختم نبوت سے متعلق انگریزی اور اردو کے حلف نامے بھی شامل ہیں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کا تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعدسابق وزیراعظم نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ کا صدر بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لئے انتخابی اصلاحات بل 2017 منظور کر لیا یہ بات منظر عام پر آئی کہ اس بل کی منظوری کے دوران ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ قومی اسمبلی نے انتخابات ترمیمی بل 2017 متفقہ طور پر منظور کیا جب کہ الیکشن بل میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی۔ زاہد حامد نے کہا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ختم نبوت پر ایمان ہے جب کہ احمدی کی حیثیت آئین کے مطابق غیر مسلم ہی رہے گی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ختم نبوت سے متعلق حلف کے بجائے اقرار نامے کے الفاظ آئے تاہم پارلیمنٹ نے اب ختم نبوت کے حلف نامے کو محفوظ کردیا ہے ۔قومی اسمبلی کو آگاہ کیاگیا ہے کہ اسلام آباد میں ایمبیسی روڈ پر درخت ٹریفک کے بہائو کو بہتر بنانے کیلئے کاٹے گئے، کل 191درخت لگادیئے گئے ہیں اور 2450درخت مزید لگائے جائیں گے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت تو کرتے ہیں لیکن ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری اب دم توڑ رہی ہے، ہم نے دہشت گردی کو کم کر دیاہے، وزیرمملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری دفاتر میں معذور افراد کیلئے راستہ بنانے اور ان کو سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے بل جلد ایوان میں پیش کیا جائے گا پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود نے کہاہے کہ مسلم لیگ(ن ) کا شیرازہ بکھررہا ہے، حکومت مفلوج ہوچکی ہے، معیشت تباہ ہورہی ہے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں محصور ہو گئی ہے، حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ۔ مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ حکومت چاہے تو قبل ازوقت انتخابات کروا سکتی ہے قبل ازوقت انتخابات کا کسی کو فائدہ نہیں ہو گا ۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے اپنی تقریر کے دوران غالب اور افتخار عارف کے اشعار کے ذریعے اپنا مدعا بیان کیا مرزا اسداللہ خان غالب کی مشہور غزل "درخور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا"کا شعر "بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ،الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا "اور افتخار عارف کا مشہور شعر "رحمت سید لولاک پر کامل ایماں ، امت سید لولاک سے خوف آتا "۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا اعلان نہ کرنا غیر آئینی ہے۔ حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کے لئے سینیٹ سے اجازت لینا ہوگی،سینیٹ کو صوبوں کے حصوں میں اضافے کا آئینی اختیار حاصل ہے، دوسرا بجٹ بھی این ایف سی ایوارڈ کے بغیر گذر گیا ہے۔ چئیرمین سینیٹ نے پیپلز پارٹی کے رکن مختیارعاجز دھامرہ کو رولنگ پر بات کرنے سے منع کردیا جس کے بعد انہوں نے ایوان سے واک آئوٹ کر دیا ۔