ایم ایم اے ا ور جماعت اسلامی

ایم ایم اے ا ور جماعت اسلامی

قبلہ سراج الحق ےوں تو تھوڑی دیر کے لئے غریب خانے پر تشریف لائے مگر کئی کہانیاں چھیڑ گئے۔ ان میں سے ایک متحدہ مجلس عمل کاا حیاءزیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

ایم ایم اے جو متحدہ مجلس عمل کا مخفف ہے، خیبر پی کے میں پانچ برس تک حکومت کر چکا ہے۔یہ ملک کی اہم ترین اور وقیع دینی اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد تھا جس میں قاضی حسین احمد کی زیر قیادت جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت جے یو آئی ف، مولانا سمیع الحق کی زیر قیادت جے یو آئی س، علامہ ساجد میر کی زیر قیادت جماعت اہل حدیث،مولانا شاہ ا حمد نورانی کی زیر قیادت جے یو پی،علامہ ساجد نقوی کی زیر قیادت تحریک جعفریہ پاکستان کے نام نمایاں تھے۔
ایم ایم اے کی تشکیل پر بڑا عتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسے جنرل پرویز مشرف ا ورا س کی فوجی ایجنسیوں کے ایما پر بنایا گیا۔ یہ الزام ایک صریح جھوٹ ہے، وجہ میں بتاتا ہوں۔ جنرل مشرف ایک بار سیاچن گئے اوروہاں اپنے افسروں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نعرہ تکبیر اللہ اکبر بلند کیا جس پر امریکی ہفت روزہ ٹائم نے سرخی جمائی کہ فنڈو جنرلز( بنیاد پرست جرنیل) یہ کوئی صحافت نہیں تھی، ایک پھبتی تھی مگر مشرف نے مارشل لاءنافذ کیا اور بنیاد پرستی کا الزام دھونے کے لئے کتے کو گود میں اٹھاکر ایک تصویر اخبارات میں چھپوائی جس پر قاضی حسین احمد نے اسے للکارا کہ پاکستان میں نہ کسی اتا ترک کی گنجائش ہے ، نہ پاکستان کو ترکی جیسا سیکو لر ملک بننے دیں گے۔ جنرل مشرف کے لئے یہ ناقابل برداشت تھا اور فوری طور پر قاضی حسین احمد کی نظر بندی کے احکامات جاری ہو گئے۔ جنرل مشرف کے مارشل لاءمیں قاضی صاحب پہلے سیاسی قیدی کی حیثیت رکھتے ہیں، باقی کچھ لوگوں کو کرپشن میں اندر کیا گیا اور کچھ دیگر مخالفین کوسنگین الزامات کے تحت۔یا انتقامی طور پر۔
اسی جنرل مشرف کے دور میں الیکشن ہوئے جن میں ٹکٹوں کی تقسیم آئی ایس آئی کے ایک سینئر ترین افسر میجر جنرل احتشام ضمیر کے سپرد تھی، پنجاب میں یہ فیصلے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر جو سیکرٹری داخلہ کی کرسی پر فائز تھے،کے سپرد تھے۔ ق لیگ کی کھلے عام سر پرستی کی جا رہی تھی، اس لئے ایم ایم اے نے لاہور سے کراچی تک ٹرین مارچ کا فیصلہ کیا تو اس کی لیڈر شپ کو ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کر لیا گیا، کراچی تک صرف امیر العظیم پہنچنے میں کامیاب ہوئے ، انہوںنے بھی صحافی کا بہروپ اپنایا اور گلے میں ایک کیمرہ لٹکا لیا۔ چنانچہ پولیس ان کو شناخت کرنے میںناکام رہی۔ اس پس منظر میں یہ الزام صرف ایک طعنہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایم ایم اے ایجنسیوں کے ایما پر بنائی گئی۔ اس اتحاد کو خیبر پی کے میں اکثریتی ووٹ ملا۔ اس کی وجہ افغانستان میں انسانیت سوز امریکی بمباری تھی جس کے ردعمل میں خیبر پی کے میں عوام نے یہ سوچا کہ افغانستان میں ظلم کرنے والوں سے صرف دینی اور مذہبی قیادت ہی ٹکر لے سکتی ہے ، اس سے پہلے جب سوویت روس نے افغانستان پر یلغار کی تھی اور اس کی نیت میں فتور یہ تھاکہ وہ پیش قدمی کرتے ہوئے بلوچستان کے ساحل پر قابض ہو جائے اور گوادر کو گرم پانیوں کی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرے، گوادر پر قبضے کی خواہش زار شاہی روس کے زمانے سے چلی آ رہی تھی اور اس سپر پاور سے جو لوگ ٹکرائے، ان کا تعلق کم و بیش انہی جماعتوں سے تھا جو ایم ایم اے میں شامل تھیں، اس لئے اب امریکی یلغار کو روکنے کے لئے بھی انہی جماعتوں سے امید باندھی گئی، یہ تھا ایم ایم اے کو ووٹ ملنے کا راز، ق لیگ کی طرح جنرل مشرف کے اشارے پر اسے ووٹ نہیں ملے۔
جو علمائے کرام اس وقیع اور قابل قدر اتحاد میں شامل تھے، وہ علم، عمل اور کردار کے لحاظ سے اس معاشرے میں ستاروں کی مانند چمکتے ہیں، ان کی علمیت کے سامنے عام سیاسی جماعتوں کی مجموعی لیڈرشپ ہیچ ہے، ان کے کردار پر عوام اس طرح انگلیاںنہیں اٹھاتے جیسے عام سیاست دانوں پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں، ان کی گورننس میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسے دور میں انہوںنے صوبے کے معاملات کوکنٹرول کیا جب عالمی دہشت گرد پاکستان کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہے تھے مگر ایم ایم اے نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دیئے اور کوئی ایسا بڑا سانحہ نہیں ہوا جس سے ملک ہل کر رہ گیا ہو۔ جیسا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سو بچوں کو شہید کیا گیا۔ اگرچہ ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسی وفاق کے ہاتھ میں تھی جہاں ایک مارشل لا ڈکٹیٹر آمر مطلق بن کر فیصلے کر رہا تھا ، مگر آئین کے اندر رہتے ہوئے ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے ان پالیسیوں پر آنکھیں بند کر کے مہر تصدیق ثبت نہیں کی وہ آج بھی دہشت گردی کی اس جنگ کے خلاف ہیں جیسے اپنے دور حکومت میں اسے امریکی جنگ سمجھتے تھے۔ دشمن نے بڑی عیاری سے اسے ہماری جنگ بنانے کی کوشش کی مگر ایم ایم اے کی پارٹیاں یہ تھیوری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ضرب عضب سے پہلے قومی سطح پر ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوئی کیونکہ دینی جماعتیں مذاکرات سے د ہشت گردی کا خاتمہ چاہتی تھیں۔بیت اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر تب کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے جس رد عمل کا ظہار کیا تھا اس سے بھی یہ تاثر ملتا تھا کہ حکومت بھی مذاکرات ہی کو مسئلے کا حل سمجھتی ہے مگر آرمی پبلک اسکول کے المیے نے سارا نقشہ ہی بدل دیا اور ایم ایم اے نے قومی دھارے کا ساتھ دیا۔
اب نئے الیکشن کی تیاری ہے۔نت نئے محاذ اور اتحاد بن رہے ہیں، کراچی میں ایم کیو ایم کے دھڑے اکٹھے ہوئے پھر ایک دوسرے کی سر پھٹول میںمصروف ہو گئے، جنرل مشرف نے درجن دو درجن پارٹیوں کے اتحاد کا اعلان کیا مگر یہ بھی ٹھس نظر آتا ہے، ایم ایم اے کی پارٹیوں نے اس اتحاد کے احیاءکے لئے بات چیت شروع کر دی ہے، سراج الحق نے مجھے بتایا کہ ایک اجلاس اسلام آباد میں ہوا، ایک منصورہ میں، ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ممکنہ طور پر مثبت فیصلے کی توقع ہے، ایک بار فیصلہ ہو جائے تو پھر نئی تنظیم کی تشکیل کی جائے گی اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ وہ دیگر مذہبی دینی جماعتوں کو اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اس میں شامل ہو سکتے ہیں، اسی طرح انس نورانی کی جے یو پی بھی بدستور ا سکا حصہ بنی رہے گی۔
عام سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ لوگ مولوی کا وعظ تو سنتے ہیں، اس سے نکاح بھی پڑھوا لیتے ہیں اور جنازے کی امامت کے لئے بھی درخواست کرتے ہیں مگر ووٹ دینے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہ سائنسی طور پر درست خیال نہیں کیونکہ گیلپ آف پاکستان کے سروے مطابق سات فیصد لوگ دینی جماعتوں کو ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر ان کا اتحاد تشکیل ہو جائے تو بائیس فی صد ووٹر اس کی تائید کے لئے تیار ہیں۔ ایک اتحاد اگر مجموعی طور پر بائیس فی صد خالص ووٹ حاصل کر لے تو اسے حکومت سازی سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی بلکہ کئی دوسری پارٹیاں اس کے ساتھ تشکیل حکومت کے لئے عرضیاں ہاتھوں میں لئے کھڑی ہوں گی۔ جماعت اسلامی اگرا س اتحاد کے احیاءمیں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کاملکی سیاست پر احسان عظیم ہو گا۔ لوگوں کو وڈیروں، جاگیر داروں،اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے سیاست دانوں سے نجات مل جائے گی۔
٭٭٭٭٭