عمران خان کے پاس دو لاکھ کی چار بکریاں ہیں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
عمران خان کے پاس دو لاکھ کی چار بکریاں ہیں

ایک سروے میں پاکستان کے امیر ترین یعنی امیر کبیر لوگوں کے نام آئے ہیں۔ کسی سروے میں غریب ترین بھی یعنی غریب شریب لوگوں کا بھی ذکر ہوتا وہ تو کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے۔ یہ کیا ظلم ہے کہ امیر کبیر لوگ چند ایک ہوتے ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہو گی۔ دولت کی مساوی اور حقیقی تقسیم بڑی ضروری ہے۔ میری تو مرزا غالب کی طرح یہ خواہش ہے کہ میرے ملک میں کوئی بھی رات کو بھوکا نہ سوئے۔ غالب نے اپنے شہر کی بات کی تھی۔
پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں پہلے نمبر پر نواز شریف ہیں۔ ان کے اثاثے ایک ارب 65کروڑ ہیں۔
مگر میرے لئے حیرانی اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ دوسرے نمبر پر عمران خان ہیں۔ ان کے اثاثے ایک ارب 40 کروڑ ہیں۔ تو وہ نواز شریف پر کیسے تنقید کرتے ہیں اور کرپشن کے الزامات کی بھرمار کرتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ ایک حد تک امیر ہونا جائز ہے۔ اس کے بعد بہت زیادہ امیر ہونا ناجائز اور نمبر دو کاموں بلکہ وارداتوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف اور عمران خان ایک ہی صف میں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ معاملہ صرف ”نہلے پہ دہلا“ جیسا ہے اس کے علاوہ خورشید شاہ مولانا فضل الرحمن، اعتزاز احسن، جہانگیر ترین، شہباز شریف، اسحاق ڈار، شیخ رشید، چودھری نثار، حسین نواز، حمزہ شہباز، کیپٹن صفدر وغیرہ وغیرہ۔
وہ جو عوامی نمائندے ہیں اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں سب کے سب کروڑ پتی تو ضرور ہوں گے۔ وہ غریب ترین لوگوں کے ووٹ لے کے آتے ہیں۔ وہ امیر ترین کی فہرست میں آتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کے علاوہ بھی بہت لوگ کروڑ پتی ہیں۔
ایک غریب آدمی کے سامنے کروڑوں کی بات ہو رہی تھی۔ اس نے کہا کوئی اور بات کرو۔ میں نے تو ایک لاکھ روپے بھی اکٹھے کبھی نہیں دیکھے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کو معلوم نہیں ہے کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے اور ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ انہیں بھی یاد نہیں ہے کہ ان کے پاس کتنی دولت ہے؟
نواز شریف کے پاس 50لاکھ کے جانور ہیں۔ عمران خان کے پاس 2 لاکھ کی چار بکریاں ہیں۔ میرے دل میں ان بکریوں کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ان کے دودھ کا ذائقہ زیادہ مزیدار ہو گا۔ ممکن ہے اس دودھ میں طاقت بھی زیادہ ہو۔
میں حیران ہوں کہ اتنا پیسہ اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو دولت آدمی کے کسی کام نہیں آتی اسے جمع کرکے رکھنا کیسی حماقت ہے۔ اتنا پیسہ کافی ہے اور یہ ضروری بھی ہے کہ آدمی عزت مندانہ اور خوشحال زندگی گزار کے چلا جائے۔ جو پیسہ انسان کی جیب میں ہے وہ بھی اس کا نہیں ہے اس کے مرنے کے بعد سب سے پہلے اس کی جیب پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ پیسہ اس کا صرف وہ ہے کہ جو اس نے خرچ کیا۔ میرے کل کے کالم کے حوالے سے بہت دوستوں نے فون کئے۔ ان کے خیال میں کئی باتوں کا ذکر میں نے نہیں کیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے نواز شریف کی آمد کے وقت آصف کرمانی ٹریفک وارڈن بن گئے اور گاڑیوں کو جلدی گزرنے کے لئے ہاتھ کے اشارے سے ہدایات دیتے رہے۔ نبیل گبول نے کہا کہ نواز شریف جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکے جواب دینے کی بجائے ان سے سوال کرتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ نبیل گبول کو یہ کمرے کے اندر کی باتیں کس نے بتائیں۔ کیا جے آئی ٹی کے ممبران میں سے کوئی اس کا جاننے والا ہے۔
ناہید خان کی بات دلچسپ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فیصلہ کریں کہ وہ بھٹو بنیں گے یا زرداری بنیں گے۔ اس کا جواب بڑا آسان ہے۔ میں بلاول بھٹو کی آسانی کے لئے بیان کرتا ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری یہ کہیں کہ میرا نام دیکھ لیں جس میں بھٹو بھی ہے اور زرداری بھی۔ یہ نام مجھے آصف زرداری نے دیا ہے۔ میں دونوں کی شخصیت کو سامنے رکھوں گا۔ آصف زرداری بھی اب مسلمہ سیاستدان ہے۔ وہ کتنی آسانی سے صدر پاکستان بن گیا اور پانچ سال تک ایوان صدر کا مالک رہا۔
بھٹو غیر سیاسی طاقتوں کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ زرداری صاحب نے حکمت عملی سے معاملات کو انجام تک پہنچایا۔
آخر میں پاکستان بھارت کی سرحد پر ایک گاﺅں چونڈہ کی رہنے والی ممتاز شاعرہ شکیلہ جبیں کے دو اشعار سنیں۔ یہ حیرت انگیز شاعری پنجابی کے ایک وکھرے ڈکشن کے ساتھ لکھی گئی ہے
سوہنیا وے سُن مینوں سوہنی کر دے
ہونی ہُندی ویکھی انہونی کر دے
آئی ساریاں تو پہلے میں جھولی پھڑ کے
سودا ہٹی وچوں دے میری بو ہنی کر دے