یہ کیسا طرز حکمرانی ہے۔۔۔؟

یہ کیسا طرز حکمرانی ہے۔۔۔؟

وزیر پٹرولیم استعفیٰ دے ۔وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ دس دن بعد پٹرول کا مسلہ حل ہو جائے گا۔وزارت پٹرولیم کی نالائقی کی سزا عوام بھگتیں اور یہ لوگ اپنی عیش جاری رکھیں ؟ایک غریب رکشہ والا مزید دس روز اپنے بچوں کا پیٹ کہاں سے پالے گا ؟ ایمبولینس کی عدم دستیابی کے باعث اور کتنے لوگ مر جائیں گے ،کبھی سوچا تم نے ؟ پاکستان کا نظام زندگی ایک وزیر پٹرولیم کی نالائقی کا محتاج ہے ؟ وزیر اعظم کی منسٹریاں انہیں لالی پاپ دیتی ہیں ،جھوٹ بولتی ہیں ،نہ کوئی منصوبہ بندی اور نہ کوئی حکمت عملی ہے ان کے پاس ،ڈنگ ٹپاﺅ کی طرز حکمرانی ہے۔ وزارت پٹرولیم کو اندازہ نہ تھا کہ تیل کے نرخ گرنے سے طلب میں اضافہ ہو گا ؟ وزارتیں چلانی آتی نہیں اور کرسیوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ایک عام شہری بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ قیمت گرنے سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتا ہے اور ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیئے سپلائی کا خاطر خواہ انتظام لازمی بنایا جاتا ہے۔یہ وقت ٹپاﺅ اعلانات اور فیصلے ناکام طرز حکمرانی کا ثبوت ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں حکومتی عہدوں پر وہ لوگ بٹھائے جاتے ہیں جن میں قابلیت و صلاحیت ہوتی ہے ،پاکستان میں حساس عہدوں پر بھی گاجے ماجے لا کر بٹھا دئے جاتے ہیں۔جس کارکن نے قیادت اور پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی ،اسے عہدہ دے دیا۔ہنر اور صلاحیت کو فوقیت دی ہوتی تو حکومت کچھوے کی چال رینگ نہ رہی ہوتی۔ یہ کیا طریقہ حکمرانی ہے ؟حرکت تیز تر اور رفتار آہستہ آہستہ ؟سی این جی نہیں مل رہی تو پٹرول پر گاڑیاں چلائی جائیں گی اور جب پٹرول بھی دستیاب نہ ہو تو عوام کہاں جائیں ؟ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں گر چکی ہیں مگر پاکستان کی قسمت میں سہولیات سے مستفید ہونا نہیں لکھا۔ چور بازری کی لعنت اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔گیس اور بجلی کے بعد اب پٹرول بھی پرفیوم کی شیشی میں ملنے لگے گا ؟حکومت کس بلا کا نام ہے ؟وزیر اعظم دن رات میٹنگز کرتے ہیں، ملک کے حالات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی ٹیم نالائق انہیں لے ڈوبے گی ۔ حکومتی نتائج سست روی کا شکار ہیں۔ میٹنگز دیکھیں اور زمینی کارکردگی کا جائزہ لیں تو تضاد دکھائی دیتا ہے ۔ اچھی خبروں کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پا تا۔ چند روز کوئی سہولت مہیا کی جاتی ہے تو اس کے بعد پھر وہی طویل قطاریں اور عوامی غم و غصہ۔ ذمہ دار ادارے کو چاہئے تھا کہ پٹرول کی سپلائی کا تسلی بخش بندوبست کرتے مگر ہر معاملہ کی طرح اس معاملہ میں بھی حکومت کے پاس نہ کوئی حکمت عملی ہے اور نہ منصوبہ بندی ۔ شکایات پر وزراءکو طلب کر لیا جاتا ہے اور وزرا کے جواز اور دلائل کے سامنے وزیر اعظم میٹنگ بھگتا کر اگلی میٹنگ کال کر لیتے ہیں۔تیل کی پوری منسٹری ہے ، کیا ان لوگوں کو علم نہ تھا کہ کی پٹرول کی شارٹج ہو سکتی ہے ؟ حکومتی نمائندے کس خدمت کے عوض پروٹوکول اور مراعات وصول کر رہے ہیں؟وزرا کی نالائقی اور کام میں عدم دلچسپی کے باعث الزامات کا سارا لوڈ وزیر اعظم پر آتاہے ۔ وزیر اعظم نہ خود فرشتہ ہیں اور نہ فرشتے تلاش کر سکتے ہیں،عمران خان نے بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ فرشتے تلاش نہیں کر سکتے لہذاشیخ رشید جیسوں سے کام لینا ہو گا۔ نہ اس ملک میں فرشتے آباد ہیں اور نہ فرشتے درکار ہیں ،کرپٹ معاشرے سے کرپٹ لوگ ہی آگے لائے جائیں گے ۔ایک شریف آدمی کا ”نوابی لائف سٹائل “ سے کیا تعلق ؟ سیاسی بھانڈ کرسیوں پر بٹھا دیئے جاتے ہیں ، وزیر اعظم کی تسلی و تشفی کے لیئے جھوٹی تاویلیں گھڑ لاتے ہیں اور وزیر اعظم بھی پرانے وفاداروں کا ادھار چکانے پر مجبور ہیں ۔ ان کا وزیر پٹرولیم پٹرول کی عدم دستیابی کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کر سکا۔امریکہ میں پٹرول پمپ اپنی قیمت خود تجویز کرتے ہیں ،مارکیٹ میں مقابلہ ہے،سپلائی کا بندوبست پہلے کیا جاتا ہے ۔جہاں ایک سینٹ بھی کم پٹرول ملے لوگ اس پٹرول پمپ پر چلے جاتے ہیں مگر پاکستان میں ہر چیز حکومت کے کنڑول میں ہے ،کاروباری طبقہ اور حکومت کے بیچ عوام کا دلیہ ہو رہا ہے ۔بیورو کریسی چاہتی ہے کہ ساری پاور ان کے پاس رہے ،بزنس طبقہ کو دبا کر رکھنا چاہتی ہے، عدم اعتماد کی اس فضاءمیں نتائج عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔فری مارکیٹ میں گاہکوںکو فائدہ ہے مگر اس نظام کے لئے طرز حکمرانی کا ”پڑھا لکھا“ ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم شاہ عبداللہ کی عیادت کو گئے، امید ہے پاکستان میں انتہاپسندی کے ایشو پر بیرونی مداخلت کا سوال بھی اٹھایا ہو گا۔ بیرونی انتہاپسندی پاکستان میں جلتی پر تیل کا کام دے رہی ہے۔ چلو کہیں تو تیل دکھائی دیتا ہے۔