پٹرول کا ’’بُڈّھا دریا‘‘ اور بابا ٹلّ؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
 پٹرول کا ’’بُڈّھا دریا‘‘ اور بابا ٹلّ؟‘‘

بابا ٹلّ۔: میرے خواب میں آئے، اِس بار انہوں نے اپنے گلے میں لٹکا ہُوا ’’ٹلّ‘‘ نہیں بجایا۔ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں بمشکل تمام کسی گھی کمپنی کا 17 کلو کا کنستر اُٹھا رکھا تھا جو انہوں نے میرے ڈرائنگ روم میں بچھے قالین پر رکھ دِیا۔ پھر وہ اپنے لئے مخصوص سِنگل صوفے پر بیٹھ کر ہانپنے لگے۔ مَیں نے پُوچھا باباٹلّ جی! یہ گھی کا کنستر کیوں؟
باباٹلّ:۔ ’’کنستر میں گھی نہیں پٹرول ہے جو مَیں نے قطرہ قطرہ آپ کو تحفہ دینے کے لئے جمع کِیا ہے ’’Jerrycan ‘‘ میں لاتا تو  کوئی مجھ سے چھِین بھی سکتا تھا۔‘‘
مَیں:۔ لیکن پٹرول کا کنستر تو آپ اپنی گاڑی میں ہی لائے ہوں گے؟
بابا ٹلّ:۔ ’’جناب عمران خان کی دوسری شادی کے فوراً بعد مَیں نے اپنے چاروں ڈرائیوروں کو دوسری ٗ تیسری ٗ چوتھی اور پانچویں بار ہنی مون پر بھجوا دِیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے پیارے پنجاب میں پٹرول کی قِلّت پیدا ہو جائے گی!‘‘
مَیں:۔ تو آپ اِتنا بڑا کنستر کیسے لے آئے؟
بابا ٹلّ:۔ ’’مَیں یہ کنستر اپنی سائیکل کے ’’Carrier‘‘ پر باندھ کر لایا ہُوں۔‘‘
میَں:۔ کیا یہ وہی سائیکل ہے جس کے کیریئر پر بٹھا کر ٗ کئی سال پہلے علّامہ طاہر القادری آپ کو جھنگ سے لاہور لائے تھے اورآپ کو داتا دربار چھوڑ کر خود ماڈل ٹائون چلے گئے تھے؟
بابا ٹلّ:۔’’یہ میری ذاتی سائیکل ہے جس پر مَیں علّامہ القادری کے دونوں بیٹوں حسن محی الدّ ِین اور حسین محی اُلدّ ِین کو چڑیا گھر اور عجائب گھر کی سیر کرایا کرتا تھا۔‘‘
میَں:۔ لیکن بابا ٹلّ جی! گاڑی میری نہیں میرے بیٹے شہباز علی چوہان کی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ وہ بھی ایک محب ِ وطن پاکستانی کی طرح پٹرول خریدنے کے لئے تین/ چار گھنٹے تک قطار میں کھڑا ہونے کی عادت ڈالے۔ قائدِاعظم کے کم از کم ایک فرمان یعنی ’’Discipline‘‘ پر تو عمل کرے گا۔ آپ یہ پٹرول۔پٹرول کی قِلّت کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کسی ٹیم کو دے دیں۔ اُن کو ٹائر جلانے میں کام آئے گا۔
بابا ٹلّ:۔ ’’میرا خیال ہے کہ پوری قوم کو وزیرِ پٹرولیم جناب شاہد خاقان عباسی اور اُن کی وزارت کے اعلیٰ افسران کا بھی شُکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے پٹرول کی قِلّت پیدا کر کے پوُری قوم کو قائدِ اعظم کے فرمان پر عمل کرنے کی عادت تو ڈال دی۔‘‘
میَں:۔ بابا ٹلّ جی! جناب شاہد خاقان عباسی نے کیا خُوب کہا ہے؟ کہ ’’پٹرول کی خریداری میں 25 فی صد اضافہ ہو گیا تھا!‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا مختلف قِسم کی گاڑیاں ٗ موٹر سائیکل اور سکوٹر پٹرول زیادہ پینے/ کھانے لگے ہیں؟
بابا ٹلّ:۔’’کچھ دوسری وجوہات بھی ہیں۔‘‘
میَں:۔ مثلاً؟
بابا ٹلّ:۔ ’’جن مقامات پر بارہ بارہ اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے وہاں کے لوگ سرسوں کے تیل کے بجائے پٹرول سے دیے جلانے اور اپنے سروں اور جِسموں کی مالش بھی پٹرول سے ہی کرانے لگے ہیں۔ سانڈے کا تیل بیچنے والے بھی تیل میں پٹرول کی ملاوٹ کرنے لگے ہیں۔ اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’اِس طرح سانڈے کا تیل دو آتشہ ہو جاتا ہے۔‘‘میرا خیال ہے کہ  پٹرول کی قِلّت اور اُسے خریدنے کی ذِلّت سے بچنے کے لئے سائیکل سواری کو اپنایا جائے۔‘‘ مشہور گلوکار ابرارالحق نے تو چودھری برادران کی مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان کو مقبول بنانے کے لئے عرصہ ہُوا ’’آجا  آبہہ جا  سیکل تے‘‘ کا گِیت گا کر قوم کو بروقت آگاہ کر دِیا تھا لیکن ’’اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔‘‘
میَں:۔ ’’بابا ٹلّ جی! مختلف گاڑیاں مختلف ’’Horsepowers ‘‘ کی ہوتی ہیں کیوں نہ ہم پھر سے’’Horseriding ‘‘ یعنی  گُھڑ سواری کو رواج دیں؟ میری تجویز ہے کہ ’’ہر وفاقی وزیر کو دو گھوڑے ٗ صوبائی وزیر کو ایک گھوڑا ٗ صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو ایک ایک درجن گھوڑے الاٹ کر دیئے جائیں۔ البتہ ایوانِ صدر اور وزیرِاعظم ہائوس کے باہر کئی کئی ہاتھی جُھولتے ہوں تو اِس سے قوم کا وقار بڑھے گا۔‘‘
بابا ٹلّ:۔ ’’گُھڑ سواری تو مجھے بھی بہت پسند ہے اور بڑے لوگوں کی گھوڑِیاں گانے والے بھی لیکن ایک بار مَیں اور میرے دوست علّامہ القادری گھوڑے کی پچھاڑی کھڑے تھے کہ اُس نے دولتّی جھاڑ دی اب ہم دونوں لنگڑا کر چلتے ہیں اور ہاتھی اور ہاتھیوں کو دیکھ کر مجھے سکندرِ اعظم کے گھوڑوں کے مقابلے میں اُترنے والے ٗ پنجاب کے  مہاراجا پورس کے ہاتھی یاد آ جاتے ہیں۔‘‘ میرا خیال ہے کہ ہمارے ’’سُخن ور صدر‘‘ اور خوبصورت وزیرِاعظم کے لئے اُونٹ کی سواری بہتر رہے گی۔ معرُوف ادِیب اور شاعر ابنِ اِنشاء نے ’’انشاء جی اُٹھو! اب کُوچ‘‘ والی نظم لِکھنے سے پہلے لِکھا تھا کہ ’’اُونٹ ایک اسلامی جانور ہے‘‘ اگر ہمارے صدر اور وزیرِاعظم اُونٹ کی سواری شروع کر دیں تو برادرِ اسلامی مُلکوں سے ہمارے تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے۔‘‘
میَں:۔ آپ شاید بھُول گئے کہ ’’اُونٹ کا انتقام‘‘ بد نامی کی حد تک مشہور ہے۔ ’’شُتر کِینہ‘‘ کی اصطلاح آپ نے سُنی ہی ہو گی  علاوہ ازیں اُونٹ سے ہر کوئی ایک ہی سوال کرتا ہے کہ  ’’اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سِیدھی؟‘‘ ہر سیاسی اور معاشی بحران میں بھی لوگ ایک دوسرے سے پُوچھتے ہیں کہ ’’نہ جانے اُونٹ کِس کروٹ بیٹھے؟ البتہ اُونٹنی المعرُوف ’’ڈاچّی‘‘ اور ڈاچّی سوار کو ہماری پنجابی شاعری میں خاص موضوع بنایا گیا ہے۔ جب بھی ہمارے صدر اور وزیرِاعظم کی بیرونی دَوروں میں مصروفیات بڑھ جائیں گی تو پُوری قوم اُن کی یاد میں گائے گی کہ  ؎
تیرے باہج جِینا بے کار وے
ڈاچّی والیا موڑ مُہار وے‘‘
تیری ڈاچی دے گل وچ ٹلیاں
میں تاں جاتی عمرا چلی آں
بابا ٹلّ:۔ ’’پٹرول کی قِلّت‘‘ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہُوا کہ بے روزگار نوجوان اب ’’دھکا سٹارٹ سروس‘‘ شروع کر کے  اپنی روزی کما سکتے ہیں۔ پرانے زمانے میں گلی محلّوں میں ’’منجی ٗ پِیڑی ٹھکوالو‘‘ کی آوازیں آتی تھیں اب جہاں بھی کسی کی گاڑی پٹرول نہ ہونے کے باعث کھڑی ہوگی تو اُس کے گِرد ’’دھکا لگوالو‘‘ کی آوازیں آئیں گی۔ حکومت کو سکوٹروں اور موٹر سائیکلوں پر پابندی بھی ہٹانا ہو گی کیونکہ ہر سکوٹر اور موٹر سائیکل پر ایک سوار اور دوسرا ’’دھکازن‘‘ ہو گا اور اکیلے سکوٹر/ موٹر سائیکل سوار حسرت سے کہیں گے کہ  ؎
مقدُور ہو تو ساتھ رکھوں دھکا زن کو میں
میَں:۔ بابا ٹلّ جی! اب کیا ہوگا؟
بابا ٹلّ:۔ کسی دَور میں دریائے راوی کا ایک حِصّہ خُشک ہو گیا تھا تو اہلِ لاہور اُسے ’’بُڈّھا راوی‘‘ کہتے تھے۔ اب ’’بُڈّھا اور جوان راوی‘‘ دونوں بھارت کے قبضے میں ہیں۔ ’’سراج تیلی سکول آف تھاٹ‘‘ اور بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت مِلنے پر بغلیں بجانے والے وزیرِاعظم کے سبھی ’’موسمی دوستوں‘‘ کو اسی طرح مراعات مِلتی رہیں تو ہمارا ’’پٹرول کا بُڈّھا دریا‘‘ بھی مکمل سُوکھ جائے گا۔ مجھے تو کالعدم ہونے سے پہلے دوسری بڑی سُپر پاور سوویت یونین کا آخری دَور یاد آ رہا ہے جب وہاں کے ہر شہر میں بیکریوں کے باہر لوگ  ہاتھوں میں۔’’Roubles‘‘ لئے کھڑے تھے اور بیکریوں میں ڈبل روٹی اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء نایاب تھیں۔ اثر چوہان صاحب! آپ پٹرول کا یہ کنستر پٹرول کی قِلّت کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کسی پارٹی کو میری طرف سے تحفہ دے دیں۔ اب میں جا رہا ہوں۔ بابا ٹلّ نے تین بار ٹلّ بجایا اور غائب ہو گئے۔ پھر میری آنکھ کھُل گئی۔