زیر تعمیر ایوان قائداعظم میں تعمیری سرگرمیاں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ہم زیر تعمیر ایوان قائداعظم میں تھے۔ یہاں موجود اکثر لوگ امیر کبیر نہیں ہیں۔ کارکن ضرور ہیں۔ اس لئے اس ایوان کی معنویت اور اہمیت اور طرح کی ہو گئی۔ یہاں قائداعظم کے لئے ریسرچ کرنے والے آئیں گے تو یہ یہ یونیورسٹی جیسا ادارہ ہو گا۔ ایوان کارکنان تحریک پاکستان سے دھیان پڑتا ہے کہ کارکنوں کے لئے بھی ایوان ہوتے ہیں۔ عظیم کارکن اور سیاسی لیڈر غلام حیدر وائیں سے مل کے عظیم اخبار نویس اور صحافیوں کے لیڈر مجید نظامی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان بنایا۔ جسے میں ایوان پاکستان کہتا ہوں۔ اس سے بڑا ایوان اقتدار کیا ہو گا۔ سارے ایوان اقتدار ایسے ہی ہو جائیں تو قائداعظم کا پاکستان بن جائے کیونکہ انہوں نے غریب مسلمانوں کے لئے پاکستان بنایا تھا جہاں امیر کبیر بے ضمیر لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
اس کے بعد ایوان اقبال بھی مجید نظامی نے بنوایا مگر وہ ایک کمرشل پلازہ بن کے رہ گیا ہے۔ وہاں ایسے ایسے لوگ کرایہ دار ہیں جو اقبال کے مخالف ہیں۔ وہاں اقبال اکیڈمی بھی ایک کاروباری ادارہ بن چکا ہے۔ اب ایوان قائداعظم کی طرز تعمیر میں علمی تہذیبی اور پاکستانی اداروں کے رنگ ڈھنگ ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ جس ہال میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کا یوم تاسیس منعقد کیا گیا اس کی درویشانہ شان و شوکت اور قلندرانہ سطوت دیکھ کر آدمی پہلے تاثر میں حیران رہ جاتا ہے۔ وسعت اور توازن یکجا ہو گئے ہیں۔ یہاں لوگوں کی موجودگی ایک ایسی آسودگی کو محسوس کرے گی جس میں قائداعظم کے پاکستان کی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔ یہاں بہت لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے مگر ہم چند آدمیوں سے بھی یہ وسیع و عریض جگہ بھری بھری لگ رہی تھی۔ یہی اس ایوان کی خوبی ہے جو اسے دوسری عمارتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ مجید نظامی کی قیادت میں ساتھیوں کی ہمت ہے زیر تعمیر ایوان قائداعظم میں اتنے اہم اجلاس کے لئے اہتمام کیا۔ ایوان ریکارڈ مدت میں تعمیر ہو رہا ہے۔
یہاں بھی مجید نظامی نے کئی بار شہید وائیں صاحب کو یاد کیا۔ مجیدہ وائیں کے ساتھ غزالہ وائیں بھی موجود تھیں۔ یہ اپنے نظریاتی مہربانوں کو یاد رکھنے کی ادائے دلبرانہ ہے۔ ورنہ وائیں صاحب کی سیاسی جماعت والے اب ان کا نام ہی نہیں لیتے۔ وہ شرم کے مارے جنرل ضیاءکا نام بھی نہیں لیتے۔ ان کے گھریلو کالم نگار بھی جنرل صاحب کو بھول گئے ہیں جبکہ وہ ان کے بھی مربی تھے۔ برادرم شاہد رشید اپنی کمپیرنگ سے اجلاس کو سنبھالے ہوئے تھے۔ رفاقت ریاض ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر رفیق احمد، جسٹس محبوب اور فاروق الطاف نمایاں تھے۔ مزید پانچ برس کے لئے مجید نظامی کی قیادت کا اعلان ہوا جسے صدارت کہا گیا حالانکہ ہمارے ملک کا صدر قائد نہیں ہوتا۔ وہ ایوان صدر کا قیدی ہوتا ہے۔ صدر کے عہدے کی توقیر اس طرح بڑھ گئی ہے کہ مجید نظامی نے کہا اب نظریہ پاکستان ٹرسٹ میری پہلی محبت ہے اور نوائے وقت دوسری۔ مجید نظامی کی صدارت میں جنرل کونسل کے ممبران بھی آسانی سے منتخب ہو گئے۔ جنرل قیوم جنرل ذوالفقار کہ وہ اب نظریہ پاکستان کے سپاہی ہیں۔ میں جنرل حمید گل کے لئے بھی کہتا ہوں کہ اللہ کے سپاہی ریٹائر نہیں ہوتے۔ مجھے بھی یہ اعزاز ملا ہے۔ عارف شیخ، صاحبزادہ سلطان احمد علی اور پروفیسر سلیم قاسم، نعیم قاسم اتنے خوش ہوئے کہ ایوان قائداعظم کے لئے ایک لاکھ عطیے کا بھی اعلان کر دیا۔ جبکہ عارف شیخ نے تو ایک لاکھ فوراً دے دئیے۔ انہوں نے کچھ مشنری سکولوں میں اسلام پاکستان اور قائداعظم کے خلاف نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا بالخصوص اپنے ہمسائے میں سینٹ میریز لالہ زار کینٹ کا ذکر کیا جہاں پرنسپل پطرس بھٹی مسلم مسیحی فسادات کا موجب بن رہا ہے۔ مجید نظامی نے شہباز شریف کے تعاون کا ذکر کیا مگر یوسف رضا گیلانی نے افتتاح کے موقعے پر پانچ کروڑ کا اعلان کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا جبکہ یہ ”معمولی“ رقم وہ اپنی جیب سے بھی ادا کر سکتے ہیں۔ وہ کھرب پتی ہیں بلکہ پدم پتی ہیں کھرب پتی تو ان کی پتنی (بیوی) بھی ہوں گی۔ انہیں کھرب پتنی کہنا چاہئے
رب نے کر دیا ساڈا پتناں تے میل وے
ایوان وزیراعظم میں جو سوئمنگ پول ہے وہ ”جدید پتن“ ہے۔ اب چشموں سے پانی بھرنے والی سیدھی سادھی مٹیاریں کہاں؟ پتی ہندی میں شوہر کو کہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بیویاں دولت سمیٹنے میں مردوں کی مددگار ہوتی ہیں۔ ان کے شوہر پتی ہوتے ہیں وہ خود پتنی ہوتی ہیں۔ صدر کو راشٹر پتی کہتے ہیں وہ سارے ملک کا نام نہاد شوہر ہوتا ہے۔ ایک شوہر نے بیوی سے بہت جھگڑا کیا تو اس نے کہا تم نے مجھے کیا سمجھا ہوا ہے۔ میں تمہارا پتی ہوں راشٹر پتی نہیں۔ پاکستان میں صدر تو واقعی پوری قوم کا پتی بننے کی کوشش کرتا ہے۔ زندہ مثال صدر زرداری ہیں۔ مجید صاحب نے کہا کہ صدر زرداری زردار تو ہے ”زروار“ بھی بنے اور اپنے وزیراعظم کے وعدے کے مطابق پانچ کروڑ دے ورنہ گیلانی صاحب سے دلوائے۔
اجلاس میں ایوان قائداعظم فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا۔ ہر شخص اپنی توفیق اور محبت کے مطابق اپنا حصہ اس کارخیر میں ڈالے تاکہ قومی ادارے کی تعمیر و تقدیر میں اس کا نام بھی شامل ہو۔ پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر مجاہد کامران اور کئی اساتذہ نے مجید نظامی کی تقریر کے دوران عطیات کا اعلان کیا۔ میں نے پچھلے کسی کالم میں یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ایوان مادر ملت بھی تعمیر کیا جائے تاکہ خواتین پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو ایک تحریک بنا سکیں۔ وابستگی وارفتگی بن جائے۔