این آر او کا مشورہ چودھری برادران نے دیا (مشرف)

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ

نومبر 2010 میں ایک بار جب پرویز مشرف امریکہ آئے تو انہوں نے واشنگٹن میں اپنی جماعت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او جاری کرنے کا فیصلہ ان کے دور حکومت کا سب سے غلط فیصلہ تھا اور اس فیصلے کا مشورہ دینے والے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی تھے۔ چودھری برادران کی بات مان کر دو دفعہ بے نظیر سے ملاقات اور این آر او کے غلط فیصلے سے ملک میں شدید افراتفری پھیلی۔ مشرف نے کہا کہ چودھری برادران نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اگر تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی شرط کا فیصلہ واپس لیا گیا تو پھر ہماری شکست یقینی ہے۔ بقول مشرف چودھری برادران نے ان سے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں جب نواب اکبر بگٹی نے فوجیوں پر راکٹ حملے شروع کروائے تو ان کا جواب دینا ضروری تھا۔ مشرف نے میاں نواز شریف کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو نواز شریف کا ٹرائل کریں گے۔ اس تقریر میں مشرف صاحب نے یہ بھی کہا کہ چودھری شجاعت کو تین سال بعد لال مسجد کے بچوں کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں۔ مشرف نے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو وہ مخالفین کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔“ پرویز مشرف کی امریکہ میں دئیے گئے خطابات اور بیانات کا ریکارڈ موجود ہے۔ تڑیاں لگانے والے اقتدار تو درکنار گھر سے باہر نکلنے کی حیثیت میں بھی نہیں رہے۔ نومبر 2010 کی ہی ایک خبر کے مطابق اس وقت کے امریکی ایلچی آنجہانی رچرڈ ہالبروک نے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ امریکہ کے ایک معروف جریدے کا کہنا ہے کہ 2006ءمیں بے نظیر اور مشرف میں شراکت اقتدار میں امریکہ نے بروکر کا کردار ادا کیا۔ امریکی جریدہ لکھتا ہے کہ امریکہ اگر بے نظیر کی حمایت کر سکتا ہے تو اپنے سیکولر حمایتی پرویز مشرف کی حمایت کیوں نہیں کر سکتا۔ سکاٹ لینڈ کی مہنگی ترین شراب ”سکاٹج“ سے لطف اندوز ہونے والے مشرف اب سیاست کی طرف آ رہے ہیں، مشرف کو ان کی کوششوں کا کریڈٹ ملنا چاہئے۔ انہوں نے امریکی سیاسی حلقوں میں لابنگ کےلئے سخت محنت کی اور اپنے فلاڈیلفیا آفس سے باقاعدگی سے امریکی کانگریسی ملاقاتوں کی خبریں اور تصاویر جاری کرتے رہے۔ مشرف امریکی وزارت خارجہ اور وائٹ ہاﺅس تک رسائی کے خواہشمند تھے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اب مشرف پاکستان لوٹ چکے ہیں اور ان کی وطن واپسی کوئی اہم واقعہ نہیں ہے۔ اب جبکہ امریکہ کو مشرف کی ضرورت نہیں رہی تو مشرف کی وطن واپسی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ کہا جا رہا ہے۔ جریدے کے مطابق امریکہ پاکستان کے الیکشن پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتا ۔۔۔ مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان میں حالیہ انتخابات میں بھی امریکہ کی مداخلت جاری ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے الیکشن ملتوی کرانا مقصود ہے۔ پاکستان میں منگل کا دن انتہائی افسوسناک ثابت ہوا جب ایک ہی دن میں بم دھماکوں اور دستی بم حملوں کے تین واقعات رونما ہوئے جن میں درجنوں افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ ایران اور پاکستان کے علاقوں میں شدید زلزلہ آیا متعددافراد اللہ کو پیارے ہوئے۔ منگل کے روزپشاور اور بلوچستان میں سیاسی رہنماﺅں اور ورکروں کو نشانہ بنایا گیا جس میں پولیس اہلکار بھی شہید کر دئیے گئے۔ اب تک سب سے زیادہ حملے اے این پی کے رہنماﺅں پر کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں جہاں کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اگلے ہی لمحے کالعدم تنظیمیںذمہ داری قبول کر لیتی ہیں مگر امریکہ میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ایف بی آئی اے کے مطابق دھماکوں کی منصوبہ بندی امریکہ میں کی گئی البتہ ملوث افراد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان کا تعلق امریکہ سے ہے یا کسی دوسرے ملک سے۔ میراتھن دوڑ کے ذریعے لاکھوں ڈالر جمع کرکے فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ بوسٹن میراتھن سانحہ کے بعد لندن میں اتوار کے روز منعقد ہونے والی میراتھن کے بارے میں حفاظتی انتظامات کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ لندن میں میراتھن کے سرپرست نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میراتھن کی دوڑ میں حصہ لینے والے 37 ہزار پانچ سو افراد کو مکمل تحفظ مہیا کیا جائے گا۔ بوسٹن میں دھماکوں کی تحقیق جاری ہے۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ اس حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات نہیں تھیں اور تاحال اس کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پاکستان میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیمو ں کا مو¿قف ہے کہ جب تک ملک سے امریکہ کی مداخلت ختم نہیں ہوتی، دھماکے جاری رہیں گے۔ امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کئی بار پاکستان کی داخلی سیاست میں شامل رہا جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا پاکستان دورہ نہ کرنا درست فیصلہ ہے، اگر وہ یہ دورہ کرتے تو اس سے یہ تاثر ملتا کہ امریکہ پیپلز پارٹی کی حمایت کر رہا ہے۔ جریدے کے مطابق امریکہ کی پاکستان میں مداخلت کی وجہ سے بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری بھی امریکہ کے سر ڈال دی گئی لہٰذا امریکہ پاکستان کے حالیہ انتخابات سے خود کو الگ رکھنا چاہتا ہے۔ مشرف نے اپنی تمام غلطیوں کی ذمہ دار ی چوھدری برادران پر ڈال کر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی مگر ان کی وطن واپسی کے خفیہ معاہدہ کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟