انٹرنیشنل لائیوسٹاک اینڈ پولٹری کانگریس شروع ہو گئی

کالم نگار  |  محمد مصدق

ایوانِ اقبال کی خوبصورت بلڈنگ میں انٹرنیشنل لائیو سٹاک اور پولٹری کانگریس کا افتتاح سیکرٹری فوڈ پنجاب عرفان الٰہی نے کیا اور تفصیل سے بتایا کہ پنجاب حکومت لائیو سٹاک اور پولٹری کے فروغ کیلئے بہت سے منصوبے مکمل کر رہی ہے۔ اس موقع پر مختلف سٹالز بھی لگائے گئے تھے جن سے معلوم ہوا کہ اب پاکستان میں لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبہ کو نہ صرف اہمیت ملنی شروع ہو گئی ہے بلکہ اگر حکومت تھوڑی سی مزید حوصلہ افزائی کرے تو اس شعبہ میں بہت بڑی سرمایہ کاری ممکن ہے۔ مائی لیب کے سٹال پر محمد یونس سے ملاقات ہوئی جو پہلے دوسرے ممالک سے جانوروں کی مختلف ادویات منگواتے تھے لیکن اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی میڈیسن تیار کرنے کیلئے نئی سرمایہ کاری ضروری ہے چنانچہ آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے انہوں نے نیا پلانٹ لگایا ہے جو بہت جلد پیداوار شروع کر دے گا۔ محمد یونس نے بتایا کہ حکومت کی پالیسی جانوروں کی ادویات کے سلسلہ میں بہتر اور پاکستانیوں کے حق میں ہے۔ غیر ممالک سے آنے والی ادویات پر بھاری ٹیکس ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی ادویات کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مزید سرمایہ کاری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس وقت خام مال تو باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان میں سائنسی ریسرچ کرنے والے ادارے خام مال کی تیاری کے فارمولے ترتیب دے دیں تو پھر پاکستان میں جانوروں کی ادویات کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری ممکن ہے۔
دوسرے سیشن کے مہمان خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا نے تقریب کے بعد نوائے وقت کو بتایا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستانیوں کولائیو سٹاک کی دولت سے بھی مالامال کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے زرعی معیشت کے 55 فیصد حصے یعنی لائیو سٹاک اور پولٹری وغیرہ کو ہم نے نظرانداز کیا ہوا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں حلال گوشت کی بہت بڑی ڈیمانڈ موجود ہے لیکن اس مقصد کیلئے بین الاقوامی معیار کے مطابق جانوروں کے رکھنے کے انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔
جانوروں کو منہ کھر وغیرہ کے جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسین محدود سطح پر استعمال کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سے مغربی اور ترقی یافتہ ممالک نے پولیو کے جراثیم کا خاتمہ کیا ہے اسی طرح سے انہوں نے جانوروں کی بیماریوں کے تمام جراثیم کا بھی خاتمہ کر دیا ہے۔ قریب ترین ملک انڈیا کی مثال لیں جس نے دنیا کی پانچ بڑی کمپنیوں کو ویکسین بنانے کی اجازت دی اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نتیجہ میں حکومت تمام ویکسین خرید کر پورے ملک میں جانوروں کی بیماریاں ختم کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں اس وقت انڈیا گوشت کی ایکسپورٹ میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ پاکستان اس سے زیادہ گوشت ایکسپورٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن انٹرنیشنل سٹینڈرڈ پورے نہ کرنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا ہے۔ اس وقت یونیورسٹی آ ف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز پوری گائیڈ لائن فراہم کر رہی ہے اور انٹرنیشنل سٹینڈرڈ پورے کرنے کیلئے گلوبل گیپ سرٹیفکیشن سمیت تمام امور کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ تمام بیماریوں کے ٹیسٹ کرنے کیلئے جدید سہولتیں اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔
ڈاکٹر احتشام کا تعلق فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اقوام متحدہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں یو ایس ایگریکلچر ایڈ کے تعاون سے جانوروں کی بیماریاں خصوصاً منہ کھر وغیرہ ختم کرنے کیلئے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے اور جن علاقوں میں یہ زیادہ ہے وہاں سے اسے پہلے ختم کیا جائے گا۔