اللہ میری توبہ! اللہ میری توبہ!

کالم نگار  |  خالد احمد

رات گئے پیر سائیں کے دربار کا حال دیدنی تھا، ہال میں مریدانِ صفا اور مریدانِ سر صفا کے پروں کے پرے صفیں باندھے ’حق! ہُو حق!‘ کے نعرے سر کر رہے تھے کہ یکدم خاموشی چھا گئی! یہ سناٹا بڑی گونج کا حامل تھا، فضا، ایک ہی سوال کی گونج کی تکرار سے مملُو تھی، مگر یہ سوال کسی کی زبان پر نہ آ پا رہا تھا! مریدانِ باصفا سر منڈوائے اور نیہوڑائے دم سادھے بیٹھے تھے! کچھ نہ سوچو! کہ سُن نہ لیں سائیں! پُھول کھلتے ہی چُن نہ لیں سائیں! مگر روشن ضمیر جانتے تھے کہ یہ احتیاط بھی کام آنے کی نہیں کہ پیر سائیں سے پہلے اُن کے معطر بدن کی لپٹیں بزمِ ناز میں آ دھمکیں، یارانِ سربستہ صف بستہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے! پیر سائیں تشریف فرما ہوئے تو مسند جگمگا اُٹھی! پیر سائیں گویا ہوئے تو سناٹے نے بھی دم سادھ لیا۔ ’جہاں تک آپ کے ذہنوں میں چکراتے سوال کا تعلق ہے تو یہ بتائیں کہ جن کے استعفے قبول ہی نہیں کئے گئے اُن کی واپسی کیسی؟ وہ تو حکومت میں شامل تھے اور آج بھی شامل ہیں! اپنے اپنے محکموں کے آئینی سربراہ تھے اور ہیں!‘
’سبحان اللہ! سبحان ناللہ!‘ پیر سائیں کے چپ ہوتے ہی غلغلہ بلند ہوا، نعرہ¿ تکبیر سر ہوا اور ہر طرف اطمینان ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دینے لگا، جہاں تک دہشت پناہ جناب رحمان ملک کا تعلق ہے، وہ ’مکالمہ باز‘ ہی نہیں ’مکالمہ ساز‘ بھی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انہیں کس وقت کیا کہنا ہے؟ اے این پی سے کیسے بات کرنا ہے اور ایم کیو ایم کو کس ڈھرے پر چلانا ہے، اب آپ دیکھ لیں یہ دونوں بھائی مل کر ہماری حکومت کی گاڑی کتنی تندہی کے ساتھ کھینچیں گے! یہ جناب رحمان ملک کی زبانِ وحشت اثر کا اعجاز ہے! اگر اُن کے دِن گنے جا چکے ہیں تو جان لیں ہم سب کے دِن گنے جا چکے ہیں! وہ کم از کم ڈیڑھ مہینہ اِدھر اُدھر ہونے والے نہیں! ہمیں بھی اُن کا متبادل مہیا ہو جائے گا اور اُنہیں بھی متبادل روزگار فراہم ہو جائے گا!‘
’سبحان اللہ! سبحان اللہ!‘ کا ایک اور دورہ مکمل کیا گیا، نعرہ¿ تکبیر سر ہوا اور ایک بار پھر خاموشی چھا گئی! پیر سائیں کی آواز ایک بار پھر گونجی۔ ’جسقم کے چیئرمین جناب بشیر قریشی 14 روز کے جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیج دئیے گئے ہیں مگر انہوں نے بھی جیل روانہ ہونے سے پہلے میڈیا سے گفتگو کی اور یہ گفتگو گھر گھر پہنچ گئی! اُنہوں نے بھی جناب ذوالفقار مرزا کا حوالہ دے کر دہشت پناہ جناب رحمان ملک پر ’پیدائشی جھوٹا‘ ہونے کی پھبتی کسی اور فرمایا کہ جنابِ رحمان ملک کے ہوتے دہشت گردوں کی پشت پناہی کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ سکتا! اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ تو صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری ہی کر سکتے ہیں! اللہ کرے کہ وہ جلد وطن پہنچیں اور اس معاملے کو دیکھیں!‘ .... ’البتہ جہاں تک کراچی کی صورتحال کا تعلق ہے وہاں واضح بہتری آتی دکھائی دے رہی! ڈیڑھ کروڑ روپے روزانہ کے بھتے کی خبر خاصی ’اشتہا انگیز‘ تھی مگر جناب حیدر عباس رضوی نے بتایا ہے کہ ان ’تمام بھتوں کی رقوم‘ کی باقاعدہ رسید جاری کی جاتی ہے کیونکہ ایم کیو ایم یہ رقوم ’خدمتِ خلق فا¶نڈیشن‘ کے لئے حاصل کرتی ہے اور یہ ’رقوم‘ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہیں! اس بہبودی پروگرام کے تحت بوری بند لاشوں کی ’تجہیزوتکفین‘ تک انہی رقوم کے بل پر کی جاتی ہے! جناب حیدر عباس رضوی ایم کیو ایم کا ’نفسِ ناطقہ‘ ہیں اور پاکستان کے معماروں اور غم خواروں کی اولاد میں سے ہیں مگر قرعہ¿ فال جناب فاروق ستار کے نام پڑتا نظر آ رہا ہے! دیکھئے پردہ¿ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے؟ ہو سکتا ہے الطاف بھائی ’این آر او‘ کے برقع میں بذاتِ خود تشریف آور ہو جائیں اور یہ ٹنٹا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے!‘
’سبحان اللہ! سبحان اللہ!‘ ۔ ’نعرہ¿ تکبیر! اللہ اکبر!‘ سناٹا گہرا سناٹا! اور پھر آواز آئی ’برقع میں رہنے دو! برقع نہ اُٹھا¶! ایک خاتون صدر دروازے پر کھڑی نظر آئیں اور پھر پہرے دار اُن کے پا¶ں پڑتا دکھائی دیا! ارے الطاف بھائی! آپ اور یہاں!‘ یکایک پورا منظر تحلیل ہو گیا! ہر طرف اللہ اکبر! اللہ اکبر! کی آوازیں سرگوش ہو گئیں!
پیر سائیں کی کرامت نے یاروں کے دل دہلا کے رکھ دئیے! پیر سائیں مسکرائے تاکہ مریدانِ باصفا چین پائیں اور دل قرار آشنا ٹھہر جائیں!
’دوستو! دنیا ایک کھیل تماشا ہے! دنیا سے اتنا ہی تعلق رکھو جتنا تعلق ایک مسافر رات بھر کے پڑا¶ سے رکھتا ہے! دنیاداری ایک الگ معاملہ، یہ دنیا داروں پر چھوڑ دو! تم اہلِ دل ہو! اپنا سکون غارت مت کرو! آخرت کی فکر کرو! جہاں اعمال کے سوا کچھ کام نہیں آئے گا! ہاتھ کا دیا اگلے جہان کام آئے گا! اولاد کا دیا! اولاد کے کام آئے گا مگر تمہارے ہاتھ کا دھیلا تمہارے کام بھی آئے گا اور تمہاری اولاد کے لئے بھی سرمایہ ثابت ہو گا!‘
پیر سائیں خاموش ہو گئے! اور مریدانِ باصفا قطار باندھ کر ’مصافحہ‘ کی رسم ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے، ہر مرید کا ہاتھ اُس کی اپنی جیب میں تھا! وہ ہاتھ باہر نکالتا پیر سائیں سے ’مصافحہ‘ کرتا سر پر ہاتھ پھرواتا اور صفا چٹ سر اور جیب کے ساتھ باہر نکل جاتا! ہم نے بھی اُدھر جانے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ ایک ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر ’مریدِ خاص‘ کے پاس پہنچا دیا! ’آئیے حضرت!‘ انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی ہمیں معانقے سے نوازا اور رخصت کی اجازت مرحمت فرما دی! باہر آئے تو پتہ چلا کہ دورانِ معانقہ ہماری جیب میں موجود رقم یکدم دوگنی ہو چکی تھی! اور ہم بھی اس ’کرامت‘ پر پیر سائیں کے اعجاز پر سر دھنتے رہ گئے! جس پیر کے مرید خاص کے معانقے میں یہ اثر ہو، اُس پیر کے مصافحے میں کیا کیا مضمرات نہ ہوں گے! اللہ اللہ! پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اُٹھا¶! اللہ میری توبہ!