حلقہ بندیوں کا بل منظور کرانے میں ایم کیو ایم کا کلیدی کردار

حلقہ بندیوں کا بل منظور کرانے میں ایم کیو ایم کا کلیدی کردار

بالآخر قومی اسمبلی کے 49ویں سیشن میں نئی مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کی از سر نو حد بندی کرنے کے بارے میں میں آئینی ترمیم منظور کر لی جب کہ دوسری بڑی کامیابی الیکشن ایکٹ 2017ء کا ترمیمی بل منظور ہو گیا جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017ء میں پایا جانے والا ابہام دور ہو گیا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ’’صفحہ‘‘ پر اکھٹا کرنے کے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کلیدی کردار ادا کیا جمعرات کو قومی اسمبلی کے ایوان وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چوہدری نثار علی خان پورا اجلاس ’’رازو نیاز‘‘ کی باتیں کرتے رہے انہوں نے پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو نہ صرف آئینی ترمیم پر لچک پیدا کرنے پر آمادہ کر لیا اسی طرح انہوں نے الیکشن ایکٹ 2017ء میں ختم نبوت کے بارے میں 7بی اورسی کو شامل کرنے پر اتفاق رائے پیدا کر لیا ہے اس لئے یہ ترمیم متفقہ طور منظور کر لی گئی سینیٹ کا اجلاس بھی آج طلب کر لیا گیا ہے اس بات کا قوی امکان ہے ایوان بالا میں آئینی ترمیم اور الیکشن ایکٹ2017ء میں ترمیمی بل منظور کر لیا جائے گا ۔ اگرچہ وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں تمام حکومتی ارکان کو ایوان میں ہر صورت میں حاضر ہونے کا پیغام دیا تھا لیکن جب آئینی ترمیم منظور کرنے کا مرحلہ آیا تو حکومتی ارکان کی تعداد116تھی221ارکان ایوان میں موجود تھے جب کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے 228ارکان کی ضرورت تھی تاہم وفاقی حکومت 242ارکان اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گئی جنہوں نے آئینی ترمیم منظور کر لی۔ قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئین میں ترمیم کے بل کے حق میں 242جبکہ آزادرکن جمشید دستی نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔بل میں تحریک انصاف نے اپنی ترامیم واپس لے لیں جبکہ جمشید دستی کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر د یا گیا ،حلقہ بندیوں سے متعلق نئی آئینی ترامیم کے مطابق قومی اسمبلی کی272 جنرل نشستیں برقرار رہیں گی، مسلم لیگ (ف) ، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، جے یو آئی (ف) اور دیگر جماعتوں جبکہ اپوزیشن میں پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف ، اے این پی ، جماعت اسلامی ، قومی وطن پارٹی اور فاٹا ارکان نے بھی بل کے حق میں ووٹ دیا ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قین دہانی کرائی ہے کہ ’’مردم شماری کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کیلئے بلاکس کی تعداد پانچ فیصد کرنے کا معاملہ منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائیگامردم شماری کے 1 فیصد بلاکس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا مشترکہ مفادات کونسل میں فیصلہ ہوا تھا تاہم ڈاکٹر فاروق ستار نے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا کہ اسے بڑھا کر پانچ فیصد کیا جائے جس پر تمام پارلیمانی پارٹیوں میں اس پر اتفاق ہوا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جایا جائے گا اور اس تجویز پر وہاں غور کیا جائے گا مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم منظور کرانے کیلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات فوری طور پر دور کرنے کی یقین دہانی کرانے پر ایم کیو ایم نے اہم آئینی ترمیم کے حق میں قومی اسمبلی میں ووٹ دے دیا، اگر ایم کیو ایم آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دیتی تو ترمیم منظور کرانا مشکل تھا ت قومی اسمبلی کے اجلاس میں نماز مغرب کے وقفہ کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان ایوان میں وزیراعظم کی نشست کے پاس آکر ان سے ملے، جس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں تفصیلی ملاقات کیلئے سپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں بلا لیا،
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر ارکان موجود تھے، جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ کراچی میں صحیح مردم شماری نہیں کی گئی لہٰذا جب تک ان کے تحفظات دور نہیں کئے جائیں گے وہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی ترامیم بل کا حصہ بنائی جائے، جس پر وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے اپنا موقف وہاں بیان کر دیا تھا لہٰذا اگر اس مرحلے پر ایم کیو ایم کی نئی تجاویز کو سنا گیا تو دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا پڑے گا اور آئینی ترمیم پھر التواء کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر سپیکر سردار ایاز صادق نے ایم کیو ایم کو قائل کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام تحفظات دور کئے جائیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایم کیو ایم کے تمام تحفظات دور کرنے اور کراچی کیلئے 25ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے اجراء اور کراچی میں جاری ترقیاتی سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے کسی سے اپنے ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں لینا ٗہم سب مسلمان ہیں، ہمارا اتنا ہی ختم نبوت پر ایمان ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ زاہد حامد کو یہ وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، سازشی لوگ ہیں جو تشدد چاہتے ہیں اور لاشیں گریں اور ماڈل ٹائون کی طرح لاشیں گریں ، دھرنے کی وجہ سے لوگوں کو بہت پریشانی ہے ، پارلیمنٹ کی مذہبی جماعتیں جرگہ لیکر دھرنے والوں کے پاس جائیں ان کو بتائیں کہ آپ کی وجہ سے پاکستان کے خلاف بدگمانی پھیل رہی ہے اور دھرنا ختم کریں ، اگر دھرنا ختم کرنے کیلئے انتہائی قدم اٹھانا پڑا تو تیارہیں لیکن تشدد نہیں چاہتے۔ وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی عدم موجودگی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزرات خزانہ کے امور سنبھال لئے ہیں تا کہ روزمرہ کے معمولات متاثر نہ ہوں ایوان میں ارکان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے سرگودہا سے رکن اسمبلی چوہدری حامد حبیب ٹریک سوٹ پہن کر اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب، خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور دیگر ارکان کورم پورا کرنے کیلئے سرگرم رہے۔ اس دوران ارکان کو فوری کالز بھی کی گئیں۔ ایوان میں ایک مرحلے پر شیخ رشید احمد اور احسن اقبال کے درمیان جھڑپ ہو گئی خواجہ سعد رفیق کی مداخلت سے معامل رفع دفع کرایا۔