بلوچستان .... دہشت گردی کا نیا طوفان

بلوچستان .... دہشت گردی کا نیا طوفان

دنیا اب تیاری کر رہی ہے کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دے ڈالے مگر یہاں کیفیت یہ ہے کہ ہر روز دہشت گردوں کے ہاتھوں لاشیں گرتی ہیں۔کنٹرول لائن پر بھارتی فوج براہ راست پاکستانی شہریوں کو ٹارگٹ کرتی ہے ، جن کاکوئی پرسان حال نہیں۔ شاید ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت یا حکمران طبقے کا کوئی شخص ان کے گھروںمیں پرسہ دینے جاتا ہو، نہ اقوا م متحدہ کے مبصرین کو توفیق ہوتی ہے کہ وہ ان شہیدوں کی کوئی رپورٹ تیار کر کے واپس نیو یارک ہیڈ کوارٹر بھجواتے ہوں۔

گزشتہ روز بلوچستان میں دہشت گردی کاا رتکاب ہوا اور پندرہ افراد کو شہید کر دیا گیا،بلوچستان میں اس دہشت گردی کے پس پردہ ہاتھ کو بے نقاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم پہلے ہی بھارتی فوج کا حاضر سروس فوجی افسر کل بھوشن رنگے ہاتھوں پکڑ چکے ہیں اور وہ ایک لمبے عرصے کی قید کے دوران اپنے ان گنت گناہوں کا اعتراف کر چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمارا نظام انصاف اس قدر ڈھیلا اور نرم ہے کہ اسے پھانسی کی سزا سنانے کے باوجود اس سزا پر عمل نہیں کر سکے، اب تو اس کا قصہ عالمی عدالت انصاف تک جا پہنچا ہے مگر یہ عدالت اس کے گناہوںکو تو نہیں دھو سکتی اور بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان کو بھی نہیں جھٹلا سکتی کہ وہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت کے عوام کو حقوق دلوائیں گے، اس کا مطلب وہی ہے کہ جس طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کو حقوق دلوائے تھے اور پاکستان کو دو لخت کر دیا تھا۔ بلوچستان کے بارے میں بھارت کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ قندھار کے بھارتی قونصل خانے سے بی ایل اے یعنی بلوچ لبریشن آرمی کو ڈالرا ور اسلحہ فراہم کرنے کی خبریں عالمی میڈیا کے ذریعے سا منے آتی رہی ہیں۔
بلوچستان ایک بد نصیب خطہ ہے جہاں جدید دور کی سہولتوں کا نام و نشان نہیں ملتا۔نہ سڑکیں ہیں، نہ دیگر ذرائع نقل و حمل۔ اس صوبے کی زمین ا نتہائی زرخیز ہے مگر پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ وسیع قطعات بنجر پڑے ہیں۔، صوبے کے پہاڑوں کے نیچے سونا اور دیگر معدنیا ت کے خزانے ہیںمگر کوئی انہیں نکالنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا۔ اب تو اس صوبے کی بندر گاہ گوادر کو سی پیک کے ساتھ جوڑ دیا گیا جس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ صوبہ باقی ملک سے امیر ترین ہو جائے گا مگر یہ سبھی خوش کن خواب ہیں جنہیں شرمندہ تعبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ گوادر کی زمینوں کے پلاٹ بنا کر لاہور میں پیسے کمائے جا رہے ہیں مگر یہاں کے قدیم باشندے جھونپڑیوںمیں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ صوبے میں کوئی سیاسی پارٹی بھی اتنی مضبوط نہیں کہ اکیلے حکومت بنا سکے ا ور لوگوں کی تقدیر بدل سکے۔ یہاں جب بھی حکومت بنتی ہے تو سبھی ارکان ا سمبلی کابینہ کا حصہ بن جاتے ہیں اور ایک رکن کو اپوزیشن لیڈر بنا کر اسے بھی کابینہ کے وزیر کی مراعات مل جاتی ہیں، اس طرح قومی خزانہ ہاتھوں ہاتھ لٹتا ہے عوام تک ایک پائی نہیں پہنچ پاتی، ان محرومیوں کی وجہ سے دشمن کے لئے لوگوں کو ورغلانے ا ور جھوٹے سچے خواب دکھانے کا آسان موقع مل جاتا ہے،۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو گمراہ کر کے بی ایل اے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔جو بم دھماکے کرتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ میںملوث ہو جاتے ہیں اور تخریب کاری کو پروان چڑھاتے ہیں۔
ملک کے باقی حصوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس صوبے کی محرومیوں کے ازالے کی طرف توجہ کریں، ایساتو نہیں ہونا چاہیے کہ کوئٹہ کے وکیل دہشت گردی کا شکار ہوں تو صف ماتم بچھ جائے ا ور سیکورٹی چیف کا گریبان پکڑنے کا مطالبہ داغ دیا جائے مگر ہزارہ کمیونٹی دو سو لاشیں لے کر فروری کے یخ بستہ موسم میں سڑکوں پر دھرنادے کر بیٹھی رہے تو کوئی ان کی دلجوئی بھی نہ کرے۔یہ حالات تو عالمی سازشیوں کو بھی شہ دیتے ہیں اور وہ گریٹر بلوچستان کے منصوبے پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انٹیلی جنس ادارے، پاکستان ا ور ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سازش گریٹر بلوچستان کے لئے ہے جس میں پاکستان اور ایران کے بلوچوں کے لئے الگ اور آزاد ملک بنایا جائے گا۔ خدا نہ کرے کوئی ایسی سازش پروان چڑھ سکے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یوں تو کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تاہم ہمارے دشمن اور خون کے پیاسے اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، امریکہ جیسے ملک میں دہشت گردی کے سانحے رونما ہوتے ہیں برطانیہ ، فرانس، اسپین اور بلجیم بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔پاکستان نے تو پچھلے پندرہ برسوں میں درجنوں فوجی آپریشن کئے ہیں جن میں چھ ہزار افسروں اورجوانوں کی شہادت بھی عمل میں آئی ، دنیا کی کسی فوج نے اس قدر قربانیاںنہیں دیں اور نہ کسی قوم نے دہشت گردوں کے ہاتھوں اتنے زخم کھائے ہیں، پاکستان کے ساٹھ ہزار بے گناہ عوام اس فتنے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور اب بھی اکا دکا وارداتیں جاری ہیں ۔یہ سلسلہ لال مسجد سے شروع ہوا اور سوات مالا کنڈ تک پھیل گیا، پھر فاٹا کی ایجنسیوںمیں وسیع پیمانے پر آپریشن کئے گئے جن کی وجہ سے آئے روز ہونے والے دھماکوں کی تعداد پر قابو پا لیا گیا ہے اور پہلے کے مقابلے میں عوام کی زندگی زیادہ پر سکون ہے۔کراچی میں بہت بڑا آپریشن چل رہا ہے جس میں قبضہ مافیا، ٹارگٹ کلرز، خودکش بمبار، بھتہ خور اور چائنہ کٹنگ میں ملوث عناصر کی سرکوبی کی گئی ہے۔کراچی کی سیاسی لیڈر شپ جو لندن میں جلا وطن ہے ، وہ کھلم کھلا را سے مدد مانگ رہی ہے اورپاکستان کے ٹکڑے کرنے کے اعلانات بھی کرتی ہے۔ ان عناصر کو عالمی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی در پردہ ا ور علانیہ حمایت حاصل ہے، یہ ایک چو مکھی جنگ ہے جو پاکستان پر مسلط کر دی گئی ہے مگر ہم نے اس جنگ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے ،اب چھوٹے گروہ اپنی کمین گاہوں سے نکلتے ہیں اور حملہ کرتے ہیں، یہ کمین گاہیں ہماری سرحدوں سے باہر ہیں، اسی لئے جب امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا تو ہمارے آرمی چیف اور وزیراعظم نے جواب میں ان سے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا، ابھی تین روز پہلے افغانستان سے ہماری فوجی چوکی پر حملہ ہوا جس میں ایک افسر اور ایک جوان کی شہادت عمل میں آئی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی کا نشانہ ہے اور الٹا اس کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے، یہ ظلم عظیم ہے۔
٭٭٭٭٭