وزیر اعظم نے تاریخ رقم کر دی

کالم نگار  |  اسد اللہ غالب
وزیر اعظم نے تاریخ رقم کر دی

پاکستان میں وہ ہو چکا جو ہم قرون ا ولی کے بارے میں سنتے چلے آئے ہیں۔
پیارے رسول ؐنے فرمایا تھا کہ میری بیٹی چوری کرے گی تو ا س کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔
حضرت عمر ؓ کا بھرے مجمع میںاحتساب کیا گیا کہ مال غنیمت سے سب کوایک ایک چادر ملی ہے جس سے کرتہ نہیں بن سکتا مگر آپ نے نیاکرتہ کیسے سلوا لیا۔ جواب میں انہوںنے کہا کہ میرے بیٹے سے پوچھ لیجئے۔ بیٹا کھڑا ہوا، اس نے گواہی دی کی میںنے اپنے حصے کی چادر اپنے والد محترم کو ہدیہ کر دی تھی۔
خلیفہ چہارم حضرت علی ؓ کو چیف جسٹس نے طلب کیا ، وہ بلا چُوں چراں اس کی عدالت کے کٹہرے میں جا کھڑے ہوئے۔
یہ باتیں ہم سنتے آئے تھے مگر ان کو دوبارہ وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھا تھا۔
اب یہ سب کچھ ہو چکا۔
وزیر اعظم خود جے آئی ٹی کے کٹہرے میں جا پہنچے اور انہوںنے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کا سامنا کیا۔
وزیر اعظم کے دو بیٹوں حسین اور حسن بھی جے آئی ٹی میں بار بار پیش ہوئے، انہیں شکائت بھی لاحق ہوئی کے ان سے بد سلوکی کی جا رہی ہے مگر اس بنا پر انہوںنے تفتیش کا بائیکاٹ نہیں کیا جبکہ انہیں حق حاصل تھا کہ وہ مینڈیٹ سے باہر نکلنے والی جے آئی ٹی کا مقاطع کر دیتے۔
اب چند دن بعد وزیر اعظم کے بھائی شہباز شریف جو پنجاب جیسے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی ہیں ، وہ بھی جے آئی ٹی کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ شہباز شریف پاکستان کی وہ سیاسی اور حکومتی شخصیت ہیں جن پر ترکی، اور چین آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہیں، یہ ان کی امانت، دیانت اور شفاف حکمرانی کی بین دلیل ہے۔
فیصلہ جو ہونا ہے، ہوتا رہے گا، مگر سیاسی مخالفین نے دیکھ لیا کہ حکمران خاندان نے احتساب سے فرار کی راہ تلاش نہیں کی۔
سیاسی مخالفین البتہ مطمئن اب بھی نہیں ہیں ، وہ استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نوز شریف اول تو فائٹر مشہور ہیں مگر انہوںنے ذرہ بھر گناہ کا ارتکاب کیا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ استعفے سے انکار نہ کرتے مگر جس شخص کو اپنی پاک دامنی پر یقین کامل ہو اور جو اس موقف میں بھی حق پر ہوں کہ ان سے ان کے مرحوم والد محترم اور ان کے بیٹوں کا حساب نہیں لیا جا سکتا تو وہ بھلا کیوں استعفی دیں۔ اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیوں کریں ، وہ بھی اس حال میں کہ ان کے چار سالہ منصوبے اگلے ایک سال میں برگ و بار لانے والے ہیں اور وہ ان کی بدولت اگلا الیکشن بھی سویپ کر سکتے ہیں۔
میں پانامہ پیپرز کو رد ی کا ڈھیر تصور کرتا ہوں، اس ردی سے وہ لفافے تو بن سکتے ہیں جن میں پکوڑے بکتے ہیںمگر اس کوڑا کباڑ کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔
اور یہ اصول اور روش بھی غلط ہے کہ ملک میں احتساب ہونا ہے تو صرف وزیر اعظم اور ان کے خاندان کا ، باقی سب فرشتے کیسے ہو گئے، عدالتیں بھی جانتی ہیں اور نیب اور ایف بی آر کے سربراہ بھی کہتے ہیں کہ ہر سال اربوں کی کرپشن ہوتی ہے تو اربوں کی اس کرپشن میںملوث عناصر کو فرشتوں کا سا تقدس کیوں دیا جائے۔اور یہ عناسر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ، اسوقت بھی ان میں سے درجنوں افراد مفرور ہیں۔ ہماری عدلیہ کا بھی فیصلہ ہے کہ این آر او۔۔ واء ایب نشو۔۔ ہے تو کیاا س کی زد میں آنے والوں کا احتساب پہلی فرصت میںنہیںہونا چاہئے۔ یہ لوگ تو دندناتے پھرتے ہیں اور وزیراعظم اور ان کے خاندان کو جے ا ٓئی ٹی میں گھسیٹا جا رہا ہے، یہ سراسر امتیازی سلوک ہے، جا نبدارانہ رویہ ہے۔حکمرانوں کا احتساب دوسرے ممالک میں ہوتا رہتا ہے مگر ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ، امریکی صدر نکسن کے خلاف واشنگٹن پوسٹ نے مہم چلائی اور اس قدر ثبوت فراہم کر دیئے کہ نکسن کو مواخذے سے بچنے کے لئے استعفی دینا پڑا۔ مونیکا لیونسکی کے مسئلے پرصدر کلنٹن کا مواخذہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کانگرس میں اس سازش کا مقابلہ کیااور مواخذے سے بچ گئے ۔۔کیا آج پنامہ پیپرز یا ہمارا ملکی میڈیا یا سیاسی مخالفین ایسے ثبوت سامنے لا سکے ہیں جن کے دبائو کے سامنے نواز شریف سرنڈر کرنے پر مجبور ہو جاتے، ثبوت لاتا بھی کون، وہ جو خود کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اورملک کے اندر ایک گھر کا حساب نہیں دے پائے، ابھی تو انہیں بتانا ہو گا کہ انہوںنے لندن میں فلیٹ کیسے خریدا، زکوات، صدقات اورچندوں کو بزنس کے لئے استعمال کیوں کیا۔اور ملک میں کرپٹ عناصر کی ایک قطار ہے ، جس کا احتساب کرنے کیلئے ایک جے آئی ٹی کافی نہیں، لاکھوں جے آٗی ٹی بنانا پڑیں گی اور یہ بلا تاخیر بنا دی جائیں۔تاکہ نواز شریف کے خلاف امتیازی اور جانبدارانہ سلوک کا تاثر ختم ہو سکے۔
موجودہ طرز تفتیش سے اندازہ ہوتا ہے کہ فیصلہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے،ورنہ طارق شفیع، حسین نواز، حسن نواز، سعید احمد کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں کو یہ خوف ہوتا کہ وہ بعد میں انتقام کا نشانہ بن سکتے ہیں، اس ملک میں انتقام کس نے نہیں لیا۔ایوب خاں نے سینکڑوں سیاست دانوں کو ایبڈو کیا، بھٹو نے زیڈ اے سلہری، الطاف حسن قریشی سے شروع ہو کر معراج محمد خاں اور میاں طفیل محمد تک اپنے ہر مخالف کو رگڑا دیا، دلائی کیمپ اور شاہی قلعے میں مخالفین کے گھٹنوںمیں میخیں ٹھکوائیں ، آرمی چیف جنرل گل حسن سے دبائو کے ذریعے استعفی لیا۔اور دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ایف ایس ایف اور فوج سے گولیاں چلوائیں۔ مگر آج نواز شریف کا سیاسی مخالف نتھیا گلی کے سرکاری محل میں استراحت فرما رہا ہے۔ نواز شریف بھی ہر ہتھکنڈہ آزما سکتا تھا، مگر اس نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے اور جمہوریت کے تسلسل کے لئے ہر آزمائش کا سکون، برد باری اور تحمل کے ساتھ مقابلہ کرنے کا عزم صمیم کر رکھا ہے۔ اس کی پالیسی یہ ہے کہ لوگ بلیم گیم میں پڑے رہیں مگر وہ خدمت خلق اور ملکی ترقی ا ور خوش حالی کے راستے پر چلتا چلا جائے گا، اسے بجلی کے منصوبے مکمل کرنے ہیں، اسے سی پیک کو سرے چڑھانا ہے، وہ کسی محاذ آرائی میں الجھ کر اپنا رستہ کھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ مخالفین نے اس بات کو ا سکی کمزوری تصور کر لیا ہے جبکہ یہی اس کی حقیقی اور ٹھوس طاقت کا راز ہے۔
نواز شریف نے ایک تاریخ رقم کی ہے، پارلیمنٹ میں ان کو مکمل بالا دستی حاصل ہے ، وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں، مگر انہوںنے کسی انا کامظاہرہ نہیں کیا، ان کی اولاد نے بھی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔، ان کے بھائی اور قریبی رفقا بھی ان کے ساتھ جم کر کھڑے رہے، یہ ایک نیا شاہنامہ ہے، اسے وزیر اعظم نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ رقم کیا ہے، مئورخ اس کا ذکر سنہری حروف میں کرے گا۔