قومی اسمبلی کی ایک سال کی کارکردگی

قومی اسمبلی کی ایک سال کی کارکردگی

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے  دوران سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق  نے 14ویں قومی اسمبلی کی  ایک سالہ کارکردگی رپورٹ  جاری کر دی  ہے جس  میں اعداد و شمار کے حوالے دے کر موجودہ  قومی اسمبلی کی کارکردگی پچھلی اسمبلی سے بہتر دکھائی گئی  ہے جب لاہور سے ’’ فاتح عمران خان‘‘ سردار ایاز صادق کو قومی اسمبلی کا سپیکر بنایا گیا تو اپوزیشن نے ’’لاہوریے‘‘ کو ملک کے تیسرے بڑے منصب پر فائز کرنے کی مخالفت کی لیکن وزیراعظم نواز شریف نے ’’نکتہ چینیوں‘‘ کی مخالفت کو نظر انداز کر کے  انہیں سپیکر قومی اسمبلی بنا دیا  ہمیشہ سپیکر حکمران جماعت کی آشیر باد سے ہی منتخب ہوتا ہے لیکن انتخاب کے بعد وہ پارلیمانی روایات کے تحت ایوان میں اپنی غیر جانبداری قائم رکھنے کیلئے پارٹی سے وابستگی ختم کرنے کا اعلان کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کا جھکائو حکمران جماعت کی  طرف رہتا ہے کیونکہ وہ  حکمران جماعت  کی وجہ سے ہی اس  منصب پر بیٹھا ہوتا ہے تاہم وہ ایوان کی کارروائی کو ’’غیر جانبداری‘‘ سے چلا کر اپنے منصب کے ساتھ انصاف کرنے کی  کوشش کرتا ہے سردار ایاز صادق کو اپنی سیاسی زندگی کا عروج سپیکر قومی اسمبلی کی صورت میں ملا ہے اس منصب پر ملک کی نامور شخصیات کو بیٹھنے کا موقع ملا ہے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں شاندار روایات قائم  کیں اور اپنی رولنگ کے ذریعے تاریخی فیصلے کئے سید فخر امام کی مارشل لاء کے بارے میں رولنگ آج بھی پارلیمانی  تاریخ کا حصہ ہے لہٰذا سردار ایاز صادق کے لئے یہ منصب ان کی سیاسی زندگی میں ایک بڑا امتحان ہے گو کہ انہیں پچھلے ایک سال میںکسی بڑے امتحان سے نہیں گزرنا پڑا تاہم انہوں نے ایوان کی کارروائی کو بڑی خوش اسلوبی سے چلا کر ارکان کے دلوں میں عزت و توقیر پیدا کی ہے ’’سکول مانیٹر‘‘ بن کر سختی کرنے کی بجائے افہام و تفہیم سے ایوان کی کارروائی چلائی ہے۔ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کا واک آئوٹ جمہوری کلچر کا حصہ ہوتا ہے لیکن شاید  ہی کسی رکن نے سپیکر کی سخت گیری کی وجہ سے ایوان  سے واک آئوٹ کیا ہو سپیکر کا ایوان میں اس وقت رول بڑھ جاتا ہے جب اپوزیشن کے ’’شور شرابہ‘‘ کے ردعمل میں حکومتی بنچوں کی طرف سے اسی طرح  کے ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے سردار ایازصادق اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسی اپوزیشن  ملی  ہے جن میں ان کے ذاتی دوست ہیں جو ان کے سامنے حیا اور شرم کرتے ہیں اس لئے انہیں قومی اسمبلی کا اجلاس  محض  اپوزیشن  کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ملتوی نہیں کرنا پڑتا، سردست وہ ایک کامیاب سپیکر ہیں انہیں مرتضیٰ جاوید عباسی کی معاونت حاصل ہے جو ان کی عدم موجودگی میں ایوان  کی کارروائی کوخوش اسلوبی سے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں قومی اسمبلی کی  ایک سال کی کار کرگی کی رپورٹ اس  لحاظ سے تشنہ ہے جہاں اس میں قومی اسمبلی کی عمدہ کاردکرگی کا ذکر کیا گیا ہے وہاں ارکان کا ذکر نہیں جن کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ اجلاس کو ملتوی کرنا پڑتا ہے یا جو  ایوان کے یخ بستہ ماحول میں محض اپنی نیند پوری کرتے آتے ہیں رپورٹ میں اس بات کاذکر  بھی ہونا چاہیے تھا کہ کتنے  ارکان  ایوان سے غیر حاضر رہے اور چھٹی کی درخواست دائر کرکے اسمبلی سے ٹی اے ڈی اے لیتے رہے ایوان میں ایسے ارکان بھی موجود ہیں جنہوں  کبھی پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اگرچہ نواز شریف کابینہ کا حجم بڑا نہیں ہے لیکن وزراء کی ایوان میں غیر حاضری کے باعث کئی بار حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا سپیکر کی سخت گیری کے باوجود اکثر و بیشتر وزراء کی فرنٹ لائن خالی رہتی ہے جب وزیراعظم خود ایوان میں نہیں آتے تو وہ اپنے وزراء کو کس طرح ایوان میں موجود رہنے کا پابند کر سکتے ہیں وزیراعظم  رونق افروز ہو جائیں تو ایوان کی رونق بھی دوبالا ہو جاتی  ہے اگر عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے  تو پارلیمنٹ میں اس کا مقابلہ کرنے کے  لئے جاندار اپوزیشن  بھی موجود ہے ’’جارحانہ مزاج کی حامل اپوزیشن سے نبردآزما  ہونے میں سپیکر کا رول بڑا اہم ہوتا ہے سردار ایاز صادق اپنے اس کردار کوخوش اسلوبی سے ادا کر رہے ہیں، قومی اسمبلی نے2008-13 کے دوران اوسطاً 133.2 ایام کام کیا  جبکہ 2013-14 کے دوران قومی اسمبلی نے 131 ایام کام کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے قومی اسمبلی نے 11 سیشن میں 130 لازمی ایام کار ہی  پورے کئے ہیں اس سے زائد کام کرنا ضروری نہ سمجھا کم از کم تین سیشن کام کرنا آئینی تقاضا ہے گذشتہ پانچ سال کے دوران اوسطاً 282.25 گھنٹے کام کیا گیا لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران 322.10 گھنٹے کام کیا گیا روزانہ کام کی اوسط 3.25 گھنٹے بنتی  ہے۔ گذشتہ پانچ سال  میں قومی اسمبلی  میں اوسطاً 40.8 بل متعارف کرائے گئے جن میں سے 18 منظور کئے گئے 13ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال  ایوان میں 30 بل متعارف کرائے گئے جن میں صرف 3 بل  منظور کئے گئے تاہم قومی اسمبلی  کے گذشتہ ایک سال  کے دوران ایوان میں 22 بل متعارف کرائے گئے جن میں سے 11 منظور کئے گئے  تاہم قومی اسمبلی میں مجموعی طور قانون سازی مایوس کن رہی پچھلے پانچ سالوں کے دوران  22 پرائیویٹ بل منظور کئے گئے پچھلے ایک سال میں 22 پرائیویٹ بل ایوان میں متعارف کرائے گئے لیکن ایک بل بھی منظور نہیں  کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی سمیت 56 ایشوز پر قومی اسمبلی نے قرار دادیں منظور کیں شاید ہی  قومی اسمبلی کی کسی ایک قرارداد پر عمل  کیا گیا ہو۔ 29 مجالس قائمہ نے پارلیمانی بزنس نمٹانے میں مدد کی مجالس قائمہ کی 10 اور پی اے سی کی 3 رپورٹیں  ایوان میں پیش کی گئیں۔ گذشتہ سال قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو 8054 سوالات مو صول ہوئے جن میں سے 2944 سوالات کے جوابات دئیے  گئے13ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال میں موصول ہونے والے سوالات کے مقابلے میں جوابات  میں 8.5 فیصد اضافہ  ہوا ہے جب کہ گذشتہ سال قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں 753 توجہ دلائو نوٹس موصول ہوئے جن میں سے 118  کو ایوان میں ٹیک اپ کیا گیا 258 تحاریک التواء میں سے 41 کو ٹیک اپ کیا گیا، رول259 کے تحت 508 تحاریک موصول ہوئیں جن میں سے 9 ہی زیر بحث آ سکیں۔ سپیکر نے قومی اسمبلی کی ایک سال کی کارکردگی کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر  صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے پارلیمنٹ  دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہدف ہے، خدانخواستہ  اس نوعیت کا کوئی واقعہ درپیش آیا تو کوئی باہر نہیں جا سکے گا لہٰذا پارلیمنٹ کی فول پروف سکیورٹی کیلئے تمام  متعلقہ اداروں  سے سکیورٹی پلان  طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سکھ مظاہرین کا پارلیمنٹ ہائوس میں داخل ہونا’’ سکیورٹی  لیپس‘‘ تھا سکھ مظاہرین کی یلغار ناقص سکیورٹی کا نتیجہ تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں کو سامنے لیٹ جانا چاہیے تھا، وردیاں پھاڑ کر مظاہرین اندر گھستے تو اور بات تھی۔ سپیکر نے کہا کہ سپیکر آفس پروٹوکول پر یقین نہیں رکھتا، یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ان کو سونپی ہے، عام آدمی ہوں، میڈیا کی تنقید کو خندہ پیشانی سے سنتا ہوں، پارلیمنٹ کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے  متعلقہ اداروں سے 5، 6 میٹنگز ہو چکی ہیں، سپیکر نے قومی اسمبلی کی ایک سال کی کارکردگی پر رپورٹ جاری کی ہے انہیں اس رپورٹ کو پیش نظر رکھ کر اپنی کامیابیوں پر مسرت کا اظہار کرنے کی بجائے ان خامیوں کو دور کرنا چاہیے جو پارلیمنٹ کی اہمیت کم کرنے کا باعث بننا چاہیے۔ سردار ایاز صادق کو اپنے  ان پیشروئوں کی تقلید کرنی چاہیے جنہوں نے سپیکر کی حیثیت سے شاندار روایات قائم کی ہیں ان کو پارلیمنٹ کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانا چاہیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’’پُل‘‘ کا کردار اداکرنا چاہیے۔