باپ کا مقام ۔۔۔!

  باپ کا مقام ۔۔۔!

ہر سال کی طرح اس سال بھی ملک بھر میں فادر ڈے محبتوں اور تحفوں کے ساتھ منایا گیا۔ محبتوں اور شفقتوں کا ہر لمحہ خوبصورت ہوتا ہے۔ ہر معاشرے اور مذہب میں والدین کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ ماں کا جواب نہیں اور باپ کا نعمل البدل نہیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے انسان کو ان دو نعمتوں سے نواز کر بندے کو ایثار اور قربانی کا مفہوم سمجھا دیا۔ یہ وہ رشتے ہیں جو آخرت میں بھی ساتھ ہوں گے۔ روزِ قیامت انسان انہی رشتوں سے پکارا جائے گا۔ ماں باپ کے چہروں کو دیکھنا زیارت کعبہ کے مترادف ہے۔ نافرمان اولاد خواہ پیغمبروں کی ہو، آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کے نافرمان بیٹے کو غرق کر دیا اور اس کی معافی کے لئے اپنے مقرب پیغمبرکی گذارش کو بھی مسترد کر دیا۔ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے، اس کی طاقت اس کی پہچان ہوتا ہے، اس کی دنیا و آخرت کی نجات ہوتا ہے مگر نافرمان اولاد باپ کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، اول نیک اعمال کر جائے دوم ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں سوم نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔‘‘ تیسرا عمل جس کا ثواب ملتا رہے، جب تک یہ لڑکا دنیا میں زندہ رہے گا، اس کی نیکیوں کا ثواب اس کے ماں باپ کو ملتا رہے گا اور اپنے ماں باپ کے حق میں دعائیں کرے گا۔ لڑکے کے لئے صدقہ جاریہ کی خاص تاکید فرمائی گئی ہے کہ لڑکی شوہر کے حقوق کی پابند ہے جبکہ لڑکا وراثت میں بھی زیادہ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ  بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے  ؎
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر گیا تھا وہ مگر رویا نہیں
باپ اور بیٹی کی محبت سمندر سے بھی زیادہ گہری ہوتی ہے، خاموش اور طاقتور۔ اور بیٹے کی محبت رگوں میں دوڑتا لہو ہے۔ بچے اپنے باپ کے ساتھ بیٹھے کیک کاٹ رہے تھے اور ہم خیالوں میں اپنے باپ کے کاندھے پر سر رکھے کسی اور ہی دنیا میں پہنچے ہوئے تھے۔ ہمارے ابّا جان موسموں کی پرواہ کئے بغیر خدمت خلق میں مصروف رہتے۔ کبھی والدہ کہتیں کہ آپ لوگوں کے دکھ سکھ سنتے ہوئے تھکتے نہیں تو فرماتے کہ یہ پریشان حال مجبور لوگ کہاں جائیں۔ اس زمانے میں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ خود غرض زمانہ ہے۔ خون سفید ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنے ’’کاکے کھڈا‘‘ رہا ہے۔ رشتے ایک دوسرے کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ والدین کے گستاخ ہو گئے ہیں۔ نافرمان ہو رہے ہیں۔ اللہ کے بندوں کی خدمت ہم پر فرض ہے۔ بندوں کے اندر چھپا شیطان نظر انداز کر دیا کرو اور آخری وقت تک کوشش کیا کرو کہ وہ بندہ سدھر جائے۔ ہم نے اپنے والد کو کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں دیکھا۔ کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ کسی سے حسد نہیں کیا۔ کسی کے خلاف کینہ یا بغض نہیں رکھا۔ درگزر کی دولت سے مالا مال تھے۔ کبھی کسی سے نفرت نہیں کی۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ جھوٹے، بے ایمان اور منافق لوگوں پر غصہ آیا بھی تو لمحاتی۔ دکھاوے سے نفرت رہی۔ غریبوں اور حاجت مندوں کے لئے بے حد حساس تھے۔ گھر آتے ہوئے راستے میں کوئی چھابڑی والا مل جاتا تو گاڑی سے اتر کر اس سے پھل خریدتے۔ اس کے ساتھ گپ شپ کرتے۔ فرماتے کہ سجی سجائی دکانوں سے تو سب ہی خریداری کرتے ہیں، ان غریب چھابڑی والوں سے بھی خریدنا چاہئے۔ عقیدتمندوں کے بارے میں کہا کرتے ’’چکی میں آٹا پستا ہے لیکن کچھ دانے چکی کے ساتھ لگے رہ جاتے ہیں۔ وہ نہیں پستے۔‘‘ یعنی جو ساتھ لگے رہ جاتے ہیں وہی حقیقی عقیدت مند ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں کے باپ کو بھی ایک عظیم باپ پایا۔ بچہ ماں کے وجود کا حصہ ہوتا ہے لہٰذا ماں کی محبت لازوال ہے مگر باپ کے مقام دعا کا گر ادراک ہو جائے توکوئی بیٹا اپنے باپ سے گستاخی کا تصور نہ کرے۔ ہماری تحریروں میں ہمارے والد ؒ کی روحانیت پنہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میں کسی بندے سے محبت کرتاہوں تو مخلوق کے دل میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہوں۔ مولانا رومیؒ کہتے ہیں کہ ’’جو کوئی اپنی اصل سے دور ہو جاتاہے وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر سے تلاش کرتا ہے۔‘‘ جسم مٹی سے تھا اور مٹی میں چلا گیا۔ حقیقی زندگی کی شروعات بعد از مرگ ہوتی ہے  ؎
خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے