اور تلوار چل گئی

اور تلوار چل گئی

یہ میرے آقا و مولا  ﷺ کی تلوار ہے، بدر اور احد میں اسی تلوار نے کفار کے لشکر کا مقابلہ کیا۔
کائنات کے مالک نے حکم دیا کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو اور یہ بھی حکم نازل ہوا کہ اپنی زرہیں نہ اتارو۔ مومن ہر وقت حالت جنگ میں ہوتا ہے۔
آج ہمارے ہاتھ میں عضب لہرا رہی ہے۔
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ۔
اگر تم مومن ہو تو فتح تمہاری ہے۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو۔ اترا ٓئیں گے گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔
ہلکے ہو یا بوجھل، اللہ کی راہ میںنکلو۔
 آج پاکستان کا لشکر صف بہ صف میدان کارزار کا رخ کر رہا ہے اور پوری قوم کامرانی کی دعائیںمانگ رہی ہے۔قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔یہ جنگ تو شمالی وزیرستان کے تین محدود سے مقامات کے خلاف ہے مگر پوری قوم حالت جنگ میں ہے، مگر قوم کو کسی نے حوصلہ نہیں دیا کہ لاالہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ کاش! کوئی لیڈر ہمارے نصیب میںہوتا۔
 فروری کے آخری ہفتے کے آغاز میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجرجنرل عاصم باجوہ لاہور آئے ، انہوںنے یہ کہہ کر ایڈیٹروں اور کالم نویسوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ فاٹا کا چھیاسی فی صد علاقہ اب تک ا ٓزاد کروایا جا چکا ہے اور اب دہشت گردوں کا جمگھٹا شمالی وزیرستان کے صرف تین مقامات تک محدود ہے، پاک فوج ان کو ملیا میٹ کرنے کی مکمل تیاری کر چکی ہے اور اگر حکومت کی ہدائت ملی تو چار سے چھ ہفتوںمیں ان تین مقامات کا بھی صفایا کر کے یہاں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا جائے گا۔یہ بریفنگ لاہور کے آئی ایس پی آر کے دفتر میں ہوئی تھی ۔ اس کے انچارج کرنل شاہد عباس کے لئے بھی یہ انکشاف کسی بریکنگ نیوز سے کم نہیںتھا ا ورہیں سے مختلف ٹی چینلز کے ٹکر چلنے لگے اور قوم کو ایک نیا حوصلہ ملا کہ چھیاسی فی صد علاقہ کلیئر ہے تو پھر فکر کاہے کی۔ باقی علاقے کی صفائی کے لیے بھی دو دو ہاتھ ہو جانے چاہئیں، لیکن دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ پہلے عرفان صدیقی اور پھر فواد حسن فواد کے ذمے لگایا گیا۔دہشت گردوںکو کھلی چھٹی مل ہوئی تھی اور پاک فوج کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے بلکہ بڑی حد تک زبان بندی بھی عمل میں آ چکی تھی، فوج کے سربراہ نئے نئے تھے، وہ حکومت کے لئے کسی پریشانی کا باعث نہیںبننا چاہتے تھے مگر جب ملک کے ڈی فیکٹو وزیر اعظم شہباز شریف چین کے دورے پر گئے تو سنکیانگ میں دہشت گردی کی بھیانک واردات ہو گئی جس کا کھر اپاکستان کے قبائلی علاقوں تک پہنچتا تھا تو پھر جنرل راحیل شریف اچانک چار دن کے لئے چین پہنچے۔میری معلومات کے مطابق یہ کوئی طے شدہ دورہ نہیں تھا۔ مگر پاکستان کے ایک آزمودہ دوست اور ہمسائے چین کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے یہ دورہ ضروری تھا ، چینی صدر اپنی حکومت کو حکم دے چکے تھے کہ پاکستان کی سرحد پر زمین سے آسمان تک کنکریٹ کی ایک دیوار کھڑی کر دی جائے تاکہ کوئی بیرونی دہشت گرد چین کی سر زمین پر قدم نہ رکھ سکے۔
جنرل راحیل شریف کے دورے کے نتیجے میں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا، کئی برسوں سے امریکیوں کا دبائو تھا کہ یہ آپریشن کیا جائے لیکن ہم ٹال مٹول سے وقت گزار رہے تھے، چینیوں پر آفت ٹوٹی تو ہم اس عظیم ہمسائے کے ساتھ ٹال مٹول نہیںکر سکتے تھے اور پھر دہشت گردوں نے ایک بہانہ اور فراہم کر دیا ، وہ کراچی ایئر پورٹ پر حملہ آور ہوئے اور پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا کر کے رکھ دیا۔ ایک ویب سائٹ پر ازبک خود کش بمباروں کی تصویریں بڑے تفاخر سے لگائی گئیں ، یہ نوعمر لڑکے تھے جن کی مسیںبھی نہیں بھیگی تھیں۔
پاکستان کو فیصلہ کرناتھا کہ و ہ کب تک غیر ملکی چھوکروں کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔
حکومت ہمیشہ کی طرح بے عملی کا شکار تھی۔ وزیر داخلہ کے بارے میںپتہ چلا کہ وہ رات بھر وزیر اعظم کا فون ہی سننے کے لئے تیار نہ ہوئے، کئی گھنٹوں بعد وہ کراچی پہنچے تو انہوں نے ناقص سیکورٹی کی ذمے داری سندھ حکومت پر ڈال دی۔ یہ طوائف الملوکی کا عالم تھا۔
کسی جاں بلب مریض کے رشتے دار جب اس کی میراث پر لڑ بھڑ رہے ہوتے ہیں تو آپریشن تھیٹر کے ڈاکٹرز مریض کی زندگی بچانے کی کوشش میںمصروف ہوتے ہیں۔کراچی میں کیا ہوا، کس کا گناہ تھا، اس کا فیصلہ حکومتی منصب دار مہینوں اور سالوں کی بحث میں کرتے رہیں گے، مگر ملک کو بچانے کے لئے جنرل راحیل شریف کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔انہوںنے بزن کا اشارہ کیا اور وہ آپریشن شروع ہو گیا جو میرے حضور  ﷺ کی تلوار عضب سے منسوب ہے۔
 نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں۔
عضب تلوار علم بن کرلہرا رہی ہے ا ور اس کے سائے میں میرے دیس کے گبھرو جوان قوم کی مائوںبہنوں، بیٹیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ان پہاڑوں کی غاروںمیںکود گئے ہیں جہاں فاتحین عالم کے سانس بھی رک جاتے تھے اور جہاںباد صر صر بھی ڈر ڈر کے قدم رکھتی ہے۔
یہیں کہیں تورا بورا کے غار ہیں جن میںا مریکی افواج کو گھسنے کی جرات نہیںہوئی تھی اور اس نے لاکھوںمیل دور بیٹھ کر بی باون طیاروں اور کروز میزائلوں سے تورا بورا کے پہاڑوں کو سرمے کی طرح پیس ڈالاتھا مگر دتہ خیل، شوال اور میران شاہ کی چوٹیوں میں میرے اور آپ جیسے گوشت پوست کے جوان، ان دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں جو پچھلے دس برسوںمیں ساٹھ ہزار بے گنا ہ پاکستانیوں کاقیمہ بنا چکے،یہ جوان اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کر رہے ہیں، ان میں سے کون سلامت واپس آتا ہے اور کون ہلالی پرچم کا کفن پہنتا ہے،یہ توبقا یا فنا کی جنگ ہے، یہ سلامتی یا تباہی کی جنگ ہے۔یہ نائو اور نیور کا سوال ہے، دشمن نے اپنے مذموم عزائم آشکارا کر دیئے ، وہ پاکستان کو مفلوج کر دینا چاہتا ہے، وہ لاہور اورکراچی کے بچوں کا خون کرنا چاہتا ہے، وہ ایک ایئر پورٹ ہی نہیں ، ہر ایئر پورٹ کو لولا لنگڑا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ پاکستان کا رابطہ باہر کی دنیا سے کاٹ دینا چاہتا ہے۔اس نے بیرونی سرمایہ کاروںکودھمکی دی ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ جائیں۔
یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔ اب ایک ایک شہری کو یہ جنگ لڑنی ہے، ہر گھر میں دشمن چھپا ہوا ہے، ہر دفتر میں دشمن چھپا ہوا ہے، ہر آستین میں سانپ ہے،ہر بغل میں چھری ہے۔ہر دوسرا شخص آپ کی پیٹھ پیچھے وار کرنے پر تلا ہو اہے، اب یہ جنگ ہم سب کو لڑنی ہے، پاکستان کے حصول کی جنگ میں بھی ہر شہری نے قربانیاں دیں، اب پاکستان بچانے کی جنگ کا مرحلہ در پیش ہے۔
 آیئے ، اپنے نبی  ﷺ کی تلوار کے سائے میں ہم سب آگے بڑھیں۔
  اپنے خدا پریقین رکھئے، بیس کروڑ افراد پر مشتمل قوم کو دنیا کی کوئی طاقت نیست ونابود نہیںکر سکتی۔
جنرل راحیل شریف ، اپنے نشان حیدر بھائی میجر شبیر شریف شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میدان میں کود گئے ہیں۔ایسے سپوت ہر قوم کے نصیب میںنہیںہوتے۔