نواز شریف اور چوہدری نثار علی خاں کے درمیان ’’ناراضی‘‘

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف اور چوہدری نثار علی خاں کے درمیان ’’ناراضی‘‘

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مکمل سکوت طاری تھا جسے انگریزی زبان میں Pin drop silenseکہا جاتا ہے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے دل کے’’ پھپھولے‘‘ دکھا رہے تھے ان کی تقریر طوالت پکڑ رہی تھی جو ختم ہونے کو نہیں آرہی تھی کچھ وزراء پہلو بدل رہے تھے لیکن کسی کو ان کی تقریر میں مداخلت کی جرات نہیں ہوئی۔ ایسا دکھائی دیتا تھا آج چوہدری نثار علی خان اپنا حال دل سنا کر ہی اپنی تقریر ختم کریں گے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور پوری کابینہ کے ارکان ان کی تقریر کو توجہ سنتے رہے ان کی 45منٹ کی تقریر نے جو سماں باندھا تھا اس کے بعد کسی اور کی تقریر کی گنجائش نہیں تھی چوہدری نثار علی خان کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ’’ چوہدری صاحب یہ باتیں مجھ سے الگ بیٹھ کر کر لیتے تو بہتر تھا لوگ کہتے ہیں کہ لحاظ میری قوت ہے اور لحاظ ہی میری کمزوری بن گیا ہے۔‘‘ْ
میری صحافتی زندگی میں وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس تھا جس کی ’’اندرونی کہانی ‘‘ کی جستجو میں 5،6وزراء سے رابطہ قائم کیا لیکن کسی نے کھل کر ’’ لب کشائی‘‘ نہیں کی البتہ کسی نے بھی اشارتاً ایسی بات نہیں بتائی جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ وفاقی کا بینہ کے اجلاس میں کوئی بد مزگی ہوئی ہو ۔ البتہ ایک وزیر نے کہا کہ چوہدری صاحب ! نے جو تقریر کی ہے وہ دو ’’دوستوں‘‘ کے درمیان ’’شکوہ جواب شکوہ ‘‘ تھا یہ سب باتیں ایک بند کمرے میں کی جانے والی تھیں ۔ آج کی نواز شریف کابینہ میں مشرف دور کی کابینہ کے لوگ بیٹھے ہیں ان کی موجودگی میں دو دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو مناسب نہیں تھی ۔ ایک وزیر نے بتا یا کہ چوہدری نثار علی خان نے انتہائی جذباتی تقریر کی وہ جذبات میں اس حد تک بہہ گئے کہ انہوں نے کہا کہ ’’ جناب وزیر اعظم ! اگر میں آپ کا وفادار نہیں تو پھر حسن و حسین بھی آپ کے وفاردار نہیں ‘‘ انہوں بڑی بات کہہ دی میں نے خود ان سے یہ بات سنی ہے کہ وہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے وفادار ہیں ان کے خون میں ’’بے وفائی اور غداری‘‘ نہیں گویا انہوں نے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھانے والوں کے منہ پر طمانچہ مار دیا۔ چوہدری نثار علی خان تک عام صحافی کی رسائی ممکن نہیں اور پھر اس طرح کے واقعات میں تو ان کے دل کی بات جاننا ناممکن ہے میرے بارے یہ تاثر ہے کہ میری ان تک رسائی ہے اور وہ اپنے دل کی باتیں کہتے ہیں میں بھی اس بھرم کو قائم رکھنے کے لئے تردید نہیں کرتا چوہدری نثار علی خان سے کم کم ملاقات ہوتی ہے اگر کوئی ملاقات ہو تو اس میں’’ ناراضی اور گلے شکوے‘‘ ہوتے ہیں جب سے میں نے ان کی محبت میں کچھ زیادہ ہی لکھنا شروع کیا وہ’’ خوش‘‘ ہونے کی بجائے’’ ناراض‘‘ ہی ہوتے ہیں لہذا اب میں نے ان کے بارے میں احتیاط سے لکھنا شروع کر دیا ہے ، ہماری سیاسی تاریخ کے اس اہم موڑ پر میرے لیے خاموش تماشائی بنا رہنا بھی ایک ’’ جرم‘‘ سے کم نہیں ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں بار ہا یہ کہہ چکا ہوں مجھے ان سے بے پناہ محبت ہے، جب کہ چوہدری نثار علی خان جن سے میری میاں نواز شریف سے بھی پہلے دوستی کا آغاز ہوا وہ بھی مجھے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں ان سے صحافی اور سیاست دان کا رشتہ نہیں لہذا کبھی کبھی حق گوئی کے’’ جرم ‘‘میں دونوں کو ناراض کرتا رہتا ہوں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ‘‘ گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے تو کھائے گا کیا‘‘ میں تو پرویز مشرف کی’’ مارشل لائی حکومت ‘‘ میں نواز شریف کی محبت میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کی صدارت سے محروم ہو چکا ہوں لہذا میں جو بات کہوں گا وہ کسی کی وکالت نہیں ہو گی بلکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ کے درمیان ’’ بد اعتمادی‘‘ پیدا کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرنا میری صحافتی ذمہ داری ہے ، میں اس وقت حیران و ششدر رہ گیا جب وفاقی کابینہ کے اجلاس کے حوالے سے بعض ٹی وی چینلوں پر چوہدری نثار علی خان کے حوالے سے ایسی باتیں زینت بننے لگیں جو انہوں نے کہی ہی نہیں یہ پہلا موقع تھا کہ وفاقی کابینہ کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کے کچھ جملے منسوب کئے جارہے تھے جن کا حقیقت سے تعلق نہیں بات یہیں ختم نہیں ہوئی اگلے روز دو ٹی وی چینلز کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی’’ اندرونی کہانی‘‘ فراہم کی گئی اگرچہ یہ کہانی ایک روز پرانی ہے جو نوائے وقت اور کچھ دیگر اخبارات میں محتاط انداز میں شائع ہو چکی تھی میرا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب چوہدری نثار علی خان سے ایسے جملے منسوب کئے گئے جو انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہے ہی نہیں دوسرے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی کی خبر دو ٹی وی چینلوں پر ٹیلی کاسٹ کرانے کا آخرکیا مقصد ہے؟ مجھے ایسے دکھائی دیا کہ یہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو چند روز سے ایک سازش کے تحت وزیر اعظم کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اس مشکل وقت میں چوہدری نثار علی خان ان کے ساتھ نہیں۔ چوہدری نثار علی خان وزیر اعظم کو لڑ مرنے کا مشورہ دینے والے ان عناصر کی سرزنش کرچکے ہیں جو آج وزیر اعظم کو اس مقام پر لے آئے ہیں دونوں ٹی وی چینلوں سے ایک جیسی ’’ کہانی‘‘ چلائی گئی جس میں چوہدری نثار علی خان سے یہ جملہ منسوب کیا گیا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کوئی ’’معجزہ‘‘ ہی نواز شریف کو بچا سکتا ہے ۔ یہ خطرناک جملہ ہے چوہدری نثار علی خان کے ترجمان نے اگلے روز ایک وزیر کی جانب سے ان سے منسوب جملوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ’’ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کی گئی ان کی تقریر پر حکومتی وزراء غلط اور غیر حقیقی بیان دینے سے گریز کریں انہوں نے یہ بیان کہیں نہیں دیا جو ایک حکومتی وزیر بار بار دہرا رہے ہیں اور اسے وفاقی وزیر داخلہ سے منسوب کر رہے ہیں یہ بد قسمتی ہے کہ غلط بیانات ایسے وزراء کی طرف سے آرہے ہیں جنہوں حکومت کو اس نازک صورت حال سے دوچار کیا ہے ‘‘ ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اکثر و بیشتر ’’خاموش‘‘ رہتے ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو اس کی گونج دور تک سنائی دیتی ہے ۔ بعض اوقات ان کی’’ خاموشی‘‘ اور بعض اوقات ان کا’’ بولنا‘‘ ان کے لئے وبال جان بن جاتا ہے ان کا خاموش رہنا اور بولنا دونوں ہی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا ’’پسندیدہ موضوع ‘‘ ہوتا ہے جب ایسی کوئی صورت حال پیدا ہو تو پاکستان کے طول و عرض سے صحافتی برادی مجھے فون کر کے حقائق جاننا چاہتی ہے لیکن میں ان کو’’ آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو بتانے سے گریز کرتا ہوں ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم محمد نوازشریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان خوبصورت جملوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام اور محبت کے جذبات کا اظہار کیا گیا چوہدری نثار علی خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرکے اپنے بارے میں تمام قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کر دیا۔ پچھلے کئی دنوں سے ٹی وی چینلوں پر تبصرے کئے جارہے تھے چوہدری نثار علی خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ’’جناب وزیراعظم میں 1985ء سے آپ کے ساتھ ہوں کوئی میری وفاداری پر انگلی نہیں اٹھا سکتا اگر میں وفادار نہیں تو پھر حسن ‘ حسین نواز بھی وفادار نہیں‘‘ یہ تاریخی جملے ہیں جنہوں نے میاں نواز شریف کو ہلا کر رکھ دیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے جواب میں کہا کہ’’پرانے ساتھیوں کا میرے دل میں بھی بہت لحاظ ہے ‘‘ چوہدری نثار علی خان نے 45منٹ کی جذباتی کی بازگشت ابھی تک سیا سی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے اپنی تقریر میں جہاں 1985سے لے کر اب تک میاں نواز شریف سے سیاسی رفاقت کا احاطہ کیا وہاں انہوں نے بتایا کہ وہ کہاں کہاں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ،انہوں نے نوازشریف حکومت کے دوسرے دور کی وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس کی روئیداد سنائی جس میں بعض وزراء کے مطالبے پر طلب کئے کابینہ کا اجلاس ’’ خوشامدانہ‘‘ گفتگو کی نذر ہو گیا انہوں نے اس وقت وزیراعظم کو تجویز پیش کی تھی کہ ’’خوشامد‘‘ پر پابندی لگا دی جائے جس پر وزیر ان سے ناراض ہو گئے انہوں کہا جناب وزیر اعظم !آپ کی ناراضی پر مبنی’’ پرچی ‘‘آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
انہوں نے کہاجناب وزیراعظم! میں خوشامد کو پسند نہیں کرتا آپ کے سامنے سچی بات کرنا پسند کرتا ہوں یہی طرز عمل سالہا سال سے اپنا رکھا ہے ۔وزیرداخلہ نے کہا کہ جناب وزیراعظم 1985ء سے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ غلام اسحق کا دور ہو یامشرف کا میں نے آپ کے ساتھ وفاداری نبھائی مجھے آج آپ کے کان بھرنے والوں کی وجہ سے یہ باتیں کہنی پڑ رہی ہیں آپ کا فرض تھا کہ کان بھرنے والوں کو روکتے یا مجھے بلا کر پوچھتے۔جناب وزیراعظم! جن لوگوں نے مختلف مواقع پر آپ کو جو مشورے دئیے کیا اگر غلط تھے تو آپ بتائیں غلط تھے، میرے مشوروں کو پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں آج ہم اس مقام پرکھڑے ہیں جناب وزیراعظم میری مسلم لیگ سے کٹمنٹ ہے پچھلے 32 سال سے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں ہمیشہ آپ کی سیاست میں کامیابی کے لیے سوچا انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا صرف ایک بار وزیر خارجہ بننے کی خواہش کی تھی انہوں نے کہا کہ جونیئر لوگوں کو آگے لایا گیا خوشامدی مشیروں نے صورت حال کو آج اس مقام تک پہنچایا دیا ہے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان ’’فاصلے‘‘ پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے نواز شریف کے دوست ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کے خیر خواہ۔