”ایہہ لگیّاں زورو زوری“

کالم نگار  |  نصرت جاوید
”ایہہ لگیّاں زورو زوری“

پانامہ دستاویزات کے انکشاف کے بعد سے اُٹھے سوالوں کا جواب ان دنوں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں ڈھونڈا جارہا ہے۔اس ملک کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کے خاندان کو بتانا پڑرہا ہے کہ لاہور میں قیامِ پاکستان سے پہلے لگائی لوہے کی ایک فیکٹری سے شروع ہوکر لندن کے ایک مہنگے ترین علاقے میں چار قیمتی فلیٹس خریدنے کے لئے گرانقدر سرمایہ کیسے جمع اور خرچ ہوا۔ کہانی لمبی ہے اور تین نسلوں تک پھیلی ہوئی۔

ٹیلی وژن کے چند مقبول ترین سوپ اوپیرا ایسے ہی خاندانوں کے بارے میں تیار ہوئے تھے۔ان میں سے چند ایک اپنے ملکوں کی سیاست میں بہت بااثر بھی تھے۔امریکہ میں کنیڈی خاندان تھا اور اٹلی میں Berlusconiوغیرہ۔ ایسے خاندان جب قوتِ حکمرانی بھی حاصل کرلیں تو ان کے بارے میں اٹھے سوالات کا جواب فراہم کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔قانونی سے زیادہ یہ اخلاقی سوالات ہوتے ہیں جہاں Conflict of Interestsکا بہت ذکر ہوتا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کا صدر منتخب ہوا ۔ڈونلڈٹرمپ بھی ان دنوں ایسے ہی سوالات کا سامنا کررہا ہے۔ حسن اور حسین نواز شریف کی طر ح اس کی دلچسپی بھی بنیادی طور پرپراپرٹی کے دھندے سے رہی ہے۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ وہ مہنگے ہوٹلوں کو بنانے اور چلانے پر صرف کرتا رہا ہے۔قیمتی فلیٹس پر مشتمل ٹاورز بھی بناتا رہا ہے۔ ایسے ہوٹل اور ٹاورز وہ صرف امریکہ ہی میں نہیں بناتا۔ متحدہ عرب امارات ،ترکی اور بھارت جیسے ممالک کے بڑے شہروں میں بھی اس نے سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اب امریکہ کے قومی مفادات کو ترجیح دی جائے گی یا ٹرمپ کے کاروباری مفادات ہی فیصلہ سازی پر حاوی نظر آئیں گے۔
بہرحال وطنِ عزیز کی طرف لوٹتے ہیں۔میری ناقص رائے میں پانامہ دستاویزات کے منکشف ہونے کے بعد بنیادی سوالات یہ ہونا چاہئیں تھے کہ پاکستان کے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور ملک کے دوبار وزیر اعظم رہتے ہوئے نواز شریف نے اپنے عہدے کو شریف خاندان کے کاروبار کو ترقی دینے کے لئے استعمال کیا یا نہیں۔اگر کیا تو وہ کونسے حکومتی فیصلے تھے جو صرف اس خاندان کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے لئے گئے تھے۔ نواز شریف کو موٹروے جیسے میگا پراجیکٹس متعارف کروانے کا بھی بہت شوق رہا ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی جو پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں میٹروبسوں اور اورنج ٹرینوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ایسے منصوبوں کے لئے غیر ملکی سرمایہ درکار ہوتا ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے آتا ہے۔ ایسی سرمایہ کاری ہو تو کمیشن اور کک بیکس وغیرہ کی جھوٹی سچی کہانیاں بھی بننے کو ملتی ہیں۔
نظر بظاہر پانامہ دستاویزات کے منکشف ہوجانے کے بعد بھی ایسے سوالات اٹھائے نہیں جارہے ۔ بنیادی شبہ یہ اچھالا جارہا ہے کہ شریف خاندان نے اپنے کاروبار سے جو منافع حاصل کیا اسے صاف اور شفاف انداز میں ڈکلیئر کرکے اس پر ٹیکس ادا نہیں کیا۔ٹیکس سے بچائی رقوم کو غیر قانونی طریقوں سے بلکہ دوسرے ملکوں کو منتقل کیا۔ بالآخر اس سرمایہ کا ایک گرانقدر حصہ لندن کے قیمتی فلیٹوں کی خریداری پر خرچ ہوا نظر آرہا ہے۔
شک اور شبے کی بنیاد پر اٹھائے سوالوں کو تحقیق وتفتیش کے بعد ٹھوس الزامات کی صورت دینا متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ 1988ءسے 1990ءاور بعدازاں 1993ءسے 1996ءتک نواز شریف حکومت میں نہیں تھے۔ اکتوبر 1999ءمیں کڑے احتساب کا نعرہ لگاتے ہوئے جنرل پرویز مشرف بھی اس ملک پر 9برسوں تک قابضانہ حاکمیت کرتے رہے۔ شریف خاندان کی مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کے سنہری مواقع ان 9برسوں میں پوری طرح میسر تھے۔ پرویز مشرف اور ان کی ”گڈگورننس“ نے مگر ان کا بھرپور استعمال کرنے کی بجائے نواز شریف کو ان کے پورے خاندان سمیت ایک طیارے میں بٹھاکر سعودی عرب بھیج دیا۔ جن سوالات کا جواب پرویز مشرف کی ہر حوالے سے تگڑی حکومت نے حاصل کرنے کی سنجیدہ اور بھرپور کوشش ہی نہیں کی تھی،اب ان کا کھوج نکالنے کی ذمہ داری سپریم کورٹ کے ججوں کے سر ڈال دی گئی ہے۔ اپنی جان کی امان پاتے ہوئے بلکہ التجا میں یہ کرنا چاہوں گا کہ سپریم کورٹ نے کئی حوالوں سے یہ بھاری پتھر ازخود اٹھایا ہے۔”آپ نہ لایاں وے میں ، لگیاں زورو زوری“والا مشہورپنجابی گانا یاد آجاتا ہے۔
پانامہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے کمرئہ عدالت میں بیٹھ کر میں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا۔لاکھوں پاکستانیوں کی طرح میں بھی ٹی وی سکرینوں پر چلے ٹکرز،سماعت کے دوران اور اختتام کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگی رہ نماﺅں کی بتائی تعبیروں اور شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک رچائے ٹاک شوز کی بدولت یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ پانامہ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیا ہورہا ہے۔
اپنے صحافتی کیریئر کے ابتدائی ایام میں جرائم اور نچلی عدالتوں کی کارروائی کے بارے میں رپورٹنگ بھی میری ذمہ داری تھی۔بعدازاں کوئی 3برس تک ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں آئے مقدمات پر خبریں لکھنے کی ذمہ داری بھی بھگتی۔ ایمان داری کی بات ہے کہ عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ کو میں نے ہمیشہ اپنی جان کا عذاب سمجھا۔ خبر لکھتے وقت ہمیشہ یہ خوف ذہن پر طاری رہتا کہ اپنے کسی فقرے کی بناءپر توہینِ عدالت کے الزام میں دھرنہ لیا جاﺅں۔ میری لکھی خبر سے کہیں یہ تاثر نہ ملے کہ میں عدالتی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہوں۔
میں بدنصیب تھا مگر آج کے نوجوان اور متحرک رپورٹر اس حوالے سے بہت خوش نصیب۔ آزادی اور بے باکی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ربّ کریم انہیں شاد رکھے۔ یہ رونق لگی رہے۔وقتی رونق کے لطف کو تھوڑی دیر کے لئے بھلاکر البتہ میں یہ سوچنے پر بھی مجبور ہوجاتا ہوں کہ پانامہ کا قصہ الف لیلوی داستانوں کی طرح کس حد تک پھیلا یا جاسکتا ہے۔ مارچ 2017ءکے اختتام تک سپریم کورٹ کو شاید کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ یہ فیصلہ حتمی ہوگا جس سے متاثر ہوئے فریق کے پاس اپیل کے لئے کوئی فورم موجود ہی نہیں ہے۔جو فیصلہ آنا ہے وہ اندھی نفرت وعقیدت میں بٹے پاکستان کے ایک گروہ کو شاد کردے گا دوسرے کو بربادیا بہت اداس۔ برباد یا اداس ہوا گروہ اس فیصلے کے بعد کیا کرے گا اس کے بارے میں سوچنا شروع ہوتا ہوں تو دل کانپ جاتا ہے۔بہتر ہے یہ کالم بھی اس مقام پر ختم کردیا جائے۔