مشال ملک سے ایک ملاقات

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
مشال ملک سے ایک ملاقات

کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے ساتھ ناصر اقبال خان نے ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیراہتمام ایک میٹنگ منعقد کی۔ محدود پیمانے پر یہ ایک نشست تھی مگر بہت لوگ آ گئے اور یہ ایک بڑا اجتماع بن گیا۔ کشمیر کے ساتھ پاکستانیوں کی وابستگی بڑی گہری ہے۔
مشعال ملک ایک چھوٹی سی لڑکی لگتی ہیں مگر اس کے بدن میں آزادی کے حوالے سے بجلیاں بھری ہوئی ہیں۔ وہ اردو پنجابی اور انگریزی پر عبور رکھتی ہیں۔
اجلاس میں تقریباً سب مقررین اور سامعین نے یہ مطالبہ کیا کہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی سے مولانا فضل الرحمن کو ہٹایا جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ عملی پیش رفت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بیانات کی حد تک بھی ایک مصلحت آمیزی دکھائی دی ہے۔ نواز شریف کا یہ اقدام ان کی طرف سے بھی عدم دلچسپی کا منظر ہے۔
حضرت مولانا کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مشعال ملک کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے۔ مشعال ملک اس لحاظ سے موزوں ترین شخصیت ہیں۔ نامور کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک تو تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اکثر جیل یاترا پہ ہوتے ہیں۔ مشعال ملک اپنے بہادر شوہر کی نمائندگی بھی کریں گی۔ میں نے مشعال ملک کو دیکھا وہ بڑی گریس فل، باوقار اور پرعزم نظر آ رہی تھیں۔ مجھے علامہ اقبال یاد آئے۔ وہ ہوتے تو مشعال ملک کے لیے ضرور کچھ کہتے۔ انہوں نے طرابلس کے شہیدوں کو پانی پلاتی ہوئی ایک لڑکی کے لیے کہا:
فاطمہ تو آبروئے ملت مرحوم ہے۔
مشعال نے بتایا کہ وہ ایک پروفیسر کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ ریحانہ ملک نے بھی بہت جچے تلے انداز میں تقریر کی۔ یہ ایک عجیب حریت پسندی کی بات ہے کہ مشعال کو اپنی والدہ کے بعد گفتگو کا موقعہ ملا۔ وہ کشمیر کے لیے جدوجہد میں پوری طرح شریک ہیں۔ تقریب سے ناصر اقبال خان ایثار رانا اور احسن ضیا اور راقم نے بھی خطاب کیا۔ افتخار مجاز بھی یہاں موجود تھے۔
ایک بہت معروف صحافی امان اللہ خان بھی یہاں موجود تھے۔ انہوں نے حبیب جالب کا یہ مصرعہ پڑھا۔ یہ مصرعہ بے نظیر بھٹو کے لیے لکھا گیا تھا مگر اب بھی کہیں نہ کہیں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ یہ زندہ جاوید مصرعہ صادق آ جاتا ہے۔
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
مشعال نے کہا کہ قلم میں طاقت ہے۔ یہ کسی بھی اسلحے سے مضبوط ہے۔ قلم کی آزادی تو آزادی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ قلم آزاد ہو گا تو کشمیر بھی آزاد ہو گا۔ پاکستان کے لوگ پوری طرح کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم ہیں۔ لوگ اس تقریب کیلئے ناصر اقبال خان کے شکر گزار تھے کہ ان کی ملاقات کشمیر کے لیے جہاد پر نکلی ہوئی مشعال ملک سے کروائی۔
یاسین ملک سے شادی بھی اس موقع پر ایک جہاد ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی کچھ دیر کے بعد سہی عوامی جدوجہد میں بھرپور انداز میں شریک ہوئیں۔ پورا ملک ان کی آواز پر جاگ اٹھا۔ آج مشعال ملک بھی آزادی کشمیر کے جھنڈا لے کے نکلی ہیں کہ لوگ یاسین ملک کی کمی کو محسوس نہیں کر رہے۔ یاسین ملک سے بڑھ کر مشعال نے کشمیر کی آزادی کے نعرے کو پذیرائی دلوائی ہے۔
جمشید امام بہادر اور حق گو جوان ہے۔ وہ تحریک انصاف کے لیے سرگرم ہے۔ عمران خان کے ساتھ اختلاف کو چھپاتا نہیں ہے۔ تحریک انصاف میں مضبوط ارادے والی ثروت روبینہ بہت ملنسار مگر جرات مند خاتون ہیں۔ تحریک انصاف میں ایسے لوگ غنیمت ہیں۔ ایک بار تو ہو گا کہ عمران خان انتخابات میں نواز شریف کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نواز شریف کو ٹف ٹائم دیں گے۔ اور جب نکلیں گے تو بہت بڑا ہجوم ان کے ساتھ ہو گا۔!