یہ خاک بہار کا گھر ٹھہری!

کالم نگار  |  خالد احمد

سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد سے اپنی درخواست کی ہوا خارج ہوتے ہی جنابِ طاہر القادری اسلام آباد سے ایک راکٹ کی طرح اُڑے اور گوجرانوالہ کی سرزمین پر آن گرے! لوگوں نے یہ ہوائی مخلوق آسمان سے زمین پر آتے دیکھی،تو، یاروں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے! اور جنابِ طاہر القادری نے بھی اُنہیں کسی جلسہ¿ عام کے شرکاءگردان کراُن سے دل کے پھپھولے پھوڑنا شروع کردیئے! ملک پر جاگیرداروں نے قبضہ کر رکھا ہے! میں غریبوں کو اُن کا حق دِلاکر رہوں گا! اُنہوں نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے قائدؒ کے ملک کا اندرونی ڈھانچہ تباہ کرکے رکھ دیا ہے! اور ہم اپنے مفادات کی پاس داری کے لیے جعلی ڈگری والوں کو بھی ووٹ دیتے رہے! میں اپنا معاشرہ بھتہ خور اور قبضہ گروپ سے واگزار کرانے آیا ہوں!
جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے اعلیٰ حضرت جنابِ طاہر القادری بذاتِ خود ایک بہت بڑے مافیا کے سربراہ ہیں! اُن کے مراکز 32ممالک میں دین پھیلا اور دُنیا سمیٹ رہے ہیں! جہاں تک ہمارا علم کام کرتا ہے ابھی تک کوئی دوسرا زندہ مذہبی پیشوا اتنے پیسے نہ کما سکا ! نہ بچا سکا! وہ ہمارے عہد کے سب سے امیر مذہبی سکالر ہیں! اُن کی زبان،تو،ہر وقت قینچی کی طرح چلتی ہے! مگر، صرف اہلِ دیںکی جیبوں پر!
جنابِ طاہرالقادری لاہور ہائی کورٹ کے سند یافتہ دوہر ی شخصیت کے مالک ہیں! اور آج کل دوہری شہریت کے فوائد جمع کرنے کے کام سے لگے ہیں!کتنی عجیب بات ہے کہ وہ پاکستانی جنہیں غیرممالک میں محنت کشی کے سوا کوئی کام ہی نہیں وہ،تو، اپنا کمایا ہوا ایک ایک پیسہ پاکستان میں رہائش پذیر خاندانوں کے نام پاکستان روانہ کر دیتے ہیں! اُن بے چاروں کے پاس محنت کرنے کے دم خم کے سوا کچھ نہیں! اور جنابِ طاہر القادری جیسے دوہری شخصیت اور دوہری شہریت کے حامل حضرات اُن غریبوں کے بھیجے ڈالروں پر بھی ’مَل‘ مار کے بیٹھنا چاہتے ہیں! اور اسے اپنا ارسال کردہ زرِمبادلہ ثابت کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں! حالانکہ جس میزان کے پلڑے میں یہ لوگ بیٹھے ہیںوہاں ایثار نام کی شے کبھی تولے جانے کے لیے نہیں رکھی جاتی! اس میزان کے دوسرے پلڑے میں اَن گنت غریب محنت کش پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے ٹکڑے پڑے ہیں! اور یہ ٹکڑے بہت قیمتی ہیں! کمانوں والوں کے لیے بھی اور ان پر پرورش پانے والوں کے لیے بھی!
یاروں کا کہنا ہے کہ جنابِ طاہر القادری بھی جنابِ آصف علی زرداری کا کھیل رچانے کے لیے باقاعدہ بلائے گئے ہیں! لہٰذا اگر وہ یہ کہہ بھی دیںکہ اُنہوں نے کینیڈا کی شہریت چھوڑ دی ،تو، اُمت مسلمہ کی راہ نمائی کون کرے گا؟ آج کے اخبارات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ قاف کے 2ارکان قومی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 9ارکان پنجاب اسمبلی پاکستان مسلم لیگ نون میں شامل ہو گئے ہیں! اور جنابِ آصف علی زرداری لاہور سے کوچ کرکے کراچی میں جا خیمہ زن ہوئے ہیں!
حالات رُخ بدل رہے ہیں! اور یہ رُخ اِن لوگوں کا اپنا رُخ ہے! کسی کی ڈکٹیشن نہیں!
ڈکٹیشن پر اپنا راستہ متعین کرنے والے لوگ کراچی جیسے حالات پیدا کر دیتے ہیں! پاکستانی وفاقی حکومت کی طرح پانچ سال ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر گزار دیتے ہیں! اللہ تبارک و تعالیٰ وہ دن لائے جب پاکستان پر اُس سیاسی جماعت کی حکمرانی ہو جسے پاکستان اپنی جان سے زیادہ پیارا ہے! کیونکہ محترم و مکرمی جمہوریت نشاں جنابِ مجید نظامی کا فرمانا ہے کہ پاکستان سے محبت پاکستان کا بہترین دفاع ہے !
یہ خاک بہار کا گھر ٹھہری !یہ ربِّ بہار کی رحمتیں ہیں!
یہ ربِّ جلیل کے فیصلے ہیں!یہ ربِّ جمیل کی حکمتیں ہیں!
یہ خاک بہار کا گھر ٹھہری!یہ ربِّ بہار کی رحمتیں ہیں!